سعودی بادشاہوں کا بادشاہ۔۔۔۔طاہر یسین طاہر

یہ راز ہر بندہء مومن کو معلوم تھا، بلکہ ساری دنیا جانتی تھی، ٹرمپ نے سرِ بازار نعرہ بلند کیا اور اس کھلے راز کی وہ پرتیں بھی کھول دیں، جو قدرے پوشیدہ تھیں۔ ان جبہ سازوں کا مان ٹوٹا جو سمجھتے تھے کہ خادمین حرمین شریفین کا محافظ اللہ پاک ہے۔ بے شک اللہ رب العزت سب سے بڑا محافظ اور کارساز ہے، مگر زمینی حقائق، سماجی جزئیات اور سیاسی حرکیات جذباتیت کے بجائے کسی اور چیز کا تقاضا کرتے ہیں۔ وہ ہے عقل، درست تجزیہ اور علم و جستجو۔ تحقیق، جدید ٹیکنالوجی میں لگن، ہمت اور معاشی و اخلاقی برتری۔ اگر کوئی سماج جدید ٹیکنالوجی کو ابتدا میں اپنانے سے گھبراتا رہے اور اس کے خلاف فتوے جاری کرتا رہے تو اس نے خاک ترقی کرنی ہے؟ صرف سعودی عرب نہیں پورے عالم اسلام کا مشترک مسئلہ جدید ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ جانا ہے۔ جب ایسی صورت حال ہو تو مسلم سماج کو عالمی برادری میں رسوائی اور ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

اللہ صرف مسلمانوں کا نہیں، تمام کائنات کا خالق و مالک ہے۔ جو محنت کرے گا، وہ پھل پائے گا۔ بہت پرانی مگر آسانی سے سمجھ آجانے والی مثال ہے۔ لائوڈ اسپیکر اور مائیک وغیرہ کے استعمال کے خلاف فتوے دیئے گئے۔ فلسفہ کی تعلیم کو حرام کہا گیا۔ اب مگر فلسفہ بھی پڑھا اور پڑھایا جا رہا ہے اور لائوڈ سپیکر تو واجبات میں سے سمجھ لیا گیا ہے۔ چیزوں کو جذباتی فہم سے دیکھنے اور سمجھنے کے بجائے عقل اور استدلال سے کام لینے والے سماج کے حصے میں آبرو آتی ہے۔ حجاز سے سعودی عرب تک کے تاریخی سفر پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ 92 سالوں سے آلِ شریف کو کس کی پشت بانی حاصل ہے۔ بلامبالغہ امریکہ و برطانیہ کی۔ اگر امریکی و یورپی کمپنیاں نہ ہوتیں تو بھلا اونٹوں پہ سفر کرنے والے زیرِ زمین خام تیل کو کیسے حاصل کرتے؟ کیسے اس خام تیل کو ریفائن کیا جاتا؟ اور اس کی ترسیل وغیرہ کا اہتمام کیسے کیا جاتا؟ یہ کہہ دینا بڑا آسان ہے کہ دنیا مسلمانوں کی دشمن ہے۔ بے شک زمینی حقائق ایسے ہی ہیں، مگر خود مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں۔؟

آبادی بڑھتی ہے تو ضرورتیں بھی بڑھتی ہیں۔ جب ضرورتیں بڑھتی ہیں تو طلب کے مقابلے میں رسد کی ضرورت بھی اسی تناسب سے دیکھی جاتی ہے۔ دنیا کو اپنے جھمیلوں سے نمٹنے کے لئے تیل کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ قدرت کا کرشمہ دیکھیئے کہ خام تیل عربوں کی زمین پر ہے، مگر اسے ریفائن امریکی کرتے ہیں۔ یہ وہ نقطہ ہے جسے مسلم دنیا نے نظر انداز کیا۔ خود علم و تدریس اور تحقیق کے میدان سے بھاگے۔ ماضی پرستانہ رویے نے سہل پسند کیا ہوا ہے اور نتیجہ سب کے سامنے۔ دنیا کا وہ کون سا ملک ایسا ہے، جس نے کسی نہ کسی مسلم ملک کو دھمکی نہ دی ہو؟ عرب بادشاہوں، بالخصوص آل ِسعود کو اپنی بادشاہت کو قائم رکھنے کے لئے کئی ضروریات یکمشت آن پڑی ہیں۔ آل سعود پر شاید ہی اس سے کڑا وقت پہلے آیا ہو۔ امریکہ براہ راست آل سعود کے سامنے آن کھڑا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی فرماں رواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی حکومت امریکہ کی فوج کی مدد کے بغیر 2 ہفتے بھی نہیں چل سکتی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد یہ واشنگٹن کی جانب سے خلیج میں اپنے سب سے قریبی اتحادی پر دباؤ تصور کیا جا رہا ہے۔ امریکی ریاست مسیسیپی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کی فوجی مدد کے بغیر سعودی حکومت قائم نہیں رہ سکتی، جبکہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق 29 ستمبر کو آخری مرتبہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی فرماں رواں شاہ سلمان کے درمیان رابطہ ہوا تھا، جس میں انہوں نے تیل کی پیداوار، منڈیوں میں استحکام کے لئے تیل کی فراہمی کی کوششوں اور عالمی اقتصادی ترقی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ دنیا بھر میں کم ہوتی ہوئی تیل کی پیداوار کو مدِنظر رکھتے ہوئے معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ ماہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی تیز رفتاری سے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور تیل کے حوالے سے امریکی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی صدر نے خلیج میں اپنے سب سے اہم اور قابل اعتماد اتحادی پر براہ راست دبائو ڈالا ہے، تاکہ تیل کی قیمتوں میں استحکام لایا جاسکے۔ بہ ظاہر وجہ یہی ہے مگر ٹرمپ کے ذہنی رحجانات اور جارحانہ رویئے پر نظر رکھنے والے یہ جان سکتے ہیں کہ موجودہ امریکی صدر میں احساس برتری دنیا کے ساتھ امریکی تعلقات کو کمزور اور کم اعتماد کرتا جا رہا ہے۔ خام تیل کی عالمی ضروریات اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہٹ کر بھی اگر مسئلے کو دیکھا جائے تو جمہوریت جمہوریت کا جعلی کھیل کھیلنے والا امریکہ دنیا میں سب سے جارحانہ اور غاصب بادشاہت کا براہ راست محافظ ہے، جو کہ عالمی برادری کے لئے تشویش ناک بات ہے۔ جذباتیت درست تجزیے کی راہ مین رکاوٹ ہوتی ہے۔ ورنہ ٹرمپ نے کوئی غلط بھی نہیں کہا، بے شک آل سعود اپنی بادشاہت کے تحفظ کے لئے اربوں ڈالرز خرچ کرتے ہیں، مگر تا بہ کے؟ ایک نہ ایک دن سعودی عرب میں بھی منتخب حکومت آئے گی اور وہ دن شاید جلد آجائے

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *