صیہونی قوتوں کے نرغے میں پستے فلسطینی۔۔۔ وقار اسلم

ڈونلڈ ٹرمپ کو انتہائی متنازعہ سی آئی اے ڈائریکٹر مائیک پومپیو وزیر خارجہ بنانا پڑ’ا ٹرمپ کا خاصہ ہے کہ جس سے اختلاف کرتے ہیں اسے ہی اپنی چھتر چھایہ میں رکھ لیتے ہیں۔امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوڈ فرائڈ مین کو اسرائیل میں امریکہ کا نیاسفیر مقرر کرکے،اپنے اسلام مخالف ایجنڈے کی سمت اپنا پہلا قدم بڑھا دیاتھا۔یہ تقرری کرتے وقت مسٹر ٹرمپ نے مشرق وسطی میں قیام ِِِ  امن کی کوششوں کومزید تیز کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن بدقسمتی سے ان کے منتخب نمائندہ سے یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور امریکی قیادت کے لئے مشکلات مزید بڑھیں گی۔اسرائیل میں امریکی حکومت کے سفیر،فرائڈ مین ایک وکیل اورمسٹر ٹرمپ کے قریبی دوست ہیں۔ان کے پاس سفارت کاری کا کوئی تجربہ نہیں۔یہ مغربی کنارہ کو اسرائیل میں ضم کردیئے جانے کے حامی ہیں۔امور دیوالیہ کے معروف وکیل،فرائڈ مین جنہوں نے اٹلانٹک سٹی کیسینو کے معاملوں میں مسٹر ٹرمپ کی طرف سے عدالت میں نمائندگی کی تھی، یاد رہے اٹلانٹک سٹی میں صدر ٹرنک تاج محل کسینو دو سو ایکڑ پر محیط ہیں جس میں 20ہزار ملازمین سر انجام دے رہے ہیں اٹلانٹک سٹی نیو یارک سٹیٹ سے 3گھنٹے کی ڈرائیو پر واقعہ سمندر کے کنارے 10ہزار آبادی ایک چھوٹا سا ٹاؤن ہیں جہاں پر دنیاکے تمام برانڈز کے فیکٹری آوٹ لیٹ بھی موجود ہیں فرائڈ مین پیشے کے حوالے سے وکیل ہیں سفارت کاری کے بنیادی اصولوں سے بھی ناواقف ہیں اس حساس ترین عہدہ پر اپنی خدمات انجام دینے کے حوالے سے تقریباً تمام امریکی سفارت کاروں کے برخلاف،سفارت کاری کے تجربہ سے عاری ہیں۔اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں تھا،اگر وہ انتہا پسندانہ نظریات کے حامل نہیں ہوتے جو امریکی پالیسی اورزیادہ تر امریکیوں کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔
فرایڈ مین اسرائیل فلسطین مسئلہ کے دور ریاستی حل پر یقین نہیں رکھتے جس کے تحت اسرائیل اور فلسطینی پر امن طریقے سے ایک دوسرے کے پڑوسی بن کر رہ سکتے ہیں۔بین الاقوامی قوانین اور ریپبلکن اور ڈیمو کریٹک دونوں ہی انتظامیہ کی پالیسیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ مغربی کنارہ کے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل نو آبادیوں کی مسلسل حمایت کرتے رہے ہیں۔ان علاقوں پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ کے دوران،اردن سے چھین کرقبضہ کیا تھا۔صرف یہی نہیں، فرایڈ مین ان فلسطینی زمینوں پر اسرائیل کے قبضہ کی حمایت کرتے ہیں جس پر فلسطینی عوام اپنی علیحدہ ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔فرائڈ مین کے انتہا پسندانہ رویے  کا پتہ اس بات سے بھی لگتا ہے کہ وہ تل ابیب کے بجائے امریکی سفارت خانہ،یروشلم (بیت المقدس)میں قائم کرنے کا اعلان کرچکے تھے۔ جسے عملی جامہ پہنانے میں کامیاب رہے حالانکہ گزشتہ 68سال سے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ امریکی سفارت خانہ بھی تل ابیب میں ہی واقع رہا تھا۔اسرائیل اورفلسطین دونوں ہی کا پروشلم پر دعویٰ ہے۔دونوں ہی اس تاریخی جگہ کو اپنا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔جہاں مسلمانوں عیسائیوں اوریہودیوں کے مقدس مقامات ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی امریکی سفارت خانہ کو پروشلم منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ایسی بات نہیں کہ اس طرح کا وعدہ صرف ٹرمپ ہی نے کیا تھا بلکہ اپنے اپنے پہلے دو اقتدار کے لئے انتخابی مہم کے دوران،بل کلنٹن اور جارج ڈبلیوبش نے بھی امریکی سفارت خانہ کو یروشلم منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھالیکن صدر منتخب ہوتے ہی ان دونوں رہنماؤں نے اپنے اس خیال کو ترک کردیا تھا کیونکہ انہیں احساس ہوگیاتھا کہ اس طرح کے سنسی خیز علامتی روپے سے عربوں کے غصے میں مزید اضافہ ہوگا اورخطے میں امن کی کوششوں کو سخت دھچکا لگے گا لیکن ٹرمپ نے ایسا کر کے دکھایا۔
حسب توقع عرب رہنماؤں نے امریکہ کے صدر کے اس فیصلے اوربنائے گئے امریکی سفیر پر شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔فلسطین کے سابق چیف مذاکرات کا ر اور نمایاں ذمہ دارالصائب عریقات نے صاف لفظوں میں   خبردارکیا تھا کہ اگر مسٹرٹرمپ نے امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے وعدے پرعمل کیاتو خطے میں امن اپنی موت مرجائے گا اور یہ اقدام اسرائیل کے ساتھ امن کے کسی بھی امکان کو برباد کردے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بیت المقدس ایسا مسئلہ ہے جس کاتعلق حتمی صورت حال سے ہے اوراس پر اسرائیل اورفلسطینوں کے درمیان مذاکرات ہوں گے کیونکہ فلسطینی بھی اسے مستقبل میں اپنی خود مختار ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب الشیخ عکرمہ صبری نے بھی ڈیوڈ فرائڈ مین کے تقرر اور امریکی سفارت کار کی یروشلم منتقلی کے اعلان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے کھلا اعلان جنگ قراردیا تھا۔الشیخ عکرمہ صبرنے با ضابطہ یہ اعلان کیا کہ یہ فلسطینوں،عرب ممالک اور عالم اسلا م کیخلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ  دیرینہ اور حساس ترین مسئلہ کئی دہائیوں سے جاری امریکی پالیسی ختم ہوجائے گی۔عالم اسلام میں غم و غصے کے جذبات بھڑک جائیں گے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کا شدید رد عمل آیا۔اس اقدام کی بھر پور مذمت سامنے آئی پر بات مذمت تک محدود رہی۔ مقبوضہ اراضی پر قائم بستیوں کو اسرئیل میں شامل کرنا ظلم اور ناہنجاری کے سِوا کچھ نہیں۔
یہ اعلان اسرائیل فلسطین مسئلہ کے حوالے سے دیرینہ امریکی پالیسی میں تبدیلی کا منہ بولتا ثبوت تھا جس کی دلیل عملی انداز میں اسے لاگو کرنے سے ملی۔فرائڈ مین نے بھی کہا ہے کہ ”میں اس ذمہ داری کو مرحلہ  وار سرانجام دوں گا۔

یاد رہے کہ امریکن الیکشن سے اسرائیل کا گہرا تعلق ہے اس وجہ سے جارج ڈبلیو بش اور بارک اوبامہ نے بھی اسرائیل کے معاملے کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا، جارج ڈبلیو بش تو اسرائیلی یہودیوں کو چکر دینے میں کامیاب ہو گئے تھے تاہم اوبامہ سے اسرائیلی حکومت کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے یہاں تک کہ وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی وزیر اعظم کو باضابطہ درخواست کی کے صدر اوبامہ اسرائیلی دورہ پر آنا چاہتے ہیں جس کے جواب میں اسرائیلی پرائم منسٹر سیکرٹری ایٹ نے جواب بھجوایا کہ اگلے ایک سال تک وزیر اعظم کا شیڈول سخت ہے ایک سال کے بعد آپ کی درخواست پر غور کیا جائے  گا کہ صدراوبامہ کو اسرائیل میں سرکاری دورے کی اجازت دی جائے  کہ نہیں جو بھی فیصلہ ہوگا وائٹ ہاؤس کو اس کا  آگاہ کیا جائیگا۔یہ اعلان عالمی معاہدوں بین الاقوامی قوانین اورفلسطینوں کے مسلمہ حقوق کی سنگین پامالی ہے۔پوری دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ بیت المقدس پراسرائیل کو کوئی حق نہیں اورغیر قانونی ہے۔ اس بات میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی کہ امریکی،فلسطینوں کے بنیادی اور موروثی حقوق کی سودے بازی کی سازش کا مرتکب ہورہاہے۔درحقیقت امریکی سفارت خانہ کی یروشلم منتقلی بیت المقدس کو یہودیوں کی را جدھانی تسلیم کرنے کے مترادف تھا، دسمبر 2017 ء میں امریکی صدر نے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرلیا جسے اقوام متحدہ کی قرارداد نے کالعدم قرار دیا اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں نے اسے اس مقدس شہر پر فلسطین کاحق ساقط کرنے کی سازش قرار دیا۔یہ بات ملحوظ نظر رہے کہ فلسطینی ریاست کے حوالے سے امریکی حمایت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات 2014ء میں ناکام ہوگئے تھے اس کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ آہستگی سے  شروع  ہوا لیکن دوغلے بیانات کی بجائے اس کا حاصل کچھ نہ  تھا۔۔ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی تو اس پر ان کا قومی سلامتی کا مشیر جان بولٹن یو ٹرن لے گیا۔نکی ہیلی جو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر رہی اسے بھی شدید تنقید کے سامنے کے بعد مستعفی ہونا پڑا کیونکہ وہ اسرائیل کی  بے جا حمایت کرتی نظر آرہی تھی۔ ٹرمپ نے ظاہر کردیا ہے کہ مشرقی وسطی کی  دھماکہ خیزاطلاعات کے حوالے سے وہ انتہائی غیر سنجیدہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *