شہر جاناں میں اب باصفا۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

SHOPPING
SHOPPING

ایک اور قتل۔۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف قتل۔
کراچی یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھاتے پڑھاتے دنیا کو سبق پڑھا گئے کہ مومن حق پرست ہوتے ہیں ،چاہے جتنی قیمت بھی ادا کرنی پڑے۔
ہمارے نوجوان جو مستقبل سے ناامید ہیں، جو تبدیلی کے حوالے سے یاسیت زدہ ہیں اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمیشہ سے ہو رہا ہے، اُن کے لیے ڈاکٹر صاحب کی جواں حوصلگی ایک استعارہ ہے.ڈاکٹر کو یقین تھا کہ تبدیلی آئے گی.
تبدیلی تو آئے گی، یقینی آئے گی، واقعی آئے گی، بہت جلد آئے گی، ببانگ دہل آئے گی، سب کے سامنے آئے گی، مضبوط آئے گی، ہر جگہ آئے گی.

قاتلوں کو بھی خبر ہو،
میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف ہوں،
مجھے بھی قتل کرو،
میرے بھی سینے کو گولیوں سے چھلنی کرو،
میرے بھی سر میں گولیاں اتارو،
میرے جسم کو بھی ٹارچر سے داغ داغ کرو،
قاتلو! مجھے  تم سے ذرہ  برابر بھی خوف نہیں،
قاتلو! مجھے تمھاری طرف سے دی گئی اذیتیں خوف زدہ نہیں کر سکتیں،
قاتلو!  میں جگہ جگہ، لمحہ لمحہ، قریہ بہ قریہ، جو بہ جو ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی پیروی کروں گا، استحصال کو استحصال، ظلم کو ظلم، جبر کو جبر اور گند کو گند ہی کہوں گا۔۔ مجھے مار دو مگر میں ایسا ہی کروں گا، میرے بچوں کو، میرے اہلِ خانہ کو، میرے اقارب کو اٹھا لو، مار ڈالو، غائب کر دو، جو حق ہے اسے باطل، جو باطل ہے اسے حق نہیں کہہ سکتا.

اور ہاں،
ایک بات ذہن نشین کر لو،
دھیان سے سوچ سمجھ کر لکھ لو،
جان لو کہ میں اکیلا نہیں ہوں،
جان لو کہ یہ سماج اپنے جوان لاشے، اپنی بچیوں کی ادھڑی لاشیں اور اب اپنی سن گزیدہ لاشیں اٹھا چکی ہے، مزید کیا رہ گیا ہے دیکھنے کو؟ اِس سے زیادہ کیا اندھیرنگری؟ اِس سے زیادہ کیا اذیت کشی؟ اِس سے زیادہ کیا اندوہناکی؟ اِس سے زیادہ کیا بربریت؟ میں، میرے جیسے سیکڑوں دوسرے، ہم جیسے لاکھوں دوسرے، قتل ہونے کو تیار ہیں۔۔ ہم خوف زدہ نہیں، ہم پُرامید اور جنونی لوگ۔۔ قاتلو ڈرو اُس لمحے سے جب یہ باغی گروہ مجبور ہو کر بجنگ آمد نہ ہو جائے. ہم تو قتل ہونے کو آئے ہیں، ہم بازار میں پا بہ جولاں چلیں گے، اب ہمیں تہمتِ عشقِ پوشیدہ کافی نہیں، اب ہمیں چشمِ نم جانِ شوریدہ کافی نہیں۔

شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے
دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے!

ایک مقتول جس کا قاتل نامعلوم ہے، اُس کا قاتل ڈھونڈنا کس کا فرض ہے؟ ایک فرد کی زندگی کی حفاظت اولین ترجیح ہے جبکہ فرد کے قاتل کی تلاش بعید ہے. ریاست ہم سے ٹیکس لے رہی ہے. جگہ جگہ لے رہی ہے.،بار بار لے رہی ہے، شاید ہی ایسا معاملہ ہو جہاں ہم ٹیکس سے بچ رہے ہوں. آخر یہ ریاست ہم سے ٹیکس کس بات کا لے رہی ہے؟ نہ تو یہ ریاست اپنی بچیوں کی حفاظت کر سکتی ہے اور نہ ہی اپنے بزرگوں کی؟ جہاں زینب ادھیڑ دی جائے، جہاں امجد صابری چھلنی کر دیا جائے، جہاں ڈاکٹر حسن ظفر عارف مار دیا جائے وہاں کی ریاست پہ سوال اٹھانے چاہییں، جہاں ہزاروں لوگ لاپتہ ہوں، وہاں کے ادارے اُن کو ڈھونڈ نہ سکیں، اُن کو زندہ مردہ تلاش نہ کیا جا سکے، اُس ریاست سے عوام کو سوال کرنا چاہیے  اور ہاں اب عوام سوال کرنا شروع ہو چکی ہے۔

قاتلوں کی بات چھوڑو، قاتلوں کو ہم ڈھونڈ لیں گے، ہم بات ہی ریاست سے کر رہے ہیں،ہم سوال ہی ریاست سے کر رہے ہیں. ریاست اور ریاستی ادارے کس لیے ہیں؟ یہ کیا بھاؤ ہیں؟ اِن کے چلن کیا ہیں؟ اِن کو اربوں روپے کے ٹیکس کے عوض بجٹ جاری کیا جاتا ہے، اُن کی کارکردگی کیا ہے؟ فوجی، نیم فوجی اور پولیس کس معاملے میں اتنے مصروف ہیں کہ اُن کو روز گرتی ہوئی لاشیں نظر نہیں آ رہی ہیں؟ اِن اداروں کی ذمہ داری کیا ہے؟ عوام کی جان، مال اور عزت کی حفاظت!!! کیا پاکستان میں عوام کی جان، مال اور عزت محفوظ ہیں؟ اگر ہاں تو پھر یہ زینب، یہ شاہزیب، یہ مشعال، یہ طیبہ، یہ امجد صابری، یہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے قاتل سامنے کیوں نہیں لائے جا رہے؟؟

SHOPPING

سننے میں آ رہا ہے کہ ریاست اور ریاستی ادارے جان بوجھ کر ایسے معاملات اور ایسے قاتلوں کو منظرِ عام پر نہیں لا رہی۔۔نہیں نہیں یہ جھوٹ ہے.
ہماری ریاست ایک مخلص، وفادار اور مضبوط ریاست ہے.
ہماری ریاست پہ شک ہمارے اوپر گناہ کے برابر ہے.
میں تو کم از کم یہ جھوٹ نہیں قبول کر سکتا کہ ہماری ریاست ایسے مقتولین کے قاتلوں سے شناسا ہے. ہماری ریاست اپنی عوام کے ساتھ ایسا ظلم کبھی بھی۔۔ کبھی بھی نہیں کر سکتی، ہماری ریاست اپنی عوام سے مخلص ہے، اِس پہ کوئی دو رائے نہیں، اِس پہ کوئی سوال نہیں۔۔
لیکن۔۔۔
لیکن یہ سوال واقعی اہم ہے کہ ریاست اور ریاستی ادارے اپنی عوام کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوتے جا رہے ہیں؟

SHOPPING

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *