بابا جان کے نام خط

میرے پیارے بابا جان!
محمد علی جناح میں نے آپ کو ٹوٹ کر چاہا ہے۔
میرے جسم میں خون کا ہر قطرہ اور ایک ایک بال آپ کی محنت کا مقروض ہے۔ دنیا آپ کو بابائے قوم ، قائداعظم ، محمد علی اور جناح کہتی ہے اور میرے دل میں آپ کی محبت "میرے پیارے بابا جان" کے نام سے زندہ ہے۔ مجھے آپ سے محبت ہے اور بےحد ہے۔ میری محبت کی انتہا تھوڑی سی بھی کم ہوتی تو میرے لیے باعث شرمندگی ہوتی۔ میری زندگی کا وہ کون سا دن ہے جب آپ کو یاد نہیں کیا۔ جب آپ کے لیے ہمیشہ کا پیار نہیں مانگا۔ جب آپ کی ابدی خوشی کے لیے الله سے دعاگو نہیں ہوا۔ میری یہی ایک خلش ہے کہ آپ کو دیکھ نہیں پایا۔ آپ سے ملتا تو اظہار محبت کا وہ انمول ادبی شہ پارہ وجود میں لاتا جو ایک بابا سے اس کے بیٹے کی محبت کو رہتی دنیا تک یاد رکھتا۔

میرے پیارے بابا جان۔
آپ کی محبت کی لو ہر گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ میری زندگی کا ہر پہلو آپ سے پیار کا متقاضی ہے۔ دنیا میں کہیں بھی جاؤں تو "پاکستانی"کے نام سے جانا جاتا ہوں اور یہ پہچان مجھے آپ نے دی ہے۔ آپ نہ ہوتے تو میں آج بھی ہندستان میں اقلیت ہوتا۔ تیسرے درجے کا شہری ہوتا۔ ڈر اور خوف کے سائے میں جی رہا ہوتا۔ میرا ہر سجدہ ایک غلام فرد کے طور پر ادا ہوتا، لیکن" میں آزاد ہوں اور آپ کی وجہ سے ہوں"۔

میرے پیارے بابا جان۔
دنیا میں چند ہی فرد ایسے ہوتے ہیں جنھیں ایک اعلی مقصد کی تکمیل کے لیے دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ اور آپ ان میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے پیدا کیے جانے کا فرض ادا کیا ہے۔ مجھے امید ہی نہیں پورا یقین ہے کہ الله کے ہاں آپ اعلی مقام پر ہیں۔ آپ خوش و خرم ہیں کہ مقصد کی کامیابی کے بعد اُخروی زندگی انعامات سے بھرپور ہوتی ہے۔ آپ نے خود کہا تھا۔"میں نے اپنی پوری زندگی بسر کرلی ہے، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ میں نے اپنے ملک کی آزادی کےلیے لڑنے اور اگر ضروری ہوا تو مرنے کے علاوہ کچھ اور سوچا ہو"۔

میرے پیارے بابا جان۔
میں آپ سے کیوں نہ محبت کروں کہ آپ نے کہا تھا۔" میری زندگی کی واحد تمنا یہی ہے کہ مسلمانوں کو آزاد و سربلند دیکھوں۔ میرا دل چاہتا ہے جب مروں تو یہ یقین و اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا یہ گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت و غداری نہیں کی۔ اور مسلمانوں کی آزادی تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ آپ سے اس کی داد اور صلہ کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل میرا اپنا ایمان میرا اپنا ضمیر اس بات کی گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدافعت اسلام کا حق ادا کردیا ہے۔ جناح تم مسلمانوں کی تنظیم اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے بےشک تم مسلمان پیدا ہوئے۔ اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کے علم کو بلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے"۔

میرے پیارے بابا جان"قائداعظم محمد علی جناح" میں نے آپ کو چاہا ہے اور بےحد چاہا ہے۔
جیسے ماہتاب کو بےانت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
جیسے خوشبو کو ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے
جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں
میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا
وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے
خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا
نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے
تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے
توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے
میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا
میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے
میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار
تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے!!!

Avatar
محمد عبدہ
مضمون نگار "محمد عبدہ" کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور حالیہ کوریا میں مقیم اور سیاحت کے شعبے سے تعلق ہے۔ پاکستان کے تاریخی و پہاڑی مقامات اور تاریخ پاکستان پر تحقیقی مضامین لکھتے ہیں۔ "سفرنامہ فلپائن" "کوریا کا کلچر و تاریخ" اور پاکستانی پہاڑوں کی تاریخ کوہ پیمائی" جیسے منفرد موضوعات پر تین کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *