نفرت ۔۔۔محسن علی

نفرت کیا ہے ؟۔۔۔ نفرت ایک انسانی احساس و جذبہ ہے جو کسی سے انتقام بدلہ لینے پر اکساتا ہے، یا کسی کے بارے میں آپکی رائے کو منفی کردیتا ہے ۔ نفرت عام طور پر ہم سب    کسی نہ کسی طور پر کرتے ہیں اسکا اظہار بھی کرتے ہیں ۔ نفرت انسان بچپن سے معاشرے سے سیکھتا ہے ۔  لیکن  کس طرح  ؟
ّوہ اس طرح کہ  جب ہم دو بچوں کا آپس میں موازنہ کرتے ہیں اور غصے سے کہتے ہیں محلے کا یا اُنکا بچہ ہے ہی بدتمیز اُس سے بات نہیں کرو اس طرز کے جملے دھیرے دھیرے سرائیت کرکے نفرت اُبھارتے ہیں جبکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے بیٹا اُنکا طور طریقہ یا انداز ایسا نہیں کہ آپ اُنکے ساتھ مل کر کھیل سکیں آپ اتنے تیز نہیں یا میں نہیں چاہتا/ چاہتی آپ شرارتوں کے بجائے کسی کے ساتھ ایسا کریں  کہ کوئی  آپکی شکایت لے کر آئے ۔
دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے  کہ ماں باپ بچےکےسامنے ایک دوسرے کی تذلیل یا سخت الفاظ کا چناؤ  کرتے ہیں تو اگر بچہ باپ کا لاڈلا ہوا تو ماں کے خلاف ماں کا لاڈلا ہوا تو باپ کے خلاف ہو جاتا ہے ، یا بعض اوقات ماں معاشی طور پر کمزور ہونے کے ڈر سے باپ کے خلاف منفی ذہن بن جاتا ہے ۔
ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بچے کو اتنا مارا جاتا ہے یا بچپن سے اتنی بڑی بڑی باتیں سمجھانی شروع کردی جاتی ہیں۔۔۔جیسے  ۔۔تم بڑے بچے ہو ،تُم نے کما کر کھلانا ہے، آگے تُم نے سب سے اچھا پڑھنا ہے تُم نے مثال بننا ہے ۔۔وہ یہ سب کچُھ سوچ کر فرار حاصل کرتا ہے پھر گھر سے اور باہر لوگوں میں پناہ ڈھونڈتا ہے ان سب سختیوں اور کھردرے الفاظوں کے باعث کیونکہ معاشرے میں اُسے  اُسکے ذہن  یا  سوچ کے مطابق  سمجھنے والے لوگ نہیں ملتے   تو جب وہ لوگوں سے ملنا شروع کرتا ہے تو لوگ کٹتے ہیں جس کے باعث اُس کو اپنے آپ سے نفرت ہونے لگتی ہے دوسرا یہ کہ ہر بچہ یا باہر کابڑا جب اپنے ماں سے جیسا بھی برتاو کرتا ہو اُسکو نہیں سُنتا یا یہ کہتا ہے ماں باپ کی ہر حال میں قدر کرو اور ماں کے قدموں تلے جنت و باپ کی بد دعا سے بچو تو ۔۔پھر اُس بچے کے دماغ میں انتشار پنپنا  شروع ہوجاتا ہے وہ دھیرے دھیرے خود سے نفرت کا شکار ہوجاتا ہے ۔
اگر یہی بچہ بچپن میں کسی سے پٹتا ہو محلے میں اور بڑے ہوکر نفرت میں انتقام کے لئے اپنے آپکو مضبوط بنا کر پھر اُسکو مارنے پیٹنے کی تراکیب سوچتا ہے یا قتل بھی کر گزرتا ہے یا پھر کسی کا رد کرنا معاشرے کا رد کرنا گھر والوں کا اُسکا مختلف دکھنا اُس پر اس قدر دباو ڈال دیتے ہیں کہ بلاآخر وہ خود کشی کی جانب بڑھتا ہے۔ جب اُس کو کہیں سننے و سمجھنے و محبت کرنے والا نہ مل سکے تو اور یہ خود کشی پورے معاشرے  کے لیے سوال چھوڑ جاتی ہے۔
جیسے آج کراچی میں ایک اسکو ل کے چھ سات سالہ بچے نے اسکول کی چھت سے کود کر دوسری خود کشی کی کوشش کی اور  فرسٹ ایڈ ملنے کے دورا ن  چل بسا۔۔ اس واقعے نے یوں تو ایک گھر کا چراغ اُجاڑدیا مگر اُس گھر کے معاشی و ذہنی حالات کس قدر ناگفتہ با  ہونگے  ۔۔۔ کبھی سوچیں کہ اتنے سے بچے تنگ آکر کس قدر ذہنی تناو میں خود کشی کی کوشش کرکے اس جہاں سے رُخصت ہو جاتے ہیں  ۔ کیا ہم کبھی اس کا ادراک کرسکیں گے ؟ کیا ہم بطور معاشرہ یا ہمارے بڑے اس بارے میں بدل سکیں گے ؟ دُنیا بھر میں خودکشی کے رجحان کو کم کرنے کے لئے سماجی پہلو پر روشنی ڈالی جارہی ہے کوشش کی جارہی ہے ،کیا بطور سماج میں اور آپ کوئی   کردار ادا  کررہے ہیں یا کرسکتے ہیں ۔۔سوچیے گا ضرور !

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نفرت ۔۔۔محسن علی

  1. بہت اچھا سوال اٹھایا ہے ۔ ۔۔. فی الحال جس کا جواب ہے نہیں کیونکہ مدد تو ہم جب کریں گے جب خود پر غور کریں گے اور بچوں کی زمہ داری کو سمجھیں گے ۔ ۔۔.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *