کرشن لعل کی لذتِ آشنائی۔۔۔ڈاکٹر محمد شہباز منج

آج گھر میں ایک شیلف پر یونہی پڑی چند کتابوں سے متعلق بیگم نے کہا کہ اس کو کتابوں میں “سنبھال “دیں، یہاں ایسے ہی پڑی ہوئی ہیں۔ میں کتابیں اٹھا کر دوسرے کمرے میں “سنبھالنے”لے گیا۔ان کتب میں جناب پروفیسر غازی احمد (سابق کرشن لعل) کی “من الظلمت الی النور” پر  نظر پڑی ، جو اس سیٹ میں موجود دیگر کتب کی طرح، اس خیال سے رکھی پڑی تھی کہ فرصت میں بالاستیعاب پڑھوں گا۔ سوچا خورشید رضوی کی طرح کے ریزہ ریزہ کام کھائے جارہے ہیں، دل جمعی سے مطالعہ خواب ہی رہ گیا ہے، اب ہر کتاب ، جس سے دل چسپی ہو بھاگم بھاگ ہی پڑھی جا سکا کرے گی، کتاب پکڑی اور ناشتے کے بعد کی ہلکی واک کے دوران حویلی میں پھرتے پھرتے پڑھنے لگا،ایسا کھُبا کہ سارے کام چھوڑ کر ، دوچار گھنٹوں میں کتاب کے تمام اہم مندرجات پڑھ ڈالے۔

قیام پاکستان سے قبل چکوال کے علاقے بو چھال کلاں کے چھوٹے سے گاؤں میانی کے خوش حال ہندو گھرانے کے نوجوان طالب علم کرشن لعل کی کیا ہی ایمان افروز سرگزشت ِ قبولِ اسلام ہے یہ۔ایمان لانے پر ان کے اپنے خاندان کی جانب سے جھیلے جانے والے مصائب نے ان کی داستانِ ایمان کو صحابیانہ بنا دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی زیارت اور آپﷺ کا انھیں نعمتِ ایمان سے مشرف فرمانا،والدین اور بھائیوں سے جدائی کے جذباتی مراحل ،واپس ہندومت میں لانے کے لیے اہلِ خانہ کی سختیوں اور قانونی کارروائیوں کی طویل داستان اور اس مردِ درویش کی ایمان پر پامردی اور سرشاریِ عشقِ رسول ﷺ میں ہر سختی کو خندہ پیشانی سے جھیلتے چلا جانا،انتہائی قابلِ رشک ہے۔ اندازِ بیان ِ واقعات بھی کمال ادیبانہ اور پراز سوز وگداز ہے۔ایمان کے اعلان سے پہلے والدہ اور بھائیوں سے الوداعی ملاقات کو بیان کرتے ہوئے وہ جس طرح روئے تھے، قاری تھوڑا سا بھی حساس دل رکھتا ہو تو ان کی سنت میں یہاں روئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

مطالعۂ کتاب کے داروان میرا تاثر یہ تھا کہ اگر محض کوئی اسلامی کتاب پڑھ کے یا کسی عالمِ دین کے وعظ و تبلیغ سے متاثر ہو کر وہ اسلام قبول کرتے، تو جس طرح کے جذباتی و حسی حادثات سے انھیں گزرنا پڑا ، وہ کبھی بھی اسلام پر قائم نہ رہ پاتے!میرے نزدیک صحابہ کے سامنے دیوراِ کعبہ سے ٹیک لگائے ہوئے خواب میں حضورﷺ کی زیارت اور آپ ﷺ کے انھیں اپنے گلے لگا کر اور ان کے ہاتھ کو اپنے دستِ مبارک میں لے کر اپنی غلامی میں لینےاور اسلام و ایمان سے مشرف کرنے ہی سے وہ یقین کے اس اعلی مقام پر فائز ہوئے، جو اس داستان میں ان کی شخصیت سے جگہ جگہ ظہور کرتا دکھائی دیتا ہے۔ان کے رہنما مولانا عبدالرؤف صاحب واقعی بڑے صاحب ِ نظر نکلے ، جنھوں نے انھیں اپنی تبلیغ وغیرہ سے ایمان لانے کی جلدی کے بجائے ، اللہ سے تعلق ، دعا اورمشاہدے کی طرف رغبت دلائی تا کہ وہ ایمان کی طرف آئیں تو ایسی پختگی کے ساتھ کہ پھر کوئی چیز اس سے پھیر نہ سکے۔سو مشاہدے سے گزر کر اور حضورﷺ کی زیارت سے مشرف ہو کر جب وہ حق الیقین کی منزل حاصل کر چکے، تو سارے خطرات کو نظروں کے سامنے رکھ کر ایمان کا اعلان کیا۔ اب وہ ایقان کے جس مرتبے پر پہنچ چکے تھے، کوئی ترہیب اور کوئی ترغیب انھیں حضورﷺ کی غلامی کا جوا اتارنے پر مائل نہ کر سکتی تھی:
دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

حضورﷺ کو خواب میں دیکھنے والے کی لذتِ آشنائی کا یہ عالم دیکھ کران خوش بختوں کی لذتِ آشنائی کا سوچیے،جنہوں نے آپﷺ کو سر کی آنکھوں سے دیکھ رکھا تھا!
اہلِ ایمان کے لیے اس داستان ِ قبول اسلام میں سب سے بڑا پیغام ، میرے نزدیک یہ ہے کہ حضورﷺ سے محبت و قربت پیدا کریں۔ یہی ایمان کی اصل ہے۔ اقبال نے یونہی نہیں کہا تھا:
بہ مصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سچے جذبے سے مانگنے والاکوئی غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو حضورﷺ کی نگاہِ کرم سے محروم نہیں رہتا۔مولانا احمد رضا خان مرحوم نے کیا خوب کہا ہے:
فیض ہے یا شہِ تسنیم نرالا تیرا
آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا!

Avatar
ڈاکٹر شہباز منج
استاذ (شعبۂ علومِ اسلامیہ) یونی ورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا، پاکستان۔ دل چسپی کے موضوعات: اسلام ، استشراق، ادبیات ، فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور اس سے متعلق مسائل،سماجی حرکیات اور ان کا اسلامی تناظر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *