جانئے الزہایمر کے بارے میں۔۔۔۔سلطان محمود/ہیلتھ بلاگ

اگر میں آپ کو رونالڈ ریگن کی تصویر دکھا کر یا آپکے سامنے اس کا نام لے کر پوچھوں کہ یہ شخص کون ہے، تو یقیناً آپ اسے فوراً پہچان لیں گے۔ لیکن صدر ریگن اگر آج زندہ ہوتے اور یہی سوال ان سے کیا جاتا تو وہ شاید کوئی جواب نہ دے پاتے۔
جی ہاں! روئے زمین پر ایک وقت میں غالباً دنیا کے سب سے طاقتور شخص کو اپنی آخری عمر میں الزائیمر کی وجہ سے یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ کبھی امریکہ کا صدر رہ چکا ہے۔
الزہایمر یا الزائیمر بھولنے کی بیماری ہے، لیکن اس کو اسی قبیل کی دوسری بیماریوں سے الگ سمجھنے کے لیے پہلے بھولنے کی بیماری یا نسیان کو سمجھنا ضروری ہے۔

بھولنے کی بیماری یا نسیان کی ایک سے زیادہ وجوہات اور اقسام ہیں۔ یہ بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ علامات کا مجموعہ ہے جسکی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے۔ ان وجوہات کو ایک ایک کرکے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بھولنے کی بیماری کی دو بڑی وجوہات یا اقسام ہیں۔ تقریباً ستر فیصد کیسز میں اس کی وجہ الزائیمر ہوتی ہے جبکہ تیس فیصد کیسز میں اسکی وجہ دماغ کو خون اور آکسیجن وغیرہ کی سپلائی متاثر ہونا ہے۔ اس دوسری قسم کو واسکولر ڈیمنشیا بھی کہا جاتا ہے۔
واسکولر ڈیمنشیا کی ایک وجہ شوگر ہو سکتی ہے جس میں خون کی باریک رگوں میں گردش متاثر ہونے کی وجہ سے دماغ کو آکسیجن اور غذائی اجزاء ضرورت کے مطابق نہیں پہنچتیں۔ اس سے اگر دماغ کا ایک بڑا حصہ متاثر ہو تو مریض فالج کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور اگر دماغ کے مخصوص حصے میں جو یادداشت ذخیرہ کرتا ہے، جا بجا تھوڑے تھوڑے نیوران موت کا شکار ہوں، تو اس سے یادداشت کی خرابی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں کیونکہ اس صورت میں دماغ ان حصوں میں محفوظ معلومات سے کوئی جامع تصویر بنانے میں ناکام رہتا ہے اور مریض کو پرانے واقعات اور نام وغیرہ یاد آنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ شوگر کو کنٹرول میں رکھ کر اور مناسب دوائیں لے کر اس کیفیت سے بچا جا سکتا ہے۔

واسکولر ڈیمنشیا کی دوسری بڑی وجہ عمر رسیدگی ہے۔ یعنی زیادہ عمر کی وجہ سے جیسے جیسے جسم کے دوسرے اعضاء ناکارہ ہونے لگتے ہیں، ایسے ہی نیوران بھی آہستہ آہستہ کام چھوڑنے لگتے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ جب کوئی بھی نیوران اپنا کام چھوڑ دیتا ہے یا اپنے طبعی موت کا شکار ہوجاتا ہے تو اس کی جگہ نئے نیورانز نہیں بنتے کیونکہ نیورانز میں سیلز کی تقسیم نہیں ہوتی۔ البتہ ایسی صورت میں باقی ماندہ نیورانز اپنی کارکردگی اور کنکشنز بڑھا کر اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

غالب نے غالباً اسی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا:
یاد تھیں ہم کو بھی رنگارنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں۔

بھولنے کی بیماری جوانی کی عمر میں ہو اور اس کی وجہ بننے والی کوئی دوسری بیماری بھی نہ ہو، تو عین ممکن ہے کہ آپ محض کام کی زیادتی یا کسی اور وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس “کسی اور” وجہ پر بھی بعض شاعروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے مثلاً ادا جعفری:
تم پاس نہیں ہو تو عجب حال ہے دل کا
یوں جیسے میں کچھ رکھ کے کہیں بھول گئی ہوں
یا پھر خاور احمد:

ساجن کی یادیں بھی خاورؔ کن لمحوں آ جاتی ہیں
گوری آٹا گوندھ رہی تھی نمک ملانا بھول گئی۔

یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے رات کو سونے کے لئے بینزو ڈائیا زیپین پر مشتمل کوئی گولی کھائی تھی اور صبح جب اٹھے تو دفتر جانے سے پہلے شیو کرنا بھول گئے۔ یہ دراصل اس دوائی کا ایک عارضی سائیڈ ایفیکٹ ہے۔ اسے ایمنیزیا کہتے ہیں۔ یہ نسیان یا ڈیمنشیا سے الگ کیفیت ہے اور دوائی چھوڑنے یا تبدیل کرنے پر خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔

بعض اوقات ہم چیزیں اس لیے بھی بھول جاتے ہیں کہ ہماری نظر میں وہ اتنی اہم نہیں ہوتیں۔ مثلاً ایک بچہ اپنا ہوم ورک کرنا شاید بھول جائے، لیکن اپنی پسند کا سیریل دیکھنا یا کمپیوٹر گیم کھیلنا کبھی نہیں بھولتا۔ یہ کیفیت بڑوں کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً بیگم نے آپ کو پیاز، پودینہ، اور آلو لینے بازار بھیجا مگر آپ اس کی جگہ بھول کر پیاز، آلو، اور دھنیا لے آئے۔ یا بازار میں کوئی دوست مل گیا اور اس سے باتیں کرتے کرتے بھول گئے کہ لانا کیا تھا۔ یہ کوئی بیماری نہیں، یہاں مسلہ صرف ترجیحات کا ہے:
جو دل مانگا تو وہ بولے کہ ٹھہرو یاد کرنے دو
ذرا سی چیز تھی ہم نے خدا جانے کہاں رکھ دی۔

اب آتے ہیں اس بیماری کی سب سے خطرناک وجہ یا قسم کی طرف، جسے الزائیمر کہا جاتا ہے۔
الزائیمر میں بھی یادداشت خراب ہوتی ہے لیکن یہ واسکولر ڈیمنشیا سے اس طرح مختلف ہے کہ اس میں شوگر یا کوئی دوسری بیماری نہیں ہوتی، ضروری نہیں کہ مریض عمر رسیدہ ہی ہو، اور اس میں یادداشت ڈیمنشیا کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے خراب ہوتی ہے۔ ایک اور مشکل یہ پیش آتی ہے کہ شروع شروع میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ مریض میں جب علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں تو اس وقت پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ علامات عموماً چار سے پانچ سال بعد ظاہر ہوتی ہیں اور مریض مزید پانچ سے دس سال کے درمیان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

الزائیمر کتنی خطرناک ہے، یا یہ کس طرح مختلف ہے اس کو سمجھنے کے لیے یہ مثال ذہن میں رکھیں کہ چابی رکھ کر بھول جانا الزائیمر نہیں ہے، چابی اور تالا دونوں ہاتھ میں ہوں اور یہ بھول جائے کہ تالا کھولنا کیسے ہے، یہ الزائیمر ہے۔ الذہائمر کے مریض اکثر نوالہ منہ میں رکھتے ہیں، چبانا بھول جاتے ہیں۔ اس میں یادداشت الٹی ترتیب سے خراب ہونا شروع ہوتی ہے یعنی جو چیزیں عمر کے آخری حصے میں انسان سیکھتا ہے، وہ سب سے پہلے بھولنے لگتی ہیں۔ مثلاً ایسا مریض پہلے اپنے پوتے پوتیوں کے نام، پھر بہن بھائیوں اور بیوی کا نام اور آخر میں اپنا نام بھی بھول جاتا ہے۔ مریض اپنے گھر کے درودیوار بھی ٹھیک سے نہیں پہچانتا اور قریبی رشتہ داروں سے اجنبیوں کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔ الزائیمر کی ٹھیک ٹھیک ترجمانی اس شعر میں کی گئی ہے:

اپنے ہی شہر میں پھرتے ہیں مسافر بن کر
نہ وہ گلیاں ہی رہیں یاد نہ گھر یاد رہے

الزہایمر میں مریض کی مشکلات کو تین کیٹیگریز میں رکھ کر دیکھا جاتا ہے:
روزمرہ کی معمولات: مثلاً رقم گننا، بس میں اکیلے سفر کرنا، بازار سے سودا سلف لانا، اور ذاتی صحت و صفائی کا خیال رکھنا، وغیرہ
رویہ: بھول جانے کی وجہ سے ہر وقت غصے کا شکار ہونا، مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہوجانا، مہمانوں کے سامنے نا مناسب رویوں کا اظہار کرنا وغیرہ
سیکھی ہوئی چیزوں کا بھول جانا۔ مثلاً نام اور رشتے بھول جانا، چابی ہاتھ میں ہونا مگر یہ بھول جانا کہ اس سے تالا کھلتا کیسے ہے۔
ایک عجیب بات یہ ہے کہ الزہایمر کے مریض کو حال کی باتیں تو یاد نہیں رہتیں، مگر کبھی کبھی پرانی یادیں اس طرح تازہ ہو جاتیں ہیں جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔ ایسے مریض اکثر اپنے بچپن یا نوجوانی کے زمانے کے دوستوں کو یاد کرتے رہتے ہیں۔

الزہایمر کی وجوہات پر تحقیق ابھی جاری ہے۔ فی الحال چند نظریات ایسے ہیں جن کی مدد سے اس کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مثلاً:
ہمارے دماغ کے خلیات میں ایک خاص قسم کا ٹاؤ نامی پروٹین ہوتا ہے جو اس کی شکل اور ساخت کو قائم رکھتا ہے۔ الزہایمر کے مریضوں میں اس پروٹین کی شکل بگڑ جاتی ہے جس سے متاثرہ نیورونز ایک ایک کرکے مرنے لگتے ہیں۔
دوسرے نظریے کے مطابق وائرس سے بھی چھوٹے سائز کے پروٹین کے ٹکڑے، جنہیں پریونز کہا جاتا ہے، اس بیماری کا باعث ہیں۔
الزہایمر کے مریضوں میں ایک خاص نیورو ٹرانسمیٹر ایسیٹائل کولین کی کمی بھی دیکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ سارے نظریات محض “نظریات” نہیں ہیں، بلکہ میڈیکل سائنس کی اب تک کی تحقیق کا خلاصہ ہیں۔

علاج کیا ہے؟

اب تک کی تحقیق کے مطابق سب سے موثر علاج وہ دوائیاں ہیں جو اعصابی نظام میں ایسيٹایل کولین کی تھوڑ پھوڑ کا باعث بننے والے انزائمز کو روکتی ہیں۔ یہ نیورو ٹرانسمیٹر ایسيٹایل کولیندماغ کے اس حصے میں، جو یادداشت کو ذخیرہ کرتا ہے، نيورونز کے باہمی کمیونیکیشن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گویا ایسيٹایل کولین کے لیولز بڑھانے سے الزہایمر کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے مگر علاج سے پہلے جو نقصان ہو چکا ہے، اس کو ریورس کرنا ممکن نہیں۔
الزہایمر کے مریض کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کسی نیورو سائیکیا ٹرسٹ کی تجویز کردہ دوائی مسلسل جاری رکھیں، مریض سے احترام سے پیش آئیں اور اسے روزمرہ کے معمولات سرانجام دینے میں مدد کریں۔ ان مریضوں کے آس پاس کا ماحول مثلاً پردوں کا رنگ، فرنیچر کی ترتیب، رہنے کا کمرہ وغیرہ تبدیل نہ کریں۔
تصویر میں دیکھیے، بائیں طرف ایک عام صحت مند انسان اور دائیں طرف الزہایمر کے مریض کے دماغ کا عکس۔ دائیں طرف والے عکس میں دماغ کا سکڑاؤ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

Avatar
سلطان محمود
ایک مزدور مگر مزے میں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *