ذلت کی زندگی۔۔۔قمر سبزواری

راشد اور عزیز ایک ہی دن دبئی وارد ہوئے تھے۔ دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو نہ جانتے تھے لیکن ہوائی جہاز میں تعارف کے دوران جب دونوں کو علم ہوا کہ دونوں ایک ہی کمپنی کے ویزہ پر جا رہے ہیں تو علیک سلیک کا سلسلہ تعلقات میں بدل گیا۔

عزیز کی کچھ عرصہ پہلے شادی ہوئی تھی چند ماہ کی ایک بیٹی تھی ، بیوی تھی، ماں تھی، ایک چھوٹا بھائی اور تیں بہنیں بڑی بہن کی شادی ہو چکی تھی لیکن دوسری دو جو ابھی کافی چھوٹی تھیں کی شادی اور بیوی کے ارمان اور بچی کا مستقبل اور ماں کا اچھا سا علاج, غرض اُس کی دبئی میں آنے کی بہت سی وجوہات تھیں۔

راشد کی ابھی شادی نہ ہوئی تھی، ماں باپ تھے، ایک بھائی تھا اور ایک بہن تھی۔ باپ کی ریٹائر منٹ کے بعد اب راشد اپنا کیریئر بنانا چاہتا تھا، اپنے مستقبل کے ساتھ ساتھ گھر کو سہارا دینا بھی اُس کے خوابوں کا ہی ایک حصہ تھا جو باپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اب حال کی حقیقت بن چکا تھا۔

ابھی جہاز دبئی میں اترا نہیں اور مجھے گھر والے پہلے یاد آنا شروع ہو گئے ہیں۔ عزیز نے سیٹ کی پشت پر سر ٹکاتے ہوئے ایک آہ بھر کر کہا۔
کیا کبھی گھر سے باہر نہیں رہے تم، راشد نے مسکرا کر اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں کبھی نہیں۔
کیا تم پہلے کبھی باہر جا چکے ہو، عزیز نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
ملک سے باہر تو نہیں لیکن شہر سے باہر کئی بار رہا ہوں اِس لئے کسی حد تک عادت ہے لیکن اس بار میرا معاملہ بھی کچھ ٹیڑھا ہے یار ، اس بار میری گرل فرینڈ بھی تھی اور اُس کو بہر حال مس کر رہا ہوں میں بھی۔

کیا تم ایک پرائی لڑکی کو یاد کر رہے ہو اور اپنے ماں باپ اپنے بہن بھائیوں کو نہیں۔
دیکھو پہلی بات تو یہ کہ وہ پرائی نہیں میری عزیز ترین دوست ہے اور دوسری بات یہ کہ گھر والوں کی مرضی سے اور اُن کے مشورے سے اپنا مستقبل بنانے جا رہا ہوں اس لئے اُن کو ابھی اُس طرح یاد نہیں کر رہا جس طرح دوست کو کیونکہ اُس کو رلا کر آیا ہوں اور اُس سے تعلق کی نوعیت بھی دوسری ہے۔
کمال ہے جس ماں نے پیدا کیا اُس سے محبت کا تعلق نہیں  ہے۔ عزیز نے طنزیہ انداز میں کہا۔

ارے میں نے ایسا کب کہا۔ اچھا چھوڑو ابھی آغاز میں ہی اس پر کیا رائے دوں۔ راشد نے اُس کا طنز نظر انداز کر کے بات بدل دی۔

دبئی میں پہنچ کر دونوں کیمپ میں سیٹل ہوئے تو کام کاج اور نئے ماحول میں خود کو ڈھالنےکی کوشش میں کچھ ہفتے ایسے گزر گئے کہ احساس ہی نہ ہوا۔

اور پھر پچھلوں کے شدت سے یاد آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
دن کو دونوں کام کاج میں مصروف رہتے تو پھر بھی وقت کٹ جاتا لیکن رات کو جب آڈیو یا وڈیو کال پر کسی سے بات ہوتی تو معاملہ ہر روز پہلےسے زیادہ بگڑ جاتا۔
آج جمعرات تھی صبح چھٹی کی وجہ سے دونوں نے رات دیر تک بات کر پروگرام بنایا۔ دونوں ایک ہی کمرے میں بیٹھے درمیان میں پردہ لٹکائے اپنی اپنی عورت سے بات کر رہے تھے۔

راشد کی دوست بات کرتے کرتے اُس کے سامنے کُھل جاتی اور یوں دونوں میں در آنے والی جنسی بے بسی بعض اوقات لڑائی پر ختم ہوتی۔ جبکہ عزیز کا معاملہ دوسرا تھا اُس کی بیوی تھی اس لئے بات ناراضگی کی بجائے ایک دوسرے کو کھل کھلا کر دیکھ دیکھ کر حسرت پر ختم ہوتی ، عزیز کی بیوی تو اکثر رو بھی پڑتی۔

بھوکے کو کھانا دکھایا جائے اور پھر اُس سے دور لے جا کر رکھ دیا جائے تو بھوک بڑھنے کے ساتھ یہ ہیجان زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے کہ کہیں کوئی اور بھوکا گرما گرم کھانا دیکھ کر اُس پر ٹوٹ نہ پڑے۔ دونوں غیر محسوس طریقے سے لیکن تیزی سے چڑچڑے ہوتے جا رہے تھے۔

یہ چڑ چڑا پن اُس وقت کھل کر سامنے آ جاتا جب مختلف اقوام کے لوگوں کی ایک ہی کیمپ میں موجودگی کے سبب باتھ روم میں ، میس میں نائی کی دکان پر، کمپنی کی لانڈری میں اور آفس ٹرانسپورٹ کی وین میں اجنبیت کا احساس تکلیف دیتا۔
کبھی کھانا عجیب سا اور بدمزہ ہوتا، کبھی باتھ روم میں غلاظت طبیعت کو مکدر کرتی تو کبھی لانڈری میں کپڑے ایک دوسرے کے ساتھ بدل جاتے۔
کیمپ میں ذہنی اذیت کا سب سے بڑا سبب سپروائزر نام کی وہ مخلوق تھی جو مینجر کے رشتہ دار یا قریبی سفارشی ہونے کے علاوہ کوئی قابلیت نہ رکھتے تھے اور پسماندہ علاقوں کے غیر تعلیم یافتہ لوگ تھے اُن کو جب اچانک کوئی سو افراد پر بلاشرکت غیرے اور بلا احتساب حکومت کا موقع ملتا تو وہ اپنی انا کی تسکین کے  لئے ملازمین کی عزت نفس کو مجروع کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔

دفتر سے واپس آ کر بلا ضرورت اور نہ چاہتے ہوئے بھی دونوں کیمپ کے ساتھ مرکزی بازار میں نکل جاتے اور خواہ مخواہ مہنگی اشیاء اور جدید طرز کے کپڑوں اور زنانہ زیر جاموں کو دیکھتے رہتے۔

جو چیزیں ہم بھیج سکتے ہیں وہ وہاں پر رہنے والا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، عزیز نے ایک دکان پر شو کیس میں سجے ضرورت سے زیادہ پھیلاؤ والے سونے کے ہار کو دیکھتے ہوئے کہا۔
لیکن جو چیز کوئی اور وہاں دے سکتا ہے اُس کا ہم یہاں بیٹھے بیٹھے صرف سوچ ہی سکتے ہیں ، راشد نے آنکھ دبا کر ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
اب اتنی بھی آفت نہیں آئی ہوئی ۔ عزت ، غیرت بھی کوئی شے ہے، ہماری برادری میں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی غیر مرد کسی عورت کے سر کے بال بھی کھلے دیکھے۔ عزیز نے سینہ تان کر کہا۔
سر کے بال دیکھنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ راشد نے پھر اُسے ٹوک دیا۔

ابے نہیں یار تم تو بس۔۔۔ عزیز نے آدھی بات کر کے فٹ پاتھ پر پڑے جوس کے خالی ڈبے کو پوری قوت سے لات ماری اور پھر ہاتھ میں پکڑی ڈبیہ سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا۔

ایک دن جب دونوں اکٹھے بیٹھے گھر بات کرنے کے بعد موبائل فونوں پر پہلے سے سنے ہوئے پیغامات دو بارہ سن رہے تھے تو راشد نے موبائل کی سکرین سے نظریں اٹھا کر عزیز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، یار میں تو کسی ڈاکٹر وغیرہ سے مشورہ کرنے کا سوچ رہا ہوں کہ یہاں جنسی ضرورت کی تسکین کے لئے کیا طریقہ مناسب ترین ہے ورنہ شاید مشت زنی کی طرف ہی لوٹنا پڑے۔

عزیز کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ تم کتنی آسانی سے اتنے گندے کام کا نام منہ پھاڑ کر لے لیتے ہو۔ کیا ڈھکے چھپے الفاظ میں نہیں کہہ سکتے۔
اور پھر ڈاکٹر کو کیا پتہ کسی عالم دین سے بات کرتے ہیں، بے چینی تو مجھے بھی بہت ہوتی ہے لیکن تمھیں پتہ ہے ایسا کرنے والے کی انگلیاں روز قیامت حاملہ ہو جائیں گی اور پھر یہ بھی ہے کہ انسان عورت کے قابل بھی نہیں رہتا۔

اوپر سے گناہ الگ۔ عزیز نے ایک ہی سانس میں سارے زاویوں سے روشنی ڈال دی۔
راشد ایک لمحے کے لئے کچھ نادم سا ہوا اور پھر کچھ سوچ کر بولا۔
یار ہم دونوں اب ہر بات ایک دوسرے کو بتاتے ہیں ، سچ بتانا کیا شادی سے پہلے تم نے کبھی خود لذتی نہیں کی۔
وہ اور بات ہے، جب نہ اتنا علم تھا نہ اختیار، عزیز نے اُس کی طرف سے نظریں ہٹاتے ہوئے جھجھک کر تسلیم کیا۔

تو کیا تم شادی کے وقت عورت کے قابل نہیں تھے، راشد نے دوسرا سوال کیا۔
خیریت ہے بیٹا ، ذرا جا کر اپنی بھابھی سے پوچھو، عزیز نے تنک کر جواب دیا۔
تو پھر تمھاری ایک بات تو یہیں ختم ہو گئی۔
اب یہ بتاؤ کہ جب بے چینی مجبوری بن جائے تو کیا مجبوری کے عالم میں کسی ناپسندیدہ عمل کو کر لینا بہتر نہیں بجائے اس کے کہ مجبوری کو خود پر حاوی کر لیا جائے اور کل کو کوئی اور مسئلہ ہو۔

کوئی اور مسئلہ ہو مطلب ، اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ہمارے اسلاف کیا گھروں اور شہروں سے باہر نہیں رہتے تھے، یہ اولیا یہ مجاہد کئی کئی مہینے کیا اس طرح کے گندے کام کرتے تھے۔ عزیز نے حجت پیش کی۔
اچھا چھوڑو۔

سنو ! تم نے اپنے والد صاحب کی جو تصویریں دکھائی ہیں اُن میں اُن کا ہیئر سٹائل تو بالکل فوجیوں جیسا ہے تو پھر تم نے اپنے والد سے اتنی محبت کے باوجود ویسے ہی انداز میں بال کیوں نہیں رکھے؟ راشد نے ایک لمحہ توقف کے بعد عزیز سے پوچھا۔
یار کیا کرتے ہو ، کتنے گندے موضوع پر بات ہو رہی تھی اور کیا ذکر چھیڑ دیا تم نے بیچ میں ، وہ پرانا دور اُس وقت اور اُن کی عمر کے اور تقاضے تھے اور دوسرے وہ کام بھی ایک نیم فوجی ادارے میں کرتے تھے اب اُن سے محبت کے لئے یہ ضروری تو نہیں کہ میں اپنے ابا جیسے بال بھی بنواؤں۔
مطلب تیس برس پہلے کا دور پرانا تھا اور سینکڑوں برس پہلے کے لوگوں کی عادات و اطوار کو اپنانا نئی بات ہے۔
ہماری اور اُن کی زندگی اور زندگی کے تقاضوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔؟ راشد نے چبھتے لہجے میں پوچھا ۔
تم رہنے ہی دو، تم مذہبی احکامات کو ذاتی زندگی کے ساتھ گڈ مڈ کر رہے ہو۔
عزیز اس موضوع پر کچھ سننا نہیں چاہ رہا تھا۔
اچھا چلو ٹھیک ہے، اس پر بات نہیں کرتے لیکن چلو گے نا میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس۔
ارے میں کیوں جاؤں بھلا میں تو امام مسجد سے بات کروں گا، دین میں ہر مسئلہ کا حل ہے ۔ وہ کوئی ایسی دعا کوئی وظیفہ بتائیں گے کہ دیکھنا مسئلہ ہی حل ہو جائے گا۔

راشد نے آن لائن بیٹھ کر ایک کلینک سے مشورے کا وقت لیا اُسے دیکھ کر عزیز کے ذہن میں ایک خیال آیا ، یار ایک بات تو بتا ۔
ہاں بول۔

یہ آن لائن سب کچھ ہو سکتا ہے تو آن لائن کوئی دوست نہیں بن سکتی بندا پیار کے دو بول ہی سن بول لے ۔
وہ تو تم بیوی سے بھی سُن بول سکتے ہو۔ راشد نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
ارے نہیں احمق وہاں اور بات ہوتی ہے ایک انا ہوتی ہے انسان اپنی بے بسی ظاہر نہیں کر سکتا اور پھر بیوی سے اُس طرح کی بات نہیں ہو سکتی وہ ایک ایک لفظ سے ایک ایک قدم آگے بڑھنا نہیں ہو سکتا ۔ اور دوسری بات یہ کہ کیونکہ سب کچھ پہلے ہی ہو چکا ہوتا ہے اس لئے وہ تجسس وہ احساس پیدا نہیں ہوتا ۔ ہاں کوئی اجنبی عورت دوست بنے تو بات دوسری ہوتی ہے۔

اچھا ۔ ویسے کہتے تو تم ایک لحاظ سے ٹھیک ہی ہو ۔ لیکن ایک بات بتاؤں ؟ راشد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
کیا؟ عزیز اُس کی طرف مڑا۔

یہ جو ہماری عورتیں ہیں نا۔ یہ بات بات پر الزام تو مردوں پر دھرتی ہیں کہ مرد بنیاد پرست، تنگ نظر اور شکی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سماج کا مرد جتنا حوس پرست ہے عورت اتنی ہی کم ظرف ہو چکی ہے ۔
خود سوچو یار یہ کیسے ممکن ہے کہ صدیوں سے اِن کے حقوق غصب کرنے والے ، ان کے ذہنوں کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے والے مرد اور سماج تو سارے کا سارا غلط ہے لیکن یہ ابھی تک ذہنی ، جذباتی اور نفسیاتی لحاظ سے بالکل تندرست ہیں۔
عورت کی آزادی کی بات کرنے والیاں خود مردوں سے بڑھ کر اخلاقی بیمار اور جنسی طور پر پرانی سوچ کی حامل ہوتی ہیں۔
یہ لمبی لمبی تقریریں کریں گی کہ مردانہ سماج نے ہمیں قید کیا ہوا ہے ہم مرضی کا پہن نہیں سکتیں ، کسی سے بات نہیں کر سکتیں ہنس کھیل نہیں سکتیں لیکن خود مکالمہ کرنے کو بھی مباشرت سمجھتی ہیں ۔ کسی کی طرف سے بات چیت کی کوشش کیے جانے پر بھی ان کو یہ لگنے لگتا ہے کہ جیسے ان کا ریپ کیا جا رہا ہے۔
کیا فلسفے بگھارنے لگے ہو نا تم بھی، عزیز نے بات نہ سمجھتے ہوئے اُسے روک دیا۔
راشد نے اُسے ایک موٹی سی گالی دے کر بات بدل دی اور دونوں سالانہ چھٹیوں کی باتیں کرتے ابھی سے گھر جانے کے خواب دیکھتے ہوئے سو گئے۔

دوسرے دن جمعہ تھا اور عزیز نے سوچ رکھا تھا کہ نماز جمع کے بعد وہ مولوی صاحب سے تنہائی میں بات کر کے کوئی بہتر مشورہ لے گا۔

دونوں مسجد میں داخل ہوئے ۔ خطبہ شروع ہوا اور پھر مولوی صاحب نے چند دیگر باتوں کے بعد اتفاق سے اُسی موضوع پر پند و نصیحت کا سلسلہ شروع کر دیا جو عزیز کے دل میں تھا۔ عزیز نے راشد کی طرف دیکھ کر فخر سے ابرو اچکائے ، جیسے کہہ رہا ہو دیکھا جائز کام کے لئے کیسے خدا بھی مدد کرتا ہے۔

دیکھو عزیزو، ہم سب پردیس میں بیٹھے ہیں، ایک بات ذہن نشین رہے کہ جو دین کی خدمت کے لئے وطن چھوڑتا ہے وہ ہجرت کرتا ہے اور جو روزی روٹی کے لئے پردیس میں ذلیل ہوتا ہے اُس کے لئے اُس جہان میں  کوئی صلہ نہیں کیوں، کیونکہ یہ کام آپ اپنے لئے کر رہے ہو، خدا کی راہ میں  نہیں ۔
راشد نے عزیز کی طرف دیکھا، جس کی گردن زور زور سے اثبات میں ہل رہی تھی۔

مولوی صاحب سانس لینے کے بعد دوبارہ گویا ہوئے۔
میرے بھائیو، بد قسمتی کہیے یا ہماری دنیا پرستی کا شاخسانہ کہ ہم میں سے اکثر یہاں بیوی بچوں کے بغیر رہ رہے ہوتے ہیں اور یوں طرح طرح کے گناہان کبیرہ میں پڑنے کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں ۔
تو پھر اس کا حل کیا ہے۔ مولوی صاحب نے خود ہی سوال کیا اور پھر خود ہی جواب دینے لگے۔
اس کا درست حل تو یہ ہے کہ یا تو بیوی بچوں کو بھی یہاں لے آئیں یا پھر واپس چلے جائیں۔

لوگوں میں بے چینی کی ایک لہر سی بیدار ہوئی تو مولوی صاحب کے چہرے پر طمانیت طاری ہوئی ۔ وہ مسکرا کر بولے
دیکھا آپ نے، شیطان کیسے اپنے وسوے دلوں میں پھونکتا ہے یقینا ً اس وقت وہ آپ کو سرگوشیاں کر رہا ہے کہ وہاں رزق نہیں ہے ۔ اور یہ کہ رزق کی خاطر جدو جہد بھی عبادت ہے۔
لیکن میرے بھائیو رزق نہ یہاں ہے نہ وہاں ، رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے او ر وہ وہاں بھی آپ کو ملے گا۔ یقین کریں اگر آپ اس نیت سے واپس جائیں گے تو یہی درہم و دینار آپ کو وہاں بھی پہنچیں گے۔ اکثر نمازیوں نے پھر پہلو بدل کر خود کو پرسکون کیا۔

یہ مولوی صاحب سب کو ایک ہی چھڑی سے کیوں ہانک رہے ہیں۔ راشد نے سرگوشی کی۔
خاموش بیٹھو خطبے کے دوران بولنا گناہ عظیم ہے۔ عزیز نے اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔

مولوی صاحب کی آواز پھر گونجی۔
آپ یہاں رہیں گے تو بدکاری کریں گے۔ اگر عورت نہ ملی تو یہ جو درمیانی مخلوق یہاں گلی کوچے گھومتی پھرتی ہے ، مولوی صاحب نے ہلکا سے مسکرا کر ایک ہاتھ ہوا میں لٹکا کر لہرایا، ویسے اُس کے لئے قرآن میں نص نہیں ہے لیکن ہے بہر حال گناہ اور اسی لئے حد جاری کی جا سکتی ہے ، ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ آپ ان کی طرف بہک جائیں گے۔ ویسے یہ بھی شیطان کا بڑا ہی ظالم حربہ ہے بھئی، ہے کہ نہیں ؟ انہوں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر استغفار کی۔

اگر یہاں سے بھی بچ گئے تو پھر اپنی انگلیوں کو حاملہ کریں گے نامردی کی طرف سفر شروع کر دیں گے۔
بھائیو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اسلاف کی طرف دیکھیں جنہوں نے برسوں تنہائی میں گزارے لیکن نظر تک میلی نہ کی ۔ راشد کسمسایا ۔ عزیز نے اُس کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر اُسے جنبش سے بھی منع کیا۔

مولوی صاحب پھر گویا ہوئے۔
بھائیو اگر تم یہاں کسی سے قربت کرو گے تو یہ خدا کا وعدہ ہے کہ وہاں تمھاری بیوی، بھی کسی سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کان کی لوئیں پکڑ کر مولوی صاحب نے بات ادھوری ہی چھوڑ دی۔
خطبہ ختم ہوا ، لوگ نماز کی ادائیگی کے بعد باہر نکلے۔ راشد اور عزیز نے باہر نکل کر چائے کا ایک ایک کپ لیا اور سامنےرکھے ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔
سنا تم نے مولوی صاحب نے کتنی کام کی باتیں بتائیں۔ عزیز نے اترے ہوئے چہرے لیکن چہکے ہوئے لہجے میں  راشد کو ٹٹولا۔
ہاں وہ تو ہے لیکن یار مسئلے سے فرار مسئلے کا حل تو نہیں ہوتا۔ اچھا خیر چھوڑ مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آ رہی؟
وہ کیا عزیز نے گرمجوشی سے پوچھا۔
کہ اگر ہم یہاں کچھ کریں گے تو وہاں ہماری بیوی کیسے۔۔۔۔۔۔
ہاں ں ں ، دیکھا یہی تو بات ہے۔
دیکھو، گندے کو گندی ہی ملتی ہے۔
اور صاف کو ؟ راشد نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
ظاہر ہے صاف کو صاف۔ عزیز نے طنزیہ انداز میں  کہا جیسے راشد کی بے وقوفی پر اُسے رحم آ رہا ہو۔
تو پھر خدا ہماری وجہ سے انھیں زبردستی گندہ کرنے کی بجائے اُن کی خاطر ہمیں اس ضرورت سے بے نیاز کیوں نہیں کر دیتا۔
عزیز پہلے تو کچھ نہ سمجھا اور پھر چائے کا خالی کپ وہیں پھینک کر کیمپ کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے بولا، تمھارے اندر تو شیطان نے ڈیرے ہی ڈال لئے ہیں۔

راشد کے اندر واقعی بے چینی تھی اِس لئے وہ پھر بھی ڈاکٹر کے پاس گیا۔
ڈاکٹر نے اطمینان سے اُس کی بات سنی اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔ عقل مندی اختیار کرو اور دیکھ سن کر سوچ سمجھ کر اپنی ضرورت پوری کرو۔
کیا مطلب راشد نے سمجھ جانے کے باوجود پوچھا۔
محفوظ ترین طریقہ تو ہاتھ ہی ہے۔
لیکن یہ ضرورت یک رخی نہیں ہوتی ، جو ایسا سمجھتے ہیں وہ احمق ہیں۔ کبھی بات کرنے کا دل کرتا ہے، کھیلنے تنگ کرنے یا ناز اٹھانے کا جی چاہتا ہے، اکٹھے گھومنے، کھانے پینے مووی دیکھنے کا دل کرتا ہے۔ میں آپ کو حقیقت بتاؤں کہ آپ روزانہ بھی بازار میں کسی کے پاس جاؤ تب بھی بیڈ پر لیٹ کر دو باتیں کرنے ، بازو پر سر رکھنے یا ٹانگوں میں ٹانگ رکھ کر سونے کی خواہش اپنی جگہ اتنی اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ انسان بے بس ہو جاتا ہے ۔ تمھارا ہاتھ یہ سب کچھ نہیں کرتا اس لئے ضرورت بلکہ ضروریات تو تشنہ رہیں گی۔

لیکن احتیاط اور عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ حل پیسوں کے لحاظ سے بھی قابل عمل ہو ، بیماری وغیرہ بھی نہ لگے اور مستقل دل بھی نہ لگے اس لئے محفوظ ترین طریقہ تو جیسا کہ میں نے کہا اپنی مدد آپ کا ہی ہے ۔ ہاں اگر کوئی دوست میسر ہو سکے تو ٹھیک ہے یا پھر کبھی کبھار بازار کا چکر لگا لو لیکن نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔
لیکن جو بھی طریقہ ہو احساس جرم سے بچنا کیونکہ زیادہ گلٹی فیل کرنے سے نفسیاتی الجھنیں جنم لے سکتی ہیں۔
ڈاکٹر نے چشمہ واپس ناک پر رکھ کر کمپیوٹر سکرین کی طرف دیکھے ہوئے کہا۔
ڈاکٹر صاحب ایک آخری سوال۔
جی ضرور۔
کیا اس خواہش کو مکمل دبانا ممکن نہیں ، کیا انسان مر سکتا ہے اگر کوئی بھی حل اختیار نہ کرے تو۔
دیکھیں جی، ڈاکٹر انتہائی سنجیدگی سے بولا
مرنے کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن یہ انسان کی انفرادی جسمانی و نفسیاتی شخصیت پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک ضرورت محسوس کرتا ہے اور روکنے پر کس حد تک اذیت۔
مرتا تو انسان جیل میں بھی نہیں لوگ عمر قید کی سزا بھی پاتے ہیں تو پھر کچھ دوسرے لوگ اپنے گھروں میں بھی بوریت اور تنہائی سے کیوں چلا اٹھتے ۔ انسان بات کئے بغیر بھی ساری زندگی زندہ رہ سکتا ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جو ایسا کرنے سے پاگل نہ ہو جائیں گے۔
بہر حال اگر آپ ایسا کر سکتے ہیں تو ضرور کیجیے ، خوشی کی بات ہے۔
راشد ڈاکٹر کا شکریہ ادا کر کے باہر نکلا تو کافی حد تک مطمئن تھا۔

اُس رات وہ کافی بہتر نیند سویا اور دو تین دنوں میں ہی عزیز نے بھی یہ تبدیلی محسوس کی۔
راشد کو بتائے بغیر ہی عزیز نے بھی ایک دو بار خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی لیکن فراغت کے بعد مولوی صاحب کے جملے اُس کے ذہن پر ہتھوڑوں کی طرح برسنے لگتے تو وہ سکون کی بجائے اذیت محسوس کرتا اور پھر قسمیں کھا کھا کر خود کو دوبارہ ایسا نہ کرنے کی تنبیہ کرتا۔

راشد کی دوست اُس سے ناراض رہتے رہتے اب غائب رہنے لگی تھی، کبھی اس کا موبائل بند ہوتا، کبھی وہ پیغام کا جواب نہ دیتی اور کبھی دو چار لفظ میں خیر خیریت بتا کر کوئی بہانہ بنا کر رابطہ منقطع کر دیتی۔
لیکن راشد کا انہی دنوں ادب کے مطالعے کی طرف ایسا رجحان ہوا کہ اُس کی دلچسپی باقی معاملات میں کم ہونے لگی۔
مطالعے نے جمود و یکسانیت کو کسی حد تک کم کر دیا تھا اب اُس کی نظریں عورت سے زیادہ کسی ایسے شخص کی متلاشی رہتیں جس سے وہ بات کر سکے اپنی اُن حیرتوں کی شراکت کر سکے جن سے آئے روز اُس کا سامنا ہو رہا تھا۔
عزیز؟
ہونہہ، عزیز نے موبائل پر سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔
دیکھو، کیا کمال کا جملہ لکھا ہے اِس ظالم نے، کیا بات ہے ، واہ
کیا پڑھتا رہتا ہے یار، کن راہوں پر چل پڑا ہے۔
کیا تمھیں پتہ بھی ہے کہ یہ شاعری وائری یہ جھوٹے افسانے مذہب سے دور کرتے ہیں، یہ سب ناجائز کام ہیں میرے یار، عزیز نے اُس پر ترحم کی نظر ڈالتے ہوئے جواب دیا۔
کیا بکواس ہے یار، شاعری نہ سنو، ادب نہ پڑھو، پورن نہ دیکھو، خود کو ہاتھ نہ لگاو، بازار نہ جاو، تو پھر کرو تو کیا کرو راشد جیسے پھٹ پڑا۔
اُس نے موبائل ایک طرف پھینکا اور چائے لینے باہر نکل گیا۔

راشد کے بر عکس عزیز کی گھر پر بات چیت پہلے سے بڑھ گئی تھی۔ وہ جلد از جلد کام نمٹا کر بیڈ پر بیٹھ جاتا اور پھر کمبل سے ہلکی ہلکی سرگوشیوں کی آوازیں آتی رہتیں، اِس دوران وہ باہر جاتا یا باتھ روم میں بھی جاتا تو موبائل اُس کے پاس ہی رہتا اور ویڈیو چیٹ جاری رہتی۔ راشد باہر نکلا تو عزیز نے بیڈ سے چھلانگ لگا کر دروازے کو چٹخنی چڑھائی اور بیوی کو کیمرہ آن کر نے کا میسج کیا۔

مولوی صاحب کا خطبہ سننے کے بعد جوں جوں دن گزرتے جا رہے تھے عزیز کے ذہن میں نئے نئے زاویے وا ہوتے جا رہے تھے ، کڑیوں سے کڑیاں ملتیں اور مولوی صاحب کے الفاظ جیسے تانے بانے کی طرح عزیز کے گرد ایک غلاف بنتے جاتے اور عزیز اُس غلاف میں چھپتا جا رہا تھا۔
بیوی سے بات ختم کر کے وہ بستر پر لیٹا تو طیبعت پر ہیجان کا غلبہ تھا۔ اچانک اُس کے ذہن میں ایک خیال آیا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
ہاں یہ ٹھیک ہے ، لڑکے سے قربت کے دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ کام چاہے برا ہے لیکن اِس کے بارے میں کوئی واضح  نص موجود نہیں ہے اور بڑی بات یہ کہ ایسا کرنے سے بیوی پر اثر نہیں پڑے گا ۔
اُس کے ذہن میں خاموشی سے منطقی عمل کام کر رہا تھا۔
پھر خود ہی ذہن میں اُس خیال کا نتیجہ ابھرا۔
ظاہر ہے اگر میں یہاں کسی لڑکے کے قریب ہوتا ہوں تو وہ وہاں زیادہ سے زیادہ کسی لڑکی سے ہی میل جول کرے گی نا، اُس سے کیا ہوتا ہے، نقصان تو نہیں ہے نا۔
وہ مطمئن سا ہو گیا اور راشد کے آنے سے پہلے ہی کمرے سے نکل کر مارکیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
گزشتہ چند دنوں میں یہ پہلی ایسی بات تھی جو اُس نے راشد کو نہ بتائی اور اُس پر اکیلے عمل پیرا ہونے کا سوچا۔
لیکن کچھ دیر مارکیٹ میں مختلف چہروں اور جسموں کا نظروں ہی نظروں میں جائزہ لینے کے بعد اُس کو محسوس ہوا کہ یہ اتنا آسان نہیں تھا۔
اچھا تو اس کا مطلب ہے ایسا نہیں ہے کہ جو چاہے جب چاہے اپنا ذوق بدل دے ، اس طرف فطری میلان ہوتا ہے یا بالکل نہیں ہوتا وہ ایک مضحکہ خیز سے شخص کو دیکھتے ہوئے خود ہی زیر لب بڑبڑایا۔
لڑکوں کو بغور دیکھنے سے اُسے بدمزگی کا احساس ہونے لگا۔ چڑ کر اُس نے یکے بعد دیگرے تین سگریٹیں پھونکیں اور واپس کمرے کی طرف چل پڑا۔ کمرہ ابھی تک خالی تھا۔

راشد چائے لے کر واپس آیا تو ہنس رہا تھا۔ کیا ہوا عزیز نے ہنسنے کی وجہ پوچھی؟
کچھ نہیں یار یہ شارٹ سرکٹ بہت ہیں یہاں پر۔ شارٹ سرکٹ مطلب؟
وہی ہاتھ لٹکا کر بل کھا کر چلنے والے راشد نے اپنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا۔
عزیز کو ایسے لگا جیسے راشد اُس کے من میں جھانک چکا ہو۔
دفع کرو جس گاوں جانا نہیں اُس کا پتہ کیا پوچھنا، اُس نے منہ پر ناگواری ثبت کرتے ہوئے کہا۔
ہر طرف سے مایوس ہو کر عزیز نے بیوی سے بات چیت کو ہی واحد حل جانا اور طبیعت کو جبرا اُس طرف مائل کرنے کی کوشش کرنے میں لگ گیا۔
ابھی اُس نے گھر کے لئے پیغام لکھا ہی تھا کہ اُسے راشد کی تاسف میں ڈوبی ہوئی سانس کے ساتھ چچ چچ چچ کی آواز سنائی دی۔
کیا ہوا اُس نے بے دھیانی میں پوچھا۔
یہ دیکھو یار، کسی ظالم نے کیا کیا، میاں بیوی تخلیے کی حالت میں وڈیو چیٹ کر رہے تھے اور کسی بے غیرت نے ہیک کر کے وڈیو نیٹ پر چڑھا دی۔
اوہ، عزیز تڑپ کر بستر سے اٹھا اور راشد کے سر پر پہنچ گیا۔ دکھاو تو بھلا۔
کیا دکھاوں، عورت بیچاری نے خود کشی کر لی ہے، یہ دیکھوکیا ظلم ہوا ہے۔
عزیز نے وڈیو کلپ دیکھا اور واپس آکر بستر پر ڈھیر ہو گیا۔اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے صحرا میں طویل سفر کے دوران اُس کے  پاس پانی کا جو واحد مشکیزہ تھا وہ بھی ریت پر انڈیل دیا گیا تھا۔

قمر سبزواری
قمر سبزواری
قمر سبزواری ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ عیسوی کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ملازت شروع کی جس کے ساتھ ثانوی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ صحافت میں گریجوئیشن کرنے کے بعد کالم نگاری اور افسانوی ااادب میں طبع آزمائی شروع کی۔ کچھ برس مختلف اخبارات میں کالم نویسی کے بعد صحافت کو خیر باد کہ کر افسانہ نگاری کا باقائدہ آغاز کیا۔ وہ گزشتہ دس برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “پھانے” کے نام سے شائع ہوا۔دو مزید مجموعے زیر ترتیب اور دو ناول زیر تصنیف ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *