میں کون ہوں اے ہم نفسو۔سرگزشت احمد اقبال ( قسط 9)

میں سمجھتا ہوں زندگی کو سمجھنے کا سلیقہ اور شعور اسی دور کی عطا ہے جب میں ایڈورڈز کالج میں تھا۔ مجھے وہاں احساس ہوا کہ میں جو دیکھتا یا سنتا ہوں اس کا مطلب بھی سمجھ سکتا ہوں۔ وہ بھی جو افشا ء نہیں۔ میرا مشاہدہ سطحی نہیں رہا۔ اس کی بنیادی وجہ تو سن بلوغت کا انداز نظر تھا لیکن ایک  ذہنی آزادی  سے ملنے والی قوت بھی تھی۔ میں اپنی دلچسپی کے علوم معاشیات اور نفسیات پڑھ رہا تھا جوعلم میں اضافہ کرتے تھے ریاضی اور فزکس کے فارمولے نہیں جو میرے سر سے گزر جاتے تھے ۔ دو سال میں مجھے بزم ادب کا سیکرٹری اور پھر  صدر منتخب کرلیا گیا اور میں نے کالج کے اسٹیج سے  کئی  کامیاب پروگرام  کیے ۔میں ڈبیٹنگ سوسائٹی  کے لیڈر کی حیثیت سے مردان، نوشہرہ اور ایبٹ آباد گیا اور کالج کےلیے   ٹرافی  جیت کر لایا، لیکن ادب کے تخلیقی سفر کو واضح سمت ریڈیوپاکستان پشاور سے ملی، جہاں طلبا کی بزم ادب کےپروگرام میں ایک فکاہیہ”اتوار سے پہلے اتوار کے بعد” پڑھا، تو سب سے پہلے احمد فراز نے اس کی تعریف کی۔ وہ وہاں پروڈیوسر تھے اور ان کا مجموعہ ” تنہا تنہا” شائع ہوکر  قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا تھا۔ یہ فکاہیہ نشر مکرر کے طور پر ریڈیو پاکستان راولپنڈی  سے نشر ہوا۔

اس کے بعد دو تین مہینے تک میرے افسانے نشر ہوئے ، تب معاوضہ صرف دس روپے ہوتا تھا۔ پھر ایک انٹر کالج ڈرامہ  فیسٹول ہوا جس میں صوبہ سرحد کے سب کالج شریک تھے اور کُل ملا کے 52 ڈرامے موصول ہوئے تھے۔ میں نے ایک تو سنجیدہ ڈرامہ”زود پشیماں” اپنے اصل  نام “اقبال احمد خان” کے  ساتھ  بھیجا ۔ اس وقت میں تھرڈ ائیر میں تھا۔ دوسری انٹری میں  نے اپنے چھوٹے بھائی انوار احمد خان  کے نام سے دی۔یہ ایک کامیڈی پلے تھا “سحر ہونے تک”۔ اسکرپٹ سیکشن میں احمد فراز کے ساتھ غالباً ” رعنا شیروانی” تھی وہ بھی پروڈیوسر تھیں اور بعد میں پی ٹی وی کی چیئرمین بنیں  ۔( اس زمانے میں وہ “تنہا تنہا” کو سینے سے لگائے  پھرتی تھیں) تیسرے کا نام اب مجھے یاد نہیں۔ ڈرامہ  اسکرپٹ  کی تین کاپیاں دینا لازمی تھا۔ میں اور بھائی  رات رات بھرزمین پر بیٹھ کر  زرد رنگ کی کاپی کرنے والی پنسل سے کاربن کی دو کاپیاں  رکھ کر  نقلیں بناتے رہے۔ شاید کچھ لوگوں کو یاد ہو کہ جب فوٹو کاپی مشین جیسی سہولت عام نہ تھی تو نقل ایسے ہی بنتی تھی۔ اس پنسل کا سکہ زبان پر لگایا جائے  تو رنگ نیلا ہوجاتا تھا، لکھتے لکھتےانگلیاں ٹیڑھی ہوگئیں ۔

جب یہ ڈرامے جمع کروائے  گئے  تو پورا پلندہ تھا۔ خدا کی قدرت کہ  56 میں  سے یہی دو ڈرامےانعام کے مستحق قرار  پائے ۔مگر اسے انتظامیہ کی بد نیتی کے سوا کیا کہا جائے  کہ پہلا انعام کسی کو نہیں دیا گیا۔ مجھے دوسرا اور تیسرا انعام ملا۔ رقم تھی 100اور 50 روپے۔۔ ہونا تو یہ چا ہیے  تھا کہ کسی کو 25 روپے کا تیسرا انعام بھی دے دیا جاتا۔ مقابلہ تو انہی 56 ڈراموں میں تھا۔اعلان کے بعد مجھے اور بھائی  کو تقریب انعامات میں شرکت کے لیے  بلایا گیا۔ بھائی کو ڈرامے کا کچھ پتا نہیں تھا۔ اسے سمجھایا کہ کیا سوال ہو تو کیا جواب دے۔قاضی سرور پشاور ریڈیو کے ریجنل ڈائریکٹر تھے اور مجھے جانتے تھے۔ بار بار شک کا اظہار کرتے رہے ” ایک مکمل کامیڈی ایک مکمل ٹریجیڈی۔۔ کمال ہے ۔۔جو فرسٹ ائیرمیں ہے اس نے پہلے کبھی کچھ نہیں لکھا۔

” ہم اپنے موقف پر ڈٹے رہے تاہم احمد فراز کو میں نے سچ بتا دیا۔اس کے بعد میں نے متعدد ڈرامے لکھے۔ایک ڈرامے کی ریہرسل سے پہلے قاضی صاحب باربار فرماتے رہے “اس کو یوں کر دیتے تو بہتر تھا”۔ جب میرا حوصلہ جواب دے گیا تو میں نے بس ایک جواب دیا کہ” اتنی ترمیم کرتا تو ڈرامہ  یہ نہ ہوتا۔ وہ میں اب لکھ دوں گا”۔ لوگ ہنسے تو  وہ خاموش ہو گئے ۔ بعد میں احمد فراز نے مجھے ڈانٹا کہ ایسے تم ریڈیو میں نہیں چل سکتے۔ ڈپلومیسی سیکھو۔۔ انہوں نے معاملہ رفع دفع کروادیا ،ورنہ مجھ پر ریڈیو کے دروازے بند ہوجاتے۔۔میرے پاس اب تک سارے کنٹریکٹ رکھے ہیں لیکن ان کا کاغذ   زرد   ہوگیا ہے اور کاغذ ہاتھ لگانے سےٹوٹ جاتا ہے، کوشش کروں گا کہ ایک کی فوٹو آپ کو دکھا سکوں۔

ریڈیو کی اپنی ایک دنیا ہے۔۔اک جہاں سب سے الگ۔۔ مرحوم ذوالفقار علی بخاری نے اپنی کتاب”سرگزشت” میں ریڈیو کی تاریخ ابتدا سے قیام پاکستان کے بعد تک بڑے دلچسپ انداز میں لکھی ہے۔ ان سے میرا پہلا رابطہ تب ہوا جب میں میٹرک میں پڑھتا تھا چنانچہ یہاں مجھے وقت میں 4 سال پیچھے جانا پڑے گا۔ میری آواز اچھی تھی، شوق پیدا ہوا کہ ریڈیو سے گانا چاہیے۔اس کے لیے آڈیشن ٹیسٹ دیا۔ عظیم سرور کمپوزر تھے۔ ایک دھن دی ،جو گاکے سنائی  تو پاس ہوگیا”شوقیہ” گانے والوں کے پروگرام میں ایک گانے کے لیے  بلایا گیا تو خاندان اور پاس پڑوس میں سنسنی پھیل گئی  کہ میں “سنگر” بن گیا ہوں۔ اس سے پہلے میری گلوکاری محلے کی مسجد میں عید میلادالنبی پر نعت خوانی تک محدود تھی ۔ہمارے اپنے گھر میں  ریڈیو کیا، بجلی تک نہ تھی، لیکن تین میل دور۔۔ڈھیری حسن آباد میں میرے بچپن کے دوست کے گھر میں تھا۔

عین اس وقت جب میرا گانا شروع ہونے والا تھا  تب ان کی لائٹ چلی گئی ۔۔ سارا خاندان اٹھ کے دوسرے گھر تک دوڑا اور گانا سنا گیا۔بڑی واہ واہ ہوئی ۔ ابھی دس سال پہلے میرے اس دوست طارق رفیع نے (جومیرا ہم عمرہے،اور  بریگیڈئیر اور ڈی جی اے ایس ایف  کے عہدے سے ریٹائر  ہوا ہے )نے  یہ سوال کر لیا کہ وہ کیا گانا تھا؟ میرے فرشتوں کو یاد نہ تھا۔ اس نے بتایا کہ بول تھے” سندر سا سپنا دیکھا تھا” تو میں دم بخود رہ گیا، یہ جگ موہن کا گایا ہوا ریکارڈ تھا۔

پنڈی ریڈیو پر بھی ایک تاریخ ساز واقعہ پیش آیا تھا، جس دن میں نے گایا اسی دن ثریا ملتانیکر کا گانا میرے بعد نشر ہوا۔۔ ظاہر ہے آج اس کا نام پاکستان کی شان ہے اور اس کی پروفیسر بیٹی شوقیہ گاتی ہے۔ ثریا ملتانیکر کو شوق بہت آگے لے گیا ۔میں کبھی سنگر نہیں بن سکتا یہ اس وقت بھی مجھے معلوم تھا۔ گانے کے دس روپے ملتے تھے اور ایک دن پہلے ریہرسل کے لیے  تین میل سائیکل چلا کر جانا پڑتا تھا۔پنڈی ریڈیو سے میرا تعلق مختلف اور مختصر تھااور یقینا” وہ بچپن کا دور تھا۔۔ پشاور ریڈیو اسٹیشن پر دوسال رہ کر  میں نے بھی اندر سے وہ دیکھا جو باہر سے نظر نہیں  آتا۔

ٹی وی آیا تو ریڈیو کا بس نام رہ گیا ہے ورنہ اس کی اہمیت  آج کے ٹی وی سے کہیں زیادہ تھی۔ پنڈی سے پوٹھو ہاری کی سب سے مقبول سنگر انیقہ بانو تھیں تو پشاور سے بادشاہ زریں جان تھیں۔ ایک بار میں گیٹ سے اندر گیا توباہر کے ہال میں بہت سے شلوار ، قمیض ،پگڑی اور مونچھوں والے خطرناک محافظ تھری ناٹ تھری کی رائفلوں کے ساتھ بیٹھے دکھائی  دیے ۔مجھے کچھ سمجھ نہ آیا۔ کسی فوجی انقلاب یا ڈکیتی کا فیشن شروع بھی نہ ہوا تھا۔ اندر جا کر  پوچھا تو پتا چلا کہ بادشاہ زرین جان گانے آئی  ہیں۔پہلے سنا کہ وہ کسی قبیلے کے سردار کی بیوی تھی، بعد میں پتا چلا کہ اس کی تو شادی ہی نہیں ہوئی ۔۔۔ اس کی بہن کسی تھانیدار کی بیوی تھی، اس کے تانگے پر پردے کے لیے  کپڑا باندھا جاتا تھا اور آگے پیچھےمسلح محافط یا باڈی گارڈ چلتے تھے لیکن وہ اس ہال کے دروازے تک ہی باڈی کو گارڈ کر سکتے تھے۔ یہ بھی خصوصی اجازت تھی ،ورنہ عمارت کے بیرونی گیٹ پر ہی اسلحہ رکھوا لیا جاتا تھا۔ اندر کے قصے اندر ہی رہتے تھے جو میں نے بھی سُنے۔۔

کئی  بار دیکھا کہ کسی اسٹوڈیو کے دروازے اندر سے بند ہیں۔ پوچھا تو ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب ملا کہ  بادشاہ زریں  جان کی “ریکارڈنگ” ہورہی ہے۔ عمر میری بھی 20 سال تھی جب ہر مونث حسین لگتی تھی اور دن میں پنج وقتہ عشق بھی ہو جاتا تھا لیکن بادشاہ زریں  جان جو زرق برق لباس اورشوخ میک اپ کے بغیربھی دلکش تھی مجھ سے شاید پانچ سال بڑی تو تھی اور ہر ایرے غیرے کو نظر اٹھا کے دیکھنا بھی اس کی شان محبوبی کے خلاف تھا لیکن ایک دن اتفاق سے وہ مجھے احمد فراز کے کمرے میں اکیلی بیٹھی نظر آگئی  اور میں ہمت کر کے ساتھ جا بیٹھا۔ جب چائے  آئی  تو اس نے مجھے بھی بنا کے دی اور مجھ سے پوچھا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ میرے بتانے پر کہ ڈرامے لکھتا ہوں وہ کچھ حیران یا متاثر ہوئی  اور اس نے مجھ سے ملانے کے لیے  ہاتھ بڑھادیا “بڑی خوشی ہوئی  تم سے مل کر” وہ مسکرا کر  بولی۔۔ مگر میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ، کیونکہ ان ہاتھوں میں ایک نرم گرم و ملائم کبوتر سا آگیا تھا۔ بس اسی وقت احمد فراز آگئے ۔ انہوں   نے یہ سین دیکھا تو مسکرائے  اور شرارت سے بولے “سوری۔۔میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا؟۔ ۔۔

اس سے یہ پہلا رابطہ تھا ۔بعد میں وہ جب نظر آ ئی  خلاف روایت اس نے ہمیشہ مسکرا کے ہاتھ ملایا اور پوچھا” کیسے ہیں رائٹر  صاحب ؟” ایک بار مذاق میں کہا ”   ہم پر  بھی ایک ڈرامہ بنادو” ۔دو چار مرتبہ اس کے ساتھ ریکارڈنگ روم میں رک کر اس کو سنا، جہاں  کمپوزر، پروڈیوسر ،سازندے سب اس کو ندیدے پن سے دیکھتے تھے اورکئی  بار اس کے ساتھ چائے بھی پی ،لیکن ایک غائبانہ  قسم کے عشق کے سوا یہ ڈراموں کے رومانی مکالمے لکھنے والا کچھ کہہ بھی نہ سکا تو کرتا کیا ۔اس بزدلی نے  مجھے عمر بھر خود سے بھی شرمندہ ہی رکھا ،شاید ابھی دو سال قبل ہی بادشاہ زریں  جان کا انتقال ہوا ہے۔ وہ جوان اور خوبصورت تھی۔ معلوم نہیں اس کی شادی نہ ہونے کے اسباب کیا تھے۔حق مغفرت کرے۔

صدر میں کتابوں کی ایک چھوٹی سی دکان ” دارالادب” کا خوش ذوق خوش مزاج اور خوش شکل نوجوان مالک ارشاد میرا دوست بن گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ دوستی پروان چڑھی۔ ایک جوشیلا نوجوان ماجد اس تکون کا حصہ بنا۔ چوتھا مجھ سے صرف ڈھائی  سال چھوٹا  مگر قد میں بڑا بھائی  تھا ،جو زندگی بھر میرا بہترین دوست بھی رہا ہے۔ ہم سب ارباب روڈ پرکیپیٹل  سینما کے عین سامنے واقع “کیفے علیگ” کی مہکتی چائے  سے زیادہ اس کی انتہائی  معیاری کنفکشنری کا لطف اٹھانے ایک ساتھ جاتے تھے اور وہاں بطور خاص “لیمن ٹارٹ” پیسٹری منگواتے تھے ۔ اب اس جگہ کا نام بھی کون جانتا ہے۔

دوسری پسندیدہ جگہ چوک یادگار کا ایک گمنام سا ہوٹل تھا جہاں ہم پیالہ بھر شوربے والی بکرے کی سری میں روٹی کےٹکڑے بھگو کرمرحوم کے لیے  دعائے  مغفرت کرتے تھے۔۔ چوک یادگار پر یہ زردرنگ کی سالم سریاں ڈھیر کی صورت میں سڑک پر رکھ کر  بیچنے والے بھی عام تھے، جہاں  عوام نیم دائرے میں بیٹھتے جاتے تھے۔ سری فروش کھلی آنکھوں اور دانتوں میں دبی زبان والی سری کے ایک بہت بڑی تیغ ابدار جیسی چھری سے چار حصے کرتا تھا اور مگ بھر شوربے کے ساتھ پیالے میں ڈال کر  ایک روٹی کے ساتھ سامنے رکھ دیتا تھا۔ مجھے ہمیشہ وہ شعر یاد آیا
افسوس کہ دنیا سے سفر کر گیا بکرا
انکھیں تو کھلی رہ گئیں پر مر گیا بکرا!

ایسے ہی نمک منڈی میں کبابوں کی ایک دکان تھی۔نیچے کباب بنتے تھے۔ لکڑی کا زینہ چڑھ کر  ہم اوپر جاتے تھے  تو ایک ہال سا تھا جس میں خشک گھاس بچھی ہوئی  تھی اور لوگ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر  بیٹھتے جاتے تھے۔ جب کباب سامنے آتے تھے تو ایک سیاہ رنگ کی کڑاہی  میں پگھلی ہوئی  گرم چربی کا شوربہ ہوتا تھا جس میں تلے گئے  سیخ کباب ڈوبے ہوتے تھے۔ ہم گرما گرم روٹی اس میں ڈبو ڈبو کر کھاتے تھے، مگر  یہ قصہ ہےتب کا کہ جب  آتش جواں تھا ۔ آج کتنے لوگ یہ ہمت کرسکتے ہیں کہ اس خالص کولیسٹرول کو اتنی رغبت سے کھالیں؟ کولیسٹرول کےبارے میں جو میڈیکل انفارمیشن عام ہوئی  ہے، اس کے بعد نامکمل معلومات کے ساتھ عام آدمی کولیسٹرول کی دہشت میں مبتلاء  ہے اور زندگی میں خدا کی عطا کردہ بہت سی نعمتوں کو از خود اپنے آپ پر حرام کرنا ایک فیشن ہو گیا ہے  ۔اب وہ دکان بھی نہیں اور وہ سوغات بھی کہیں نہیں ملتی۔ایک اور خاص جگہ   سینما کے سامنے ملنے والے پنیر کے پکوڑے تھے۔ ہم چہار درویش تھے جو پشاور میں سرگرداں نظر آتے تھے اور اپنے دوستانہ رویے سے ان مخصوص مقامات پرویلکم کیے  جاتے تھے!

احمد اقبال
احمد اقبال
تقریبا"50 سال سےمیں کہانیاں لکھتا ہوں موضوعاتی،قسطوار،مزاحیہ ۔شاعری کرتا ہوں۔ موسیقی، فلموں اور کرکٹ کا شوق ہے، یار باش آدمی ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *