شاہی سواری۔۔۔۔شکور پٹھان

خوبصورت سے بازار میں زیادہ تر پھلوں اور سبزیوں کی دکانیں تھیں اور سارے پھل اور سبزیاں بے حد خوشنما۔ ساتھ ہی قہوہ خانے اور چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں جن میں نوادرات اور مقامی دستکاریاں اور سجاوٹ کے سامان کے دکانیں زیادہ تھیں۔ کریانے کی دکانوں میں روز مرہ کی اشیائے خوردونوش کے ساتھ شراب کی بوتلیں بھی تھیں۔
صاف ستھری اور ہلکی سی خنک ہوا میں ایک تازگی تھی۔ ہم دائیں بائیں دکانوں اور بازار کا نظارہ کرتے ہوئے چڑھائی نما سڑک پر آگے بڑھ رہے تھے۔ نوجوان، سرخ وسفید ، خوش پوش اور خوش باش ” پینارز” آگے آگے تھی۔
یہ ہماری گائیڈ تھی اور ہم استنبول کے قریب واقع بارہ جزیروں میں سب سے خوبصورت ” پرنسز آئی لینڈ “یعنی شہزادوں کے جزیرے کی گلیوں سے گذر رہے تھے۔ پینارز ایک تنگ سی گلی میں مڑ گئی جس کے اختتام پر ایک بڑا سا چوک تھا۔۔چوک کے بیچ کئی گھوڑا گاڑی والے کھڑے آوازیں لگا رہے تھے اور فضا میں گھوڑوں ، گھاس اور لید کی مخصوص بو تھی۔ ایک کوچوان سے کچھ باتیں کرکے پینارز ہماری جانب بڑھی۔

” آپ دونوں اس میں سوار ہوجائیں۔ میں یہیں آپ کا انتظار کروں گی۔ جزیرے کے اختتام پر ایک جگہ خچر کی سواری کا بھی انتظام ہے آپ اس سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ میں نے ادائیگی کردی ہے۔ میں آپ کو سامنے والے کیفے میں ملوں گی۔ ”
میں نے بیگم کو سہارا دے کر ٹم ٹم میں چڑھایا لیکن وہ مجھ سے زیادہ تانگا سواری کی عادی معلوم ہوتی تھیں ، باآسانی سوار ہوگئیں۔ میں نے بھی اپنا کیمرہ اور ویڈیو کیمرہ ان کے حوالے کیا اور گھوڑا گاڑی پر چڑھ گیا۔
“خُداحافِظ” پینارز نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلائے۔

تانگے والے نے ” اوئے!!! بچ موڑ توں!!! قسم کی آواز لگائی اور تانگے کو چوک سے باہر ایک جانب چڑھائی چڑھتی سڑک پر ڈال دیا ۔ ” ٹپ ٹاپ، ٹپ ٹاپ، جھن جھن ، ٹپ ٹاپ، جھن جھن” گھوڑے کی ٹاپوں اور گلے میں لٹکی چھوٹی سی گھنٹی کی آواز مجھے کسی اور ہی دنیا میں لے گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچنا آو جانے والے میں تجھ پہ واری
ٹکرا نا جائے کہیں ‘ شاہی سواری’
روتا پھرے گا گھر والا، پھرے گا گھر والا
میں ہوں البیلا تانگے والا،
گھوڑا پشاوری میرا، تانگہ ہے لاہوری میرا
بیٹھو میاں جی بیٹھو لالہ۔۔۔میں ہوں البیلا تانگے والا۔۔میں ہوں البیلا تانگے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بندر روڈ سے کیماڑی
میری چلی رے گھوڑا گاڑی
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہووو۔۔ہووو۔ تانگے والا خیر منگدا
تانگا لہور دا ہوئے تے بھاویں جھنگ دا
تانگے والا خیر منگے دا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھوڑے کی ٹاپ اور تانگے کے ہچکولوں نے میرے دل ودماغ میں کئی فلمیں سی چلا دی تھیں۔ ایک کے بعد ایک فلمی گیت یاد آتا۔۔ کوچوان پر نظر پڑتی تو”۔ دل میں چھپا کے پیار کا طوفان لے چلے” لبوں پر مچلنے لگتا۔۔ شریک حیات کی جانب دیکھتا تو” کوئی پیار کی دیکھے جادوگری، گلفام کو مل گئی سبز پری” دماغ میں گھنٹیاں بجاتا تو کبھی ” بچپن کے دن بھلا نہ دینا، آج ہنسے کل رلا نا دینا” قسم کے گیت ذہن میں گونجنے لگتے۔۔

یہ آخری بار تھا جب یہ گلفام اس ” شاہی سواری ” میں سوار ہوا تھا۔

یہ شاہی سواری کبھی ہماری زندگی کا حصہ ہوا کرتی تھی۔۔ یہ خالصتاً عوامی سواری تھی جس میں امیر غریب سب سوار ہوتے لیکن میرے لئے یہ ہمیشہ شاہی سواری رہی کہ جب کبھی اس میں بیٹھنے کا موقع ملتا اپنے آپ کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کرتا۔۔ گو کہ ایک عوامی سواری کی طرح اس میں کوئی بھی سوار ہوسکتا تھا لیکن بعض اوقات ہم ” سالم تانگا” بھی کرتے جس میں صرف ہم ہی ہم یعنی ہمارے گھر والے ہوتے۔
مجھے ملک کے دوسرے شہروں کا تو نہیں علم، لیکن میرے شہر سے سالہا سال پہلے یہ سواری غائب ہوگئی۔ مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ یہ کسی سرکاری حکمنامے کے تحت بند ہوئی ، جیسے ساٹھ کے عشرے کی ابتدا میں سائیکل رکشہ بند کئے گئے اور بجا طور پر بند کئے گئے۔ یا بڑھتی ہوئی ٹریفک اور تیز رفتار زندگی کی وجہ سے یہ خود بخود غائب ہوتے چلے گئے۔ کراچی میں ٹرام شاید پچھتر کے عشرے تک چلتی رہی لیکن گھوڑا گاڑی کب غائب ہوئی شاید ہی کسی کو یاد ہو۔ البتہ صدر، اورسولجر بازار میں ایک آدھ ، سالخوردہ اور میلا کچیلا سا ” وکٹوریا” نظر آجاتا ہے جن میں مریل سے گھوڑے جتے ہوتے ہیں۔
پاکستان میں آخری بار میں نے شاید میرپور خاص میں تانگے کی سواری کی تھی۔ اس سے پہلے بھی حیدرآباد میں رکشہ ٹیکسی کے بجائے تانگے میں ہی بس اڈے سے ہوٹل تک تانگے میں ہی گیا تھا۔ اور بہت سال پہلے جب اپنے پھوپھا کے خاندان کے ساتھ سیہون شریف گئے تھے تو وہاں بھی صرف تانگے کی سواری ہی میسر تھی۔ اور یہ تانگے والا گائیڈ کے فرائض بھی انجام دیتا تھا اور سیہون شریف سے متعلق کرامات اور واقعات بتاتا جاتا تھا۔

ایک ہی بات بار بار دہرانا اچھا نہیں لگتا، لیکن کیا کروں میرا بچپن گذرا ہی لیاری، بہار کالونی میں تھا ۔ ان دنوں ہمارے ایک قریبی ترین عزیز جن کا پی ای سی ایچ سوسائٹی میں مکان زیر تعمیر تھا، لی مارکیٹ میں سلطان ہوٹل میں رہتے تھےاور ہم اکثر وبیشتر وہاں جایا کرتے۔ بہار کالونی سے گیارہ نمبر بس چلا کرتی تھی لیکن ہم زیادہ تر تانگے میں ہے لی مارکیٹ جاتے۔ راستے میں رانگی واڑہ اور چاکی واڑہ سے گذرتے ہوئے ٹینری کے کارخانوں کی ناقابل برداشت بو ناک میں آتی لیکن لی مارکیٹ پہنچ کر مجھے لگتا کہ لندن میں آگیا ہوں۔۔ میں جب بھی لی مارکیٹ ، صدر، پاکستان چوک یا بندر روڈ آتا مجھے یونہی محسوس ہوتا کہ بہار کالونی انتہائی پس ماندہ اور قدیم بستی تھی۔
خیر بات میری شاہی سواری کی ہورہی تھی۔ میرے ان عزیز کا مکان مکمل ہوگیا اور وہ پی سی ایچ ایس میں اپنے نئے گھر میں منتقل ہوگئے۔ ان کا گھر سوسائٹی آفس سے کچھ آگے چند گلیاں چھوڑ کر تھا۔ اب ہم بس سے گُرو مندر تک آتے اور یہاں سے تانگے میں سوار ہوکر سوسائٹی آفس تک آتے، اور اگر ” سالم تانگا” کیا ہو تو گھر تک لے آتے۔
کراچی میں شاید یہیں”روٹ” تھے جو میں نے استعمال کئے۔ یا پھر بہت پہلے یعنی سن ساٹھ یا اکسٹھ میں جب میرے چچا بذریعہ بحری جہاز بحرین جارہے تھے تو ہم سب انہیں الوداع کہنے بہار کالونی سے کیماڑی تک تانگے میں ہی آئے تھے اور مجھے نیٹی جیٹی کے پل ، جہاں دائیں بائیں سمندر تھا، پر سے ” ٹپ ٹاپ، ٹپ ٹاپ” کرتے گزرتا تانگہ یاد ہے۔
شہر میں مجھے تانگہ سواری کا بہت زیادہ یاد نہیں البتہ ‘بگھی ‘ یعنی وکٹوریہ کی سواری یاد ہے لیکن وہ چند ایک بار ہی ہوئی ۔ شاید اس کا کرایہ زیادہ ہوا کرتا تھا کہ یہ نسبتا پر تعیش سواری تھی۔ تانگہ جس میں دو پہیے ہوتے ہیں اور سواری آگے اور پیچھے کی جانب بیٹھتی ہے اور کوچوان ، سواریوں کی جسامت دیکھ کر آگے پیچھے بٹھاتا تھا کہ تانگہ ” اُلار” رہے۔ اس کے باوجود اس میں ہچکولے لگتے رہتےاور کہیں سڑک پر کوئی روڑا یا پتھر پہئیے کے نیچے آتا تو تانگہ لہرا جاتا اور کوچوان نجانے کسے بلند آواز سے گالی دیتا۔
بگھی میں چار پہئیے ہوتے تھے ( ہیں) ۔ اور یہ نسبتا ہموار اور پرسکون سواری ہوتی۔ اس میں سواریاں آمنے سامنے بیٹھتیں اور گپ شپ لگاتیں۔ اسی لئے اکثر شہر کےرؤساء ، بوڑھے پارسی، اور نوجوان گوانیز جوڑے اس شاہی سواری میں ہوا خوری کرتے صدر، فریر ہال، اور کلفٹن جاتے نظر آتے۔
گھوڑا گاڑی کی ایک اور قسم ” یکّّہ” تھی۔ جس میں بھی دو ہی پہئیے ہوتے لیکن اس میں سواری کا رخ صرف گھوڑے کی جانب ہی ہوتا۔ یہ عموماً مال ڈھونے جیسے کاموں میں استعمال ہوتا۔ مجھے یاد ہے کورنگی میں ہمارے محلے میں گوالوں کے پاس یہ یکّے ہوتے جس میں دودھ کے ڈرم رکھ کر لے جائے جاتے۔
سوسائٹی میں ہی میرے ایک عزیز کی راشن اور کریانے کی دوکان تھی۔ یہاں ہر ہفتے بروک بانڈ اور لپٹن چائے والے وکٹوریہ میں ہی ” سپلائی” دینے آتے۔ادھر کورنگی میں جہاں ان دنوں بجلی نہیں تھی کبھی کبھار کانوں میں لاؤڈ اسپیکر کی آواز آتی جہاں کوئی نعتیں پڑھتا یا تقریر کرتا سنائی دیتا۔ جس کےآخر میں نہایت پرسوز آواز میں یتیم خانہ حمایت السلام کے لئے چندے کی اپیل کی جاتی۔ یہ سب ایک تانگے ہی سے ہورہا ہوتا جس میں بیٹری ، ایمپلی فائر، مائیک اور اسپیکر سے لیس یتیم خانےوالے چندے کی اپیل کرتے۔
کبھی کبھار اسی قسم کے تانگے سے آواز آتی ” حضرات ایک اعلان سنئیے!! متحدہ محاذ کی صدارتی امیدوار، مادرےےےے ملت، محترمہ فاطمہ جناح اتوار پچیس نومبر کو،شام پانچ بجے ، پٹیل پارک میں، ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب فرمائیں گی۔ جلسے سے نوابزادہ نصراللہ خان، چوہدری محمد علی اور ظہیر الحسنیں لاری بھی خطاب فرمائینگے۔ آپ حضرات سے درخواست ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوکر اس جلسے کو کامیاب بنائیں۔۔۔ حضرات ایک اعلان سنئیے۔۔۔۔۔”
یہ تانگا جہاں کہیں جاتا بچوں کا غول ساتھ ہوتا۔ کچھ بچے ٹانگے پر لٹکنے کی کوشش کرتے تو اعلان کے درمیان ڈانٹ ڈپٹ اور بعض اوقات گالیاں بھی سنائی دیتیں۔
اور اس لٹکنے پر یاد آیا کہ گو کہ میرا خیال ہے کہ میں بچپن میں ایک شریف بچہ ہوا کرتا تھا لیکن میرے گھر والے، رشتہ دار اور محلے والے نجانے کیوں ایک مختلف رائے رکھتے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم اپنے نانا کے گھر یعنی ہندوستان کے قصبہ ” اورن ” میں آئے ہوئے تھے۔ نانا کے گھر کا سامنے سے اورن کی بندرگاہ ” مورا” سے بازار کی طرف جانے والے تانگے گذرتے تھے۔
میں سارادن گھر سے باہر یا تو گلیوں میں ایلا گیلا گھومتا رہتا ، کسی سوتے ہوئے کتّے کو پتھر مار کر اٹھاتا، یا یہاں وہاں منہ مارتی بے لگام گایوں کی دم مروڑ کر بھاگ جاتا، یا سڑکوں کے کنارے جٹا دھاری برگدوں کی شاخوں سے لٹکتا رہتا۔ ایسی میں کبھی کوئی تانگہ گلی سے گذرتا اور اس میں پیچھے کی جانب کوئی مسافر نہ بیٹھا ہوتا تو دوڑ کر پچھلے حصے میں سوار ہوجاتا۔ اور جب وہ گلی کے نکڑ پر بازار جانے والی پکی سڑک پر مڑنے کے لئے آہستہ ہورہا ہوتا تو چھلانگ مار کر اتر جاتا۔۔ میرا یہ آپریشن اکثر کامیاب ہوتا لیکن ایک دن جب میں تانگے کے پچھلے حصے میں مزے سے ” چڈی” لے رلا تھا ، میرے چہرے پر گویا کہ یوں محسوس ہوا کہ کسی نے تیزاب پھینک دیا ہوا۔ میں نے بے ساختہ نیچے چھلانگ لگادی اور یہ مخالف جانب چھلانگ تھی۔ کچھ دیر میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے، ہوش سنبھلے تو دیکھا کہ میں گرد میں لت پت سڑک پر چاروں شانے چت پڑا ہوں۔ ساتھ ہی چہرے پر ہاتھ گیا جہاں شدید جلن ہورہی تھی۔
دراصل کوچوان نے پچھلے حصے میں ایک غیر قانونی سواری کو راہ راست پر لانے کے لئے پیچھے کی جانب چابک چلا دیا تھا جس کا سب سے فعال حصہ یعنی سرا ، میرے چہرے پر پڑا تھا۔ کچھ دیر بعد میں گھر والوں کے سامنے بیٹھا بسور رہا تھا۔ چہرے پر ہلدی کا لیپ اور نجانے کیا کیا الا بلا تھوپ دیا گیا تھا۔ساتھ ہر ایک حسب توفیق ومراتب ڈانٹ پھٹکار بھی کرتا جارہا تھا۔ ایک آدھ کوسنا اس کوچوان کے بھی حصے میں آتا۔ ساتھ ہی کچھ پیسے میرے سر سے وار کر فقیر کو دینے کے لئے نکالے گئے کہ شکر ہے آنکھ بچ گئی۔
شاہی سواری کے حوالے سے یہ قصہ یاد آیا تو یہ بھی سن لیں کہ آخری بار یعنی سن بیاسی میں جب ہندوستان جانا ہوا تھا ان دنوں بھی اورن میں تانگے چل رہے تھے گوکہ اب آٹو رکشہ بھی بہت ہوگئے تھے۔بمبئی میں تو میں نے گھوڑا گاڑی نہیں دیکھی لیکن اجمیر، آگرہ اور دہلی میں تانگوں کی خوب سواری کی۔ مجھے نہیں پتہ کہ اب بھی وہاں تانگے چل رہے ہیں یا نہیں۔

چلئے اپنے شہر واپس آتے ہیں ۔ میں نے ترکی میں گھوڑا گاڑی پر سوار ہونے کے ذکر میں کہا تھا کہ میری بیگم آسانی سے سوار ہوگئی تھیں۔ دراصل انہیں تانگوں کی عادت اپنے اسکول کے زمانے سے تھی جب وہ اور انکے کزنز وغیرہ سالم تانگے میں اسکول آیا جایا کرتے تھے.

تانگہ جو کبھی ہماری زندگیوں کا حصہ ہوا کرتا تھا جس سے بعض دوستوں کے ذہن میں گندی سڑکوں کا خیال آسکتا ہے وہ یہ بھی جان لیں کہ جن دنوں بندر روڈ سے کیماڑی ، میری گھوڑا گاڑی چلا کرتی تھی ان دنوں شہر کی سڑکیں روزانہ دھلا کرتی تھیں اور آج سے جب یہ گھوڑا گاڑیاں کہیں نظر نہیں آتیں ، زیادہ صاف ستھری نظر آتی تھیں۔

ترکی کے پرنسسز آئی لینڈ میں صرف گھوڑا گاڑیاں اور سائیکلیں چلانے کی اجازت ہے ۔ موٹر کار اور آٹوموبائیل وغیرہ کی وہاں اجازت نہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ جزیرے کے باسیوں کو آلودگی سے پاک ماحول اور ایک قدرتی ورزش مل جاتی ہے۔ وہاں اسی نوے سال کے بوڑھے بوڑھیاں بھی آپ کو سرخ وسفید اور چاق و چوبند نظر آئیں گے۔

اب انسانوں کے ساتھ جانور بھی آزاد ہورہے ہیں۔اور انہیں آزاد ہونا بھی چاہئیے ۔ لیکن اگر جانور کی طاقت سے زیادہ کام نہ لیا جائے اوران کی صحت وتندرستی کا مناسب خیال رکھا جائے اور اس کے لیے قانون سازی کی جائے تو میرا خیال ہے کہ مخصوص علاقوں میں اس سواری کی اجازت دے کر نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی کی جاسکتی ہے بلکہ پیٹرول کی بچت بھی ہوسکتی ہے۔ ساتھ ہی عام النِاس کو ایک سستی عوامی سواری میسر آسکتی ہے جو میرے لئے شاہی سواری سے کم نہیں۔

جیسے جیسے دنیا سے بادشاہت کا خاتمہ اور جمہوریت کا رواج ہوتا جارہا ہے یہ شاہی سواری بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ اور مجھے بھی علم ہے کہ میری بادشاہت چھن چکی ہے اور اب یہ شاہی سواری صرف کسی نمائش یا میلے ، یا شادی بیاہ میں ہی دیکھنے مل سکتی ہے۔ لیکن پکی سڑک پر دوڑتے تانگے کی ٹپ ٹاپ ، ٹپ ٹاپ اور جھن جھن کی مسحور کن دھن کہاں سنائی دے گی اور اس پر کوچوان کی یہ تان
” ہررررر۔۔۔اوئےےےےے، بچ موڑ توں۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *