• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مذہبی مدارس کا نظامِ تعلیم:ایک رائے۔۔۔پروفیسر ڈاکٹر شاہین مفتی

مذہبی مدارس کا نظامِ تعلیم:ایک رائے۔۔۔پروفیسر ڈاکٹر شاہین مفتی

حمداللہ نے مدارس پر فوج کے تسلط کے بارے ایک بہت شاندار بات کہی ہے کہ    “مدارس کو قومی دھارے سے الگ کرکے جو فوج کے حوالے کیا گیا ہے تو کیا سپہ سالار سیکریٹری ایجوکیشن اور ان کے دست ِ راست مسٹر غفور ماہر ِ تعلیم ہیں”۔۔۔

بات تو پتے کی ہے۔حافظ سعید کی گرفتاری کے سوال پر ایکس آرمی مین بریگیڈیئر اعجاز شاہ نے بھی فرمایا تھا کہ “ہم نے ان سے ویلفیئر کے ادارے لے لیے ہیں”۔

پاکستان کا مدرسہ سسٹم اسی ابتدائی  انگریزی نظام ِتعلیم سے مشابہہ  ہے جسے کلیسائی  اور قبرستانی نظام کے تحت خانقاہی نظام کی شکل قرار دیا جاتا ہے۔اصحاب ِصفہ کی تعلیم ہو ،مسجد ِ نبوی کے حجرے ہوں یا اہلِ تشیع کے مزارات اور ضریحوں کی متصل تعلیمی زیارت گاہیں، سب اپنے مخصوص طریقہء تدریس پر قائم ہیں۔
پاکستانی مزارات، ان کے حجرے ،درس گاہیں ۔۔شاگرد پیشہ ایک خاص تعلیم و تربیت اور نظریے کے ساتھ ساتھ اپنے ایک مخصوص دینی طریقہء کار اور محدودطرز ِزندگی کے اسیر  ہیں۔دوسرے ممالک میں اسی طرزِ تعلیم کی عزت بھی کی گئی  اور اسےاپنے تشخص کا ذریعہ بھی سمجھا گیا۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس سسٹم میں پرورش پانے کے باوجود اسے ترقی، جدیدیت اورانسانی آگہی کی علامت نہیں سمجھا گیا بلکہ اس طرز ِ حیات کو شکوک وشبہات اور گناہ گاری کی نظر سے دیکھا گیا۔ہندوستان کی جامعہ ملیہ، ندوۃالاعلما ،دیو بند اور اسی قبیل کے مذہبی اداروں سے فیض اٹھانے والے پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی کئی  طرح کے تعصّبات کے اسیر ہوئے،یہاں مذہبی فرقہ واریت کے کئی  مظاہرے ہوئے ،جو قادیانیت کے خلاف احتجاج سے ہوتے ہوتے اسلام آباد کی لال مسجد تک آن پہنچے۔۔۔۔

تحریک المجاہدین اور تحریک المسلمین تبلیغ کے اگلے درجے میں داخل ہوئیں۔مدارس کے سیدھے سادھے حفاظ اور مولوی  ،شاگرد پیشہ کی کلاشنکوفوں کے سائے تلے بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے اور پنج ستارہ ہوٹلوں میں قیام کرنے لگے۔۔۔۔ہماری حکومتوں نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔غیر ملکی امدادوں سے چلنے والے یہ مدرسے باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ اختیار کر گئے۔پہلے یہ محکمہء اوقاف کی سر پرستی میں تھے پھر انہیں وزارت ِصنعت کے ماتحت کر دیاگیا،بار بار انکے طریقہء تعلیم کو چیلنج کیا گیا ،ان کے طلباء کی بے چارگی و لاوارثی کو بلیک میل کرتے ہوئے دنیا بھر سے چندے مانگے گئے۔فلاح و بہبود کے نام پر ان کی تضحیک کی گئی  اور پھر ان کا نام دہشت گردوں کی لسٹ میں لکھ دیا گیا۔یہ وہی ہیں جنہیں دنیاوی جہنم میں گھسیٹتے ہوئے آسمانی جنت کی ابدی زندگی اور بڑی بڑی آنکھوں والی ایمان شکن حوروں کے خواب دکھائے گئے ۔انہیں خودکش حملوں میں استعمال کیا گیا اور شہادت کی سندیں عطا کی گئیں۔۔۔خدا جانے ان کے تعلیمی بورڈ وفاق المدارس کا کیا بنا۔ پورے پاکستان میں بانٹے جانے والے لیپ ٹاپ میں سے انہیں کتنے ملے۔۔۔لیکن بنیادی طور پر ان مدرسوں کے شب وروز میں کوئی واضح تبدیلی نہیں آئی ۔۔۔۔

وفاقی وزیرِ تعلیم کا ان ثانوی تعلیمی اداروں سے براہِ  راست کوئی  علاقہ نہیں، سوائے اس کے کہ ان مدارس کے نام پر عالمی اداروں اور اسلامی ممالک سے رقم قومی خزانے میں جمع کی جائے۔وفاق کا حدوداربعہ اسلام آباد اور اس کے متصل محدود علاقے ہیں اوردائرہء تعلیم یونیورسٹی ایجوکیشن۔

مدارس کی تعلیم اور افراد( جن کی تعداد  لاکھوں میں ہے) کو قومی دھارے میں لانے کے لیے اور پاکستانی مسلمان کا بین الاقوامی تشخص بحال کرنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ وفاق المدارس کی تجویز پر غور کرے تاکہ پاکستان کے تمام مدارس میں ایک معیاری نصاب نافذالعمل ہو ۔امتحانی طریقہء کار واضع ہو اور ان اداروں سے فارغ التحصیل طالب علموں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو ثانوی اورسیکنڈری ایجوکیشن کی طرح انہیں بھی دیگر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی طرح صوبائی  حکومتوں کی تحویل میں دے دیا جائے۔

فوج کے مقامات مقاصد اور مدارج ان مدرسوں کی حفاظت اور ان کی تعلیمات میں مداخلت سے بہت آگے ہیں۔۔ایک روشن خیال پاکستان میں مذہبی تعلیمات کو ان خدائی  احکامات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے جو شعورِ ذات سے تسخیرِ کائنات تک راستہ استوار کرتے ہیں۔۔

ڈاکٹر شاہین مفتی
ڈاکٹر شاہین مفتی
پروفیسر ڈاکٹر اردو ادب۔۔شاعر تنقید نگار کالم نگار ۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *