رنگوں کی قوس قزح۔۔۔نعمان رؤف ہاشمی

رنگوں کے  متعلق جاننے کے لئے پہلے یہ سمجھانا ضروری ہے کہ روشنی کیا ہے، روشنی انرجی کی ہی قسم ہے روشنی الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن پر مشتمل  ہوتی ہے ،الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن میں ذرات اور ویو دونوں کی خصوصیات موجود ہوتی ہے ۔

آپ ایسے بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ الیکٹریسٹی اور میگنٹزم دونوں کی ویو ہوتی ہے ریڈی ایشن پارٹیکلز کی بنی ہوتی ہے جنہیں آپ فوٹان کہتے ہیں یہ انرجی کے  چھوٹے چھوٹے پیکٹس ہوتے ہیں فوٹانز مختلف انرجی پر مشتمل  ہوتے ہیں، تمام فوٹانز Visible Spectrum میں نہیں ہوتے اس لئے انسانی آنکھ صرف 400 سے 700 نینو میٹر ویو لینتھ کی روشنی کو ہی دیکھ سکتی  ہیں۔ ویزیبل سپکٹرم کی شروعات 400 نینومیٹر وائیلٹ فوٹانز سے ہوتی ہے اور ان کا اختتام 700 نینو میٹر ریڈ فوٹانز پر ہوتا ہے اس لئے 700 نینومیٹر سے اوپر کی الیکٹرومیگنیٹک ویوز کو Infrared کہا جاتا ہے اس سے  ز یادہ ویو لینتھ کی ریز میں Radars, FM, TV, Shortwave, AM ہوتی ہیں
400 نینو میٹر سے نیچے کی ویوز کو Ultraviolet ویو کہا جاتا ہے اور مزید کم ویو لینتھ والی ریز میں X-rays اور Cosmic rays آتی ہیں ہم الیکٹرومیگنیٹک ویوز کہ سپکٹرم کا بہت ہی معمولی سا حصہ دیکھنے کے  قابل ہیں (تقریباً 0.0035 فی صدی حصہ) باقی ریڈیو ویو ٹی ویو تمام ویو بھی انہی روشنی کی ویو کی طرح ہی ہیں

الٹروائیلٹ اور انفریڈ روشنیاں ہم اس لئے نہیں دیکھ پاتے کیونکہ ہماری آنکھ میں یہ صلاحیت ہی نہیں موجود کہ وہ 400 نینو میٹر سے کم اور 700 نینو میٹر سے   زیادہ ویو لینتھ کی روشنیوں کو دیکھ پائے ہمارت ریٹینا میں صرف انہی ویو لینتھ کی روشنیوں کو سینس کرنے  والی کونز ہیں۔

سورج کی طرف سے آنے والی روشنی میں Visible Spectrum کے  فوٹانز کی intensity سب سے   زیادہ ہوتی ہے جیسے ہی سورج کی روشنی زمین کے  Atmosphere می‍ں داخل ہوتی تو UV روشنی اووزن لیئر سے منعکس ہوجاتی ہے اور باقی ماندہ روشنی جو بظاہر ہمیں سفید نظر آتی ہے زمین کی ٹھوس سطح تک پہنچ جاتی ہے یہ سفید روشنی تمام رنگوں کی روشنیوں کا مجموعہ ہیں اگر اس روشنی کے  آگے پرزم کو رکھ جائے تو یہ تمام رنگ کی روشنیاں ایک دوسرے الگ ہو کر دکھائی دیتی ہیں سبھی رنگ کی روشنیوں کی ویو لینتھ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں

پرزم

رنگ بنیادی طور پر تین ہیں Red blue Green باقی تمام رنگ جو ہمیں دکھائی دیتے انہی تین رنگوں کی آپس میں مختلف مقدار میں آمیزش کی وجہ سے بنتے ہیں

ہمیں اشیاء دکھائی کیسے دیتی ہیں جب بھی کسی شے پر روشنی پڑتی ہے تو اُس سے منعکس ہو کر یہ روشنی ہماری آنکھ سے ٹکراتی ہے اس منعکس ہوئی روشنی کا عکس ہمارے ریٹینا پر بنتا ہے جو سگنلز کی صورت میں Optic nerve ہمارے دماغ کے  Visual cortex تک پہنچتا ہے جہاں ملنے والی انفارمیشن سے امیج بنتا ہے اور آپ پہچان کر پاتے ہیں۔

رنگوں کا دیکھنے کا تعلق بھی ریٹینا سے ہی ہے عام انسانی آنکھ میں 6 سے 7 ملین کونز ہوتی ہیں جو مختلف رنگوں کی پہچان کرنے کے  کام آتی ہیں ایک نارمل انسان میں ان کونز کا 64% فیصد حصہ ریڈ رنگ کو Respond کرتا ہے جبکہ 33% فیصد حصہ گرین رنگ اور صرف 2% فیصد حصہ نیلے رنگ کو Respond کرنے کیلئے ہوتا ہے کچھ پرندوں اور مچھلیوں میں یہ کونز چار طرح کی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ Ultraviolet light بھی دیکھنے کے  قابل ہوتے ہیں اور یہ تمام 6-7 ملین کونز ہمارے ریٹینا کے  صرف 0.3 ملی میٹر حصے میں واقعہ ہوتی ہیں جب مختلف رنگوں کی روشنیاں ریٹینا تک پہنچتی ہیں تو اس رنگوں والے حصے میں ہر ویو لینتھ کے  اعتبار سے مختلف اثر پڑتا ہے جو دماغ تک Optic nerve کی مدد سے پہنچ جاتا ہے جہاں اس فرق کی مدد سے رنگوں کی پہچان ہوتی ہیں۔

مختلف رنگ کی اشیاء کے  رنگ مختلف ہونے کی وجہ یہی ہے کہ وہ خود پر پڑنے والی روشنی کا بیشتر حصہ جذب کرلیتے ہیں اور باقی جو حصہ منعکس کرتے ہیں وہی اُس شے کا رنگ ہمیں دکھائی دیتا ہے اگر آپ مادہ کی بات کریں تو مادہ کی اکائی ایٹم ہے ایٹمز بذات خود کسی قسم کے  رنگ کے  حامل نہیں ہوتے جو شے اُنہیں رنگ فراہم کرتی ہے وہ ہے “الیکٹران ” ( ایٹمز رنگوں کہ حامل نہیں مگر کچھ کنڈیشنز میں یہ رنگ کی خاصیت رکھتے ہیں)

عام طور پر مالیکولز میں رنگوں کی خصوصیات پائی جاتی ہیں جب کسی مالیکول پر روشنی ڈالی جاتی ہے تو اُس کے  بیرونی شیل میں موجود الیکٹران روشنی جذب کرتا ہے اور پھر اس روشنی کا کچھ حصہ خارج کردیتا ہے اور یہی رو شنی کا اخراج شدہ حصہ مالیکیول کا رنگ ہوتا ہے ( اکیلے ایٹم یا مالیکیول کا رنگ دیکھنا ممکن نہیں جب ان کا رنگ کا مشاہدہ کرنا ہوتو ان کی بڑی مقدار کو زیر غور لایا جاتا ہے) اگر الیکٹران ویسی ہی روشنی کا اخراج کرے جیسی روشنی جذب کی تھی تو اس طرح ایٹم/مالیکیول ٹرانسپیرنٹ دکھائی دے گا.

روشنی بہت سی اشیاء میں سے نہیں گزر پاتی جیسے باریک کاغذ، دیوار، کپڑا، مگر گلاس جو کہ ٹھوس شے ہے اُس میں سے آسانی سے گزر جاتی ہے اِس کی وجہ اوپر بیان کر دی گئی ہے جب روشنی گلاس پر پڑتی ہے تو اس میں موجود ایٹمز کے  الیکٹرانز اس روشنی کو جذب کرتے ہیں اور excited ہوجاتے ہیں اور دوبارہ اُتنی ہی انرجی کہ فوٹانز کا اخراج کر کے  گراؤنڈ سٹیٹ پر واپس آجاتے ہیں جس کی وجہ سے گلاس میں سے روشنی گزرتی معلوم ہوتی ہے اور اس انخذاب اور اخراج کی وجہ سے روشنی کی رفتار گلاس کہ اندر دھیمی پڑ جاتی ہے۔

اس طرح کسی ٹھوس شے پر روشنی ٹکرانے کے  بعد واپس نہ لوٹے تو کالا رنگ دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ رنگ تمام رنگ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ سفید رنگ تمام رنگوں کی روشنی منعکس کرنے کی وجہ سے دکھائی دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *