• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا شفاف آڈٹ کب ہو گا؟۔۔۔۔منصو احمد مانی

پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا شفاف آڈٹ کب ہو گا؟۔۔۔۔منصو احمد مانی

ابراج گروپ کا نام پاکستانیوں کے لیے نیا نہیں،کون جانتا تھا کہ 1960 کراچی میں پیدا ہونے والے عارف مسعود نقوی 1994 میں صرف 50 ہزار ڈالر سرمائے سے جس کمپنی کپولا کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں ایک دن وہ کمپنی ابراج کےنام سے پوری دنیا میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنی ایک ساکھ بنا لے گی اچھی یا بری اس کا فیصلہ بہر حال وقت نے کرنا ہے۔
عارف نقوی نے 2002 دبئی میں ابراج کی بنیاد رکھی جو آگے چل کر ابراج گروپ بنا،ابراج گروپ کے کئی کاروبار ہیں ، ریئل اسٹیٹ، پاور اینڈ اینرجی، سرمایہ کاری ، بین الااقومی اشاعتی ادارے وال اسٹریٹ جرنل نے ابراج گروپ کے فاونڈر اور سی ای او عارف نقوی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ  عارف نقوی نے چیریٹی فنڈ کا پیسہ پاکستان میں ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔یہ وہ 20 ملین ڈالر تھے جو بل گیٹس فاؤنڈیشن نے ہیلتھ کیئر فنڈ کے لیے ابراج گروپ کو دیے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عارف نقوی اس چیریٹی فنڈ کے استعمال سے تحقیق کرنے والے اداروں اور آڈٹ فرمز کو مطمئن نہیں کر سکے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ پیسہ پاکستان میں موجود ابراج گروپ کی کمپنی کے الیکٹرک کو بکوانے کے لیے بطور رشوت دو سیاسی رہنماوں نواز شریف اور شہباز شریف کو دیا گیا جنہوں نے یہ پیسہ شاید  2018 کے الیکشن فنڈ میں استعمال کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ عارف نقوی نے کئی سو ملین ڈالر اپنے بیٹے یا اپنے جاننے والوں کی کمپنیز میں انویسٹ کیے۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ  عارف نقوی چیرٹی فنڈز جو کہ  ہیلتھ اور ایجوکیشن کے حوالے سے اس گروپ کو دیے جاتے ہیں ان کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔

دوسری جانب عارف نقوی ان تمام الزام کو غلط قرار دے چکے ہیں ۔ ابراج گروپ کو اس وقت سخت مالی مشکلات کا سامنا ہے ، ماضی قریب میں دبئی میں عارف نقوی کے کئی کروڑ ڈالر کے چیکس بھی باؤنس ہوئے تھے جن کی وجہ سے انہیں سخت مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابراج گروپ کے سی ای او عارف نقوی نے ایئر عربیہ سے اگست میں استعفا دے دیا، انہیں وہاں بھی فنڈز کے حوالے سے سوالات کا سامنا تھا گلف نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق عارف نقوی کی پریشانی اس وقت شروع ہوئی جب بل گیٹس فاونڈیشن اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن نے ایک بلین ڈالر کے ہیلتھ کئیر فنڈز کے حوالےسے آڈٹ شروع کیا جس کے بارے میں انہیں شبہ تھا کہ اس فنڈ کو غلط استعمال کیا گیا ہے۔

پاکستانیوں کے سامنے ابراج گروپ کا نام 2009 میں سامنے آیا، جب کراچی شہر کو بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی کے ای ایس سی کے انتظامی حقوق ، ابراج گروپ نے حاصل کر لیے، جب کہ کے ای ایس سی کی نجکاری 2005 میں کی گئی تھی۔ کراچی شہر کے لیے کے الیکٹرک کی کارکردگی کیا ہے اور کمپنی کتنے منافع میں ہے اس حوالے سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ،کراچی کے شہری اس کا جواب جانتے ہیں ۔
ابراج گروپ پاکستان میں 2009 سے پہلے بھی سرمایا کاری کر چُکا تھا اور بااثر حلقوں کے لیے عارف مسعود نقوی کا نام نیا نہیں تھا۔
2006 میں ابراج گروپ کے سی ای او عارف نقوی اور بی ایم اے کیپٹل نے کراچی سے سرمایہ کاری کا آغاز کیا،

پاکستان میں ابراج گروپ نے 2007 میں لاہور کی ایک کمپنی منان شاہد میں سرمایہ کاری کی جو کہ  صنعتی پرزے بناتی تھی، اُس کے بعد ابراج گروپ نے 2008 میں ایک بڑی سرمایہ کاری آئل سیکٹر میں کی، موجودہ بائیکو کمپنی میں ابراج گروپ نے کثیر سرمایہ کاری کر رکھی ہے، 2008 میں کی گئی اس سرمایہ کاری کے بعد 2014 میں بائیکو کو کیش فلو میں شدید مشکلات کا سامنا رہا اور نوبت بیل آوٹ تک پہنچ گئی، اس کے علاوعہ جولائی 2018 میں آئل سیکٹر کا 63 بلین روپے کا ایک اسکینڈل بھی سامنے آیا جس میں بائیکو کا نام بھی شامل ہے ۔اس کے بعد 2008 میں ہی عارف نقوی نے کراچی میں امن فاونڈیشن کی بنیاد رکھی ، یہ ایک نان پروفٹ ایبل ادارہ ہے جو کے لوگوں اور اداروں کی امداد پر چلتا ہے امن فاونڈیشن کے تحت ایمبولینس سروس سمیت کئی خدمات فراہم کی جاتی ہیں ڈونرز میں بل گیٹس فاونڈیشن سمیت کئی ادارے شامل ہیں ۔ اس کے بعد ابراج گروپ نے 2016 میں جھمپیر پاور، ونڈ پاور پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کی اس کے ساتھ ساتھ 2017 میں دو مزید کمپنیوں سنی پیکس(سینما) اور اسلام آباد ڈائی گونیسٹک سینٹر میں بھی سرمایہ کاری کی۔

ماضی میں تحریک انصاف کے رہنما عمران خان پر بھی ابراج گروپ کے سی ای او عارف نقوی سےایک ملین ڈالر فنڈنگ لینے کا الزام لگا ۔ کہا گیا کہ طارق شفیع نے جولائی 2013 میں ان کے لیے 56 ملین روپے لیے جب کہ ہاربر کمپنی کے  ذریعے 58 ملین روپے لیے مارچ 2013 میں۔۔ جس کا مقدمہ نیب میں بھی چلا، کچھ بھی ہو اس طرح کے سرمایہ کار جب سرمایہ کاری کرتے ہیں تو کہیں نہ کہیں ان کے پیشِ نظر اپنا مفاد بھی ہوتا ہے ، ابراج گروپ پر عائد الزامات کے حوالے سے پاکستان میں بھی ٹھوس بنیادوں پر بھی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ان تمام اداروں کا شفاف آڈٹ ہونا چاہیے جہاں جہاں اس گروپ کی سرمایہ کاری ہے،
پاکستان کا المیہ ہے کہ سب سے زیادہ لوگ چیریٹی کرتے ہیں اور چیریٹی کے نام پر ہی بیوقوف بن جاتے ہیں ، لوگ چیریٹی کے نام پر نام نہاد ادارے بنا کر عوام سے کروڑوں بٹور لیتے ہیں سرمایہ کار پیسہ لگاتے ہیں ، سیاسی لوگوں اور جماعتوں سے تعلقات بنا تے پارٹی فنڈز کے نام پر کروڑوں دیتے ہیں اور پھر ارب ہا روپے وصولتے ہیں۔ ایسے سرمایہ کار وں کا کڑا احتساب ہونا چاہیے۔ تا کہ  ملک میں حقیقی تبدیلی آ سکے۔

منصور مانی
صحافی، کالم نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *