محرومی۔۔۔عبدالباسط ذوالفقار

گزشتہ روز ایسے شخص کو دیکھا جس کی نظروں کے بارے مشتاق احمد یوسفی رح نے کہا تھا:
“اب تم جن نظروں سے مرغی کو دیکھنے لگے ہو، ویسی نظروں کے لیے تمہاری بیوی برسوں سے ترس رہی ہے۔” لیکن یہاں تو اس شخص نے ایک عفیفہ کو دیکھا تھا۔ گاڑی چلاتے ہوئے پوچھنے لگا: انہیں بٹھا دوں؟ ہاں ہاں بٹھا دو۔ میں نے تپتی دھوپ میں کھڑی ان سوٹڈ بوٹڈ “اشتہاروں” کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ گاڑی ان کے قدموں کے سامنے رک چکی تھی۔

جی کہاں جانا ہے؟ ڈرائیور نے گھاک نظریں جما کر پوچھا۔ ایبٹ آباد۔۔ خاتون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ہاں ٹھیک ہے 60 روپے کرایہ لوں گا۔ نہیں نہیں ہم تو روزانہ 40 دے کر آتے ہیں۔ خاتون نے اپنے بالوں کو دوپٹے میں سائیڈ سے ٹھونستے ہوئے کہا۔ اچھا ٹھیک ہے 50 دے دیجیے گا۔ بیٹھ جائیں۔ ڈرائیور نے خوشی سے سر جھٹک کر کہا۔ اور سامنے لگے آئینے کا نشانہ باندھنے لگا۔

خاتون نے اپنا سر اپنی دوستوں کے سروں کے بالمقابل لے جا کر کھسر پھسر کی اور گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔ اسی اثناء میں  ایک عفیفہ فرنٹ سیٹ کے دروازے  کے پاس آکر بولی:
ایکسکیوز می!!. ارے!آج تو بھکارن بھی  انگریزی  انداز میں بھیک مانگ رہی۔ میں نے یہ سوچتے ہوئے کہا: معاف کر ماسی۔ ساتھ ہی آنکھیں ابل کر نکلیں، گرنے ہی والی تھیں کہ جھپک لیں۔ کھلے بال، کالہ چشمہ، سوٹڈ بوٹڈ، ٹائٹ جینز اسکرٹ پہنے یہ مائی مانگنے والی تو نہیں لگتی۔ ہوش تب آیا جب اس نے فرنٹ کا دروازہ کھولا اور مجھ سے مخاطب ہوئی:
پلیز آپ پیچھے چلے جائیں گے؟ میرا دل تنگ ہوتا ہے پچھلی سیٹ پر۔ اسی وقت گاڑی کے اسپیکرز سے چلتے گانے کے ڈائیلاگ کی آواز آئی تھی۔
“چھوری! تیری آواز میں بہت درد ہے”۔ میں نے ڈرائیور کی طرف دیکھا کہ شاید وہ اسے کہہ دے کہ “پیچھے بیٹھیں” لیکن۔۔۔

ڈرائیور نے اپنا کالر درست کیا اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگا۔ ہاں یار… عورت ذات ہے وغیرہ  ..

مجھے بہت غصہ آیا تھا۔ لیکن…ہونہہ!! اوکے کے ساتھ ہی میں سیٹ خالی کر چکا تھا۔ تھینکس کی  آواز کے ساتھ ہی وہ مائی اچھل کر کمال نخرے سے بیٹھی اور تشکر آمیز لہجے میں پیچھے مڑ کر بولی: تھینکس اگین۔
میں نے مسکرا کر حساب چکایا اور سوچنے لگا ‘پرانی حویلی’ کے پاس ‘چکنی چمبیلی’ کا کیا کام؟ لیکن کیا ہو سکتا تھا۔
میں غصے میں تاؤ کھاتا پچھلی سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ ہاں البتہ میں فرنٹ سیٹ پر پاؤں میں رکھے ایک شاپر کو آگے کی طرف کھینچنا نہیں بھولا تھا۔

اگلی نشست پر بیٹھی عفیفہ کبھی اپنی لٹ لہراتے ہوئے پیچھے کرتی تو کبھی موبائل نکال کر ٹچ ٹچ، کبھی نخرے سے پیچھے مڑ کر اپنی دوستوں کو کچھ کہتیں اور تینوں خطرناک قہقہہ لگا کر واپس ٹچ سکرین میں جذب ہو جاتیں۔ مجھے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اس عفیفہ کا چوہے جیسی دندیاں نکال کر ہنسنا گراں گزر رہا تھا۔

گاڑی تیز رفتار سے چلتے ہوئے جمپ پر سے اچھلی تھی۔بس پھر کیا تھا۔ خاتون کے پاؤں سر پر تھے۔ خوفزدہ سی سمٹی بیٹھی تھی۔ بھائی روکو بھائی روکو کی گردان کے ساتھ گاڑی کی بریک بعد میں لگی خاتون نے فرنٹ کا دروازہ پہلے کھولا، رکتے ہی چھلانگ لگائی اور نیچے روڈ پر۔

میں محو موبائل تھا جب دوبارہ اس خاتون نے مجھے ہلایا اور فرنٹ سیٹ پر جانے کے لیے کہا۔ بیٹھیے ناں۔ میں آرام محسوس کر رہا ہوں یہیں۔ نہیں،وہ… وہ… خوف کا سایہ لہراتا دیکھ کر میں اترا۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے سے پہلے یہ کیا کہ اس شاپر کو کھسکایا اور سائڈ پر کر دیا۔

اب پاؤں میں بندھی پڑی ڈرائیور کی مرغی کو شاپر کے پیچھے کیا جو جھٹکا لگنے سے نیچے کھسک آئی تھی۔ اور خود سیٹ پر براجمان ہو گیا۔ اب ڈرائیور کی شکل دیکھنے والی تھی۔ افرتفری مچ جانے پر وہ خود ڈر سا گیا تھا کہ یہ کیا ہو گیا۔

اسے بعد میں سمجھ آئی کہ میں نے شاپر کھینچ لیا تھا۔

گاڑی کے جھٹکے سے مرغی نیچے کو آئی، رکاوٹ تھی نہیں، سو خاتون کے قدموں میں پہنچ گئی۔ چھپکلی سے ڈرنے والی مائی کُکڑی سے ڈر کر سیٹ خالی کر گئی۔ ڈرائیور کے لائن مارنے کا موقع بھی ضائع ہو چکا تھا۔ یوں سفر کچھ اچھا گزر گیا۔ کمال یہ بھی ہوا کہ اس کے بعد اس حسینہ نے چپ شا کا روزہ رکھ لیا۔

لیکن افسوس! اس کی چہچہاتی آواز سننے سے محروم ہو گیا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *