کیسے سمجھائیں۔۔۔مرزا مدثر نواز

تعلیم محمدی ﷺ میں جماعت کے افراد پر ان کی قوت کے بقدر جماعت کے دوسرے افراد کی نگرانی فرض ہے‘ اسی اخلاقی فرض کا دوسرا شرعی نام ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ (یعنی اچھی باتوں کے لیے کہنا اور بری باتوں سے روکنا) ہے۔ یہ وہ تعلیم ہے جو تمام دنیا کے مذاہب میں اسلام کی اخلاقی نگرانی کے اصول کو نمایاں کرتی ہے اور قوی دل اور قوی ہمت افراد کا یہ فرض قرار دیتی ہے کہ وہ جماعت اور سوسائٹی کے مزاج اور قوم کی نگہبانی اور اس کے بگاڑ کی دیکھ بھال کرتے رہیں۔ آجکل یہ فرض ناپید ہونے کے قریب ہے کیونکہ کوئی بھی اس کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا اور اگر کوئی ہمت کر کے اپنا یہ حق ادا کرنے کی کوشش بھی کرے تو خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ناصح کی نصیحت اثر نہیں کرتی‘ کوئی کسی کی اچھی بات ماننے کو کیوں تیار نہیں؟قطع نظر باقی عوامل کے اس میں ہمارے اسلوب اور طریقے کا عمل دخل زیادہ ہے‘ ہمارا مزاج اور سمجھانے کا طریقہ کار مثبت کی بجائے منفی آؤٹ پٹ کا باعث بنتا ہے۔آپﷺ کی بعثت ‘ تعلیم اور تزکیہ کے لیے ہوئی‘ یعنی لوگوں کو سکھانا اور بتانا اور نہ صرف سکھانا اور بتانا بلکہ عملاََ بھی ان کو اچھی باتوں کا پابند اور بری باتوں سے روک کر آراستہ و پیراستہ بنانا ہے۔

ایک کامیاب معلم کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ اس میں اپنے اپنے موقع پر سختی اور نرمی دونوں ہوں‘ وہ ایک جراح ہے جس کے ایک ہاتھ میں نشتر ہو جس سے زخم کو چیر کر فاسد مواد کو باہر نکال دے اور دوسرے ہاتھ میں مرہم ہوجس سے زخم میں ٹھنڈک پڑ جائے اور تندرست گوشت اور چمڑے کی پر ورش ہو‘ اگر کسی جراح کے پاس ان دو میں سے صرف ایک ہی چیز ہو تو وہ نہ زخم کو پاک کر سکتا ہے اور نہ فاسد گوشت پو ست کی جگہ تندرست گو شت و پو ست پیدا کر سکتا ہے۔

آپﷺ کی تعلیم اخلاق کے طریقوں پر  غور کرنے سے   ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنی تعلیم میں سختی اور نرمی کے موقع و محل کو خوب پہچانتے تھے اور اس پر عمل فرماتے تھے‘ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپ نے کبھی اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ نہیں لیا مگر یہ کہ کوئی شریعت کی  حدود کو توڑے تواس کو سزا دیتے تھے‘ قریش کی ایک بی بی چوری کے جرم میں پکڑی گئی‘ بعض مسلمانوں نے ان کی سفارش کرنی چاہی تو آپ نے فرمایا تم سے پہلے کی قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان میں معمولی لوگ گناہ کرتے تھے تو ان کو سزا دیتی تھیں اور جب بڑے لوگ کرتے تھے تو ان کے حکام ٹال جاتے تھے۔ یہ تو سختی کی مثالیں ہیں‘ نرمی کی مثال یہ ہے کہ ایک دفعہ مسجد نبوی میں ایک بدو  آیا‘ اتفاق سے اس کو استنجے کی ضرورت معلوم ہوئی تو وہ وہیں مسجد کے صحن میں بیٹھ گیا‘ صحابہؓ یہ دیکھ کر چاروں طرف سے اس کو مارنے کو دوڑے‘ آپ نے روکا اور فرمایا کہ تم سختی کے لیے نہیں بلکہ نرمی کے لیے بھیجے گئے ہو‘ اس کے بعد اس بدو  کو بلا کر فرمایا کہ یہ عبادت کے گھر ہیں‘ یہ نجاست کے لیے موزوں نہیں‘ یہ اللہ کی یاد اور نماز اور قرآن پڑھنے کے لیے ہیں‘ پھر لوگوں سے فرمایا کہ اس پر پانی بہا دو۔

تعلیم کا دوسرا اسلوب یہ ہے کہ فضائل کو عمدہ تشبیہوں کے ساتھ اور رذائل کو قبیح مناظر اور قابل نفرت صورتوں میں اس طرح پیش کیا جائے کہ سننے والا بالطبع فضائل کی طرف مائل اور رذائل سے روگرداں ہو جائے۔ قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے ایک اخلاقی گناہ سر زد ہوااور بعد  میں اس پر یہ اثر ہوا کہ خود آ کر عدالت نبوی میں اپنے گناہ کا اقرار کیا اور شریعت کی حد اپنے اوپر جاری کرنے کی درخواست کی‘ حضور نے تحقیقات کے بعد اس کے سنگسار کئے جا نے کا حکم دیا‘ جب وہ سنگسار ہو چکا تو آپ نے ایک صاحب کو دوسرے سے یہ کہتے سنا کہ اس کو دیکھو کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال دیا تھا لیکن اس نے اپنے آپ کو نہیں چھوڑا اور کتے کی طرح سنگسار کیا گیا۔ حضورﷺ یہ سن کر خاموش رہے‘ تھوڑی دور چلے تھے کہ ایک گدھے کی لاش پڑی ملی‘ آپ نے پکارا کہ فلاں فلاں صاحب کہاں ہیں‘ انہوں نے کہا ہم یہ ہیں یا رسول اللہ! فرمایا اترو اور اس گدھے کی لاش سے کچھ کھاؤ‘ انہوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! اس کو کون کھائے گا‘ فرمایا کہ تم نے ابھی اپنے بھائی کے حق میں جو کہا وہ اس لاش کے کھانے سے زیادہ گھناؤنی بات ہے۔

تعلیم کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اچھے کاموں کے اچھے اور برے کاموں کے برے نتیجہ کو کھول کر بیان کر دیا جائے جس سے اچھے اخلاق کے اختیار اور برے کام کے ترک کا جذبہ ابھرے‘ اسلام نے اس طریقہ کو بھی اختیار کیا ہے مثلاََ شراب نوشی اور قمار بازی سے روکنا تھا تو اس کے برے نتیجوں کو قرآن میں بوضاحت بیان کیا۔ایک اور طریقہ یہ اختیار کیا ہے کہ فضائل اخلاق کو الوہیت‘ ملکوتیت اور نبوت کے محاسن میں اور رذائل کو شیطان کے خصائص میں داخل کیا گیا ہے جس سے فضائل کے اختیار اور رذائل سے اجتناب کرنے کا شوق ہوتا ہے۔

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *