‘بہت بڑا فراڈ ہوا ہے، سندھ حکومت تعاون نہیں کررہی’

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاوئنٹس کیس کی سماعت کے دوران  جے آئی ٹی نے دوسری پیش رفت رپورٹ پیش کی، جس پر چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا تحیقیقات مکمل ہوچکی ہیں؟

سربراہ جے آئی ٹی احسان صادق نے چیف جسٹس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، معاملہ جعلی اکاؤئنٹس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ چورمرجائیں گے ایک پیسہ نہیں دیں گے۔ کیا آپ معاملہ کی تہہ تک پہنچ جائیں گے؟

سربراہ جے آئی ٹی نے جواب دیا معاملہ کی حقیقت کا پتہ چلائیں گے، سندھ حکومت ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے۔

احسان صادق نے کہا دومردوں کے بھی بینک اکاونٹس کھولے گئے، اب تک کی تحقیقات کے مطابق بہت بڑا فراڈ ہوا۔ 47  ارب روپے کی ٹرانزیکشنز جعلی اکاونٹس سے سامنے آئیں، 36 بے نامی کمپنیوں سے مزید 54 ارب روپے منتقل ہوئے۔

سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا اومنی گروپ کی متعدد کمپنیاں کیس سے منسلک ہیں۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کیا رقوم اب بھی اکاؤنٹس میں موجود ہیں؟

جواب میں احسان صادق نے بتایا کہ رقوم نکلوا کر اکاؤنٹس بند کردیئے جاتے تھے۔

احسان صادق نے بنچ کو بتایا کہ سیکرٹری توانائی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہے۔

چیف جسٹس نے کہا سنا ہے ملزمان اسپتال منتقل ہو گئے ہیں۔

سربراہ جے آئی ٹی  نے بتایا انورمجید کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے ، انور مجید نے دل کی تکلیف کی شکایت کی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا سندھ کے ڈاکٹرز کی رپورٹس پر اعتبار نہیں۔

عدالت نے سی ایم ایچ کراچی کو ملزم کی رپورٹس کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ با اثرملزم صبح جیل حکام کے کمرے اور رات کو گھر ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے 26 اکتوبرکو آئی جی سندھ کو بھی طلب کرلیا۔ جبکہ اومنی گروپ کے وکیل کی جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کرنے کی استدعا بھی مسترد کردی گئی

چیف جسٹس نے کہا انور مجید کو کراچی سے یہاں لانے کا سوچ رہا ہوں، انورمجید کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیتے ہیں۔24  گھنٹے انہیں ڈاکٹرکی سہولت میسرہوگی، زیادہ مسئلہ ہوا تو آر آئی سی یا پمز لایا جا سکتا ہے۔

عدالت نے سندھ حکومت کو ریکارڈ فراہم کرنے کیلئے 4 ماہ کا وقت دینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے کہا 4 ماہ کا وقت نہیں دے سکتے، کارسرکارمیں مداخلت ہو گی تو کارروائی ہوگی۔

جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کی سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی، آئندہ سماعت کراچی میں ہوگی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *