فیمینزم کیا ہے۔۔فرید مینگل/قسط5

عورت پر پدرشاہی جبر کا مختصر جائزہ

عورت جب مرد کی ملکیت اور مرد سے پست و کم تر قرار دی گئی تو اس پر ہر قسم کا جبر جائز قرار پایا۔ عورت پر یہ بھی الزام عائد رہا کہ وہ اپنی حسن اور دلربائی سے مرد کو مرغوب کرکے اسے اپنی حصار میں قید کر لیتی ہے اور اس کے عقل و صلاحیتوں کو مفلوج کرکے اپنی من مانی کرتی ہے۔ اس لیے کچھ مرد تاریخ دان نورجہاں پر بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے شہنشاہ جہانگیر کو اپنی حصار میں لے کر اس سے کئی غلط فیصلے کروائے۔ اور نوجہان ہی کی بدولت مغلیہ سلطنت میں جہانگیر کے غلط فیصلوں سے دراڑ پڑنے شروع ہوئے۔

اسی طرح پروشیا اور فرانس کے درمیان باہمی تعلقات کی خرابی کے دوران جرمنی کے مشہور سیاست دان اور متحدہ جرمنی کے پہلے چانسلر بسمارک نے پروشیائی ملکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ بادشاہ کو فرانس سے جنگ کرنے سے روک رہی ہیں۔ جب کہ اس جنگ میں ان کی قومی عظمت چھپی ہے۔ وہ اپنی یاداشتوں میں رقمطراز ہے:

”وہ تہتر سال کا بوڑھا ہے، امن پسند ہے۔ اس کی کوئی خواہش نہیں کہ 1866 والی عظمت کو ایک نئی جنگ کے ذریعے حاصل کرے۔ اگر وہ نسوانی اثرات سے آزاد ہوتا تو اس کو احساس ہوتا کہ فریڈرک اعظم اور عظیم ہیروز کی اولاد ہے۔“

وہ مزید حقارت بھرے الزام عائد کرتا ہے کہ:
”مجھے بتایا گیا ہے کہ ملکہ آگسٹا نے ایمنز سے برلن جاتے ہوئے رو رو کر جنگ کی مخالفت کی۔ میں اس خبر کو صحیح سمجھتا ہوں سوائے آنسو بہانے والی بات کے۔“

عورت پر پدرشاہی جبر میں مذہب نے مزید اضافہ کر دیا۔ یہودیت اور عیسائیت وغیرہ نے عورت پر کی جانے والی مردانہ جبر کو معاذاللہ حکمِ خداواندی قرار دیا اور اس کی وجہ یہ قرار پایا کہ عورت ازل سے ہی بدبخت، بے عقل اور گناہ گار ہے۔ اس نے آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا۔ حضرت یوسف علیہ السلام پر بھی عورت (زلیخانے الزامات عائد کیے۔ دنیا کا پہلا قتل بھی قابیل نے عورت ہی کی وجہ سے کیا وغیرہ وغیرہ۔

یہودیت کے ازدواجی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو عورت کو محض ایک غلام اور تابعدار کے بطور رکھا گیا تھا۔ حوا علیہ السلام کی وجہ سے آدم علیہ السلام کو جنت سے بے دخل ہونا پڑا اب اس کی بدولت عورت کو مرد کی غلامی، حیض جیسی ناپاکی اور حمل کے شدید درد کی سزا ملی۔ بائبل کے کتاب پیدائش میں ہے:

”میں تیرے درد حمل کو بہت بڑھاؤنگا۔ تو درد کے ساتھ بچے جنے گی اور تیری رغبت شوہر کی طرف ہوگی۔ اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔“

اس آیت سے یہی اخذ کر سکتے ہیں کہ یہودی مذہب کے مطابق عورت کے گناہوں کی وجہ سے مرد کو اس پر برتری دی گئی اور مرد کو عورت جبر کرنے کا حق معاذاللہ خدا کی طرف سے حاصل ہے۔ اور عورت صرف درد سہنے، شوہر کی خدمت کرنے اور محکوم رہنے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ یہودی معاشرے میں عورت محض بستر گرم کرنے اور بچے پیدا کرنے کی ایک مشین تھی۔ مرد جب بھی چاہتا کسی بھی معمولی بہانے پر اسے طلاق دے سکتا تھا۔ جب کہ عورت چاہ کر بھی ایسا نہیں کر سکتی تھی۔ کیونکہ مذہب نے طلاق کا اختیار مرد کو ہی دیا تھا۔ اس ضمن میں عورت پابندیوں کی بدولت کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

یہودی عورت کے متعلق مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتاب ” مسلمان عورت“ میں لکھتے ہیں کہ:

”یہودیوں کو ان کے مذہبی تعلیمات کے ذریعے سے یہ حقوق حاصل ہیں کہ وہ جب چاہیں ایک ادنیٰ سی لغزش پر عورت کو گھر سے نکال باہر کر سکتے ہیں۔“

عورت مرد کی ملکیت تھی۔ یہودی معاشرے میں اگر کسی عورت کا شوہر فوت ہوجاتا تو وہ دوسری شادی صرف اور صرف اپنے مرحوم شوہر کے بھائی کے ساتھ کر سکتی تھی۔ اس معاملے میں عورت کے ساتھ زور زبردستی بھی کی جاتی تھی۔ یہودی معاشرے میں مرد کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ وہ جتنی شادیاں کرے اسے اجازت ہے۔ اور اس کے لیے موجودہ بیوی یا بیویوں سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بائبل میں ہے:

”بیویاں کرو تاکہ تم سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں۔ اور اپنے بیٹوں کے لیے بیویاں لو اور اپنی بیٹیاں شوہر کو دو تاکہ ان سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں اور تم وہاں پھلو پھولو اور کم نہ ہو۔“

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سید امیر علی اپنی کتاب ”روح اسلام“ میں کہتے ہیں کہ:

”نبی موسیٰ علیہ السلام کے وقت سے پہلے بنی اسرائیل کے یہاں تعدد ازدواج کا دستور تھا۔ نبی موسیٰ نے اسے قائم رہنے دیا یہاں تک کہ انھوں نے اس کی کوئی حد مقرر نہ کی کہ ایک یہودی مرد بیک وقت (کتنی) عورتوں کو اپنی نکاح میں رکھ سکتا ہے۔“

یعنی کہ فقط ایک مرد اپنی حوس پورا کرنے اور زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے متعدد عورتوں کو اپنی غلامی میں رکھ کر ان کی زندگی مسلسل جبر کا نشانہ بنا سکتا تھا اور اسے یہ حق مذہب نے دیا تھا۔

ایک اور جگہ عورت کو محکوم رہنے کا حکم بائبل میں اس طرح دیا گیا ہے:
” بیوی کو شوہر کے اس طرح طابع ہونا چاہیے جیسے وہ (شوہر) اس کا آقا (یعنی کہ خدا) ہو۔“

الغرض ان احکامات کا یہ اثر ہوا کہ یہودی معاشرے میں بھی عورت کو برائی، گناہ اور فساد کا جڑ قرار دیا گیا۔ حتیٰ کہ والد کو اختیار تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو فروخت بھی کر دے۔ اگر کبھی کسی سبب سے بچے پیدا نہیں ہوتے تو اس کا ذمہ دار بھی عورت کو ٹھہرایا جاتا تھا۔ عورت سے نفرت کا یہ مقام تھا کہ یہودی مرد ہمیشہ یہی دعا کرتے تھے کہ ” خدا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے عورت نہیں بنایا۔“

عورت سے یہ بغض و نفرت کی سب سے بڑی وجہ یہودی ربیوں کا عورت سے متعلق نفرت انگیز رویہ تھا۔ وہ عورت کے وجود کو ہی گناہ کا سبب سمجھتے تھے۔ عورت سے نفرت کی ان کی یہ حالت تھی کہ وہ عورت کو گناہ کی طرف راغب کرنے والی سمجھ کر اس سے بیزاری اور دوری اختیار کرتے تھے۔ ایک یہودی ربی کا کہنا ہے:
”عورت کو خاموشی سے خدمت گزاری سیکھنا چاہیے۔ اسے نہ تو پڑھانا چاہیے اور نہ ہی آدمی پر حکم چلانا چاہیے۔ اس کی مغفرت اسی میں ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرے۔“

یہودی معاشرے میں ایسے فرقے بھی نمودار ہوئے جن میں مردوں نے عورت سے نفرت کی سبب مذہبی پیشواؤں کی سربراہی میں الگ بستیاں قائم کیں جہاں عورت کا داخلہ ہی ممنوع تھا۔ وہاں صرف اور صرف مرد ہی رہائش پذیر ہوتے تھے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *