• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • اینٹی میٹر (ضد مادہ) دُنیا کا سب سے قیمتی مادہ۔۔۔۔نعمان رؤف ہاشمی

اینٹی میٹر (ضد مادہ) دُنیا کا سب سے قیمتی مادہ۔۔۔۔نعمان رؤف ہاشمی

فزکس میں میتھ کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے کوانٹم سے لے کر تھیوری آف ریلٹیویٹی تک تمام تر اشیاء کو مکمل تفصیل سے بیان کرنے کیلئے میتھ کا سہارا لیا جاتا ہے اور میتھ کی ہی مدد سے ان عوامل کی پیش گوئیاں کرنے میں مدد ملتی ہے اور میتھ ہی کی مدد سے ہمیں 19 صدی میں اینٹی میٹر کی موجودگی کا پتہ چلا تھا

فزیسسٹ Paul Dirac نے 1920 ایک ایکویشن پیش کی جس کی مدد سے روشنی کی رفتار کہ قریب سفر کرتے الیکٹران کہ رویہ کہ بارے میں جانا جا سکتا تھا مگر یہاں پر ایک پُرابلم یہ بھی تھی کہ یہ ایکویشن ہر دفعہ دو صورتوں میں جواب مہیا کرتی تھی تو paul Dirac نےایک صورت کو الیکٹران کا رویہ قرار دیا اور جب کہ دوسرے رویہ کو اینٹی الیکٹران کا نام دیا گیا اور ایکویشن کہ دوسرے سولیوشن کا اینٹی میٹر کا نام دینے میں کہیں سالوں کا عرصہ لگا گیا کیونکہ وہ ایکویشن میں ایسے ملنے والے دو جوابات کو Math کا Artifact سمجھ رہے تھے

(2)²=4
(-2)²=4
(+2)²=4
یعنی کہ میتھ کی صورت میں جمع یا نفی رقم ہونے کہ باوجود جواب ایک جیسا ہی آ رہا ہے

فزیسسٹ کارل اینڈریسن نے 1932 میں ایک تجرے کہ دوران ایک ایسا ذرہّ مشاہدہ کیا جو ماس کہ اعتبار سے الیکٹران کہ برابر تھا مگر چارج میں مختلف تھا وہ مگنیٹک فیلیڈ میں الیکٹران کی مخالف سمت میں موجود تھا اُس نے اس پارٹیکل پازیٹران کا نام دیا جو کہ الیکٹران کا اینٹی پارٹیکل تھا اس سے ہمیں اینٹی میٹر کی موجودگی کہ تجرباتی شواہد بھی مل گئے

اسی چیز کو آگے لے کر چلتے ہوئے Paul dirac نے اینٹی پروٹان کہ اینٹی پروٹان کو فزیسسٹ Emilio Segrè اور Owen Chamberlain نے 1955 Braviton Particle Accelerator کی مدد سے ڈسکور کیا گیا جس کی بنیاد پر انہیں 1959 میں نوبل پرائز سے نوازہ گیا

اسی طرح Dirac کی اس تھیوری کہ مطابق کوارکس کی طرح اینٹی کوارکس بھی ملکر اینٹی پروٹان بنا سکتے ہیں اور پھر اینٹی پروٹان، اینٹی الیکٹران ملکر اینٹی ایٹمزبھی بنا سکتے ہیں

مادہ جو عام حالت میں ہر جگہ موجود ہے جس سے اس تمام کائنات میں نظر آنے والی ہر چیز کا وجود ہے اور اسطرح اس کائنات میں موجود کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہیں ان سب میں ایک چیز اینٹی میٹر (ضد مادہ) بھی ہے جو وجود تو رکھتا ہے مگر ہمارے عام موجود مادہ جس سے ہم واقف ہیں اُس سے مختلف ہے یہ ماس اور سپن اور چارج جیسی خصوصیات عام مادے کی طرح ہی رکھتا ہے مگر اس میں اور عام موجود مادہ میں ایک واضح فرق یہ ہے اپنےجیسے پارٹیکل سے ہمیشہ مختلف چارج اور سپن رکھتے ہیں جیسے الیکٹران عام مادہ کا حصہ ہے اس کا اینٹی پارٹیکل پازیٹرن ہے جو ماس کہ اعتبار سے بالکل اس کہ جتنا ماس کا حامل ہے مگر چارج میں اس کہ بالکل انورس ہے جس طرح آپ کسی جوڑے کی بات کرتے ہیں جس میں ایک مادہ اور دوسرہ جنس نر ہوتا ہے بالکل ایسے ہی میٹر اور اینٹی میٹر بھی ہیں آپ جو میٹر اس کائنات میں ایکپرینس کر رہے ہیں شاید وہ دوسری کائنات کہ اعتبار سے اینٹی میٹر ہو.جس طرح یہ کائنات سب اٹامک پارٹیکلز سے ملکر بنی ہے بالکل اسی طرح اینٹی میٹر بھی ملکر ایک کائنات تخلیق کر سکتے ہیں اینٹی میٹر بھی فزکس کہ اصولوں کہ مطابق کام کرتا ہے

میٹر اور اینٹی میٹر میں فرق کرنے کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دونوں آپس میں مل نہیں سکتے اگر ان دونوں کو آپس میں ملنے کی کوشیش کی جائے تو یہ انرجی میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور ان کی اس خصوصت کو annihilation کہا جاتا ہے

اینٹی میٹر قدرتی طور پر بھی موجود ہے اگر نیوکلئیر ری ایکشن میں β+ڈیکے کو دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے اس ری ایکشن کہ دوران نیوکلئس میں موجود پروٹان ایک پازیٹران اور نیوٹرینو کا اخراج کرکہ نیوٹران میں تبدیل ہوتا ہے اور پازیٹران الیکٹران کا اینٹی پارٹیکل ہے

اور اسی طرح β− ڈیکے کہ دوران جب نیوکلئیس موجود نیوٹران جب پروٹان میں تبدیل ہوتا ہے تو الیکٹران اور اینٹی نیوٹرینو کا اخراج کرتا ہے اور اینٹی نیوٹرینو نیوٹرینو کا اینٹی پارٹیکل ہے

ٹیلی سکوپ fermi gamma-ray کی مدد سے ہماری گلیکسی کہ سینٹر میں بلیک ہول کہ اردگرد پارٹیکلز کی acceleration کی وجہ سے بننے والے اینٹی میٹر کی بڑی مقدار بھی مشاہدہ کی گئی یے اور اسی ٹیلی سکوپ کی مدد سے بادلوں میں میں lighting کی وجہ سے بننے والے اینٹی میٹر کا پتہ لگایا گیا ہے

یورپین cosmic rays سٹیلائیٹ کی مدد سے زمین کہ گرد موجود اینٹی پروٹان کی بہت بڑی مقدار کو ڈیٹیکٹ کیا ہے جو High energy پارٹیکلز کا زمین کہ upper atmosphere سے ٹکرانے کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں

اور CERN میں اینٹی میٹر کو آرٹیفیشلی بھی بنایا جا رہا ہے تاکہ ہم اس کہ رویہ کہ متعلق مزید جان سکیں
یہاں CERNمیں LHC کی مدد سے ہائیڈورجن کا اینٹی ہائیدورجن بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے

اینٹی میٹر کو اس دُنیا کی سب سے قیمتی چیز بھی مانا جاتا ہے کیونکہ اس بنانے کیلئے بہت ذیادہ انرجی کی ضرورت پڑتی ہے اور اینٹی میٹر کی سٹوریج بھی عام مادے جتنی آسان نہیں یہ اگر ہوا سے بھی انٹریکٹ کرے گا تو annihilate ہوجائے گا اور اگر کنٹرینر کی دیواروں سے بھی annihilateہونے کا خدشہ رہتا ہے اسلئے اس کی سٹوریج بھی ایک چیلنج سے کم نہیں اس کیلئے بہت سی انرجی اور میگنیٹک فیلیڈ کا سہارا لیا جاتا ہے..

ابھی تک CERN 10نینو گرام اینٹی میٹر بننے میں کامیاب ہوئی ہے اور اس اینٹی میٹر سے اگر انرجی حاصل کی جائے تو یہ انرجی ایک بلب کو چار گھنٹے روشن رکھ پائے گی جب کہ اس کہ بنانے کہ دوران استعمال ہونے والی انرجی اس سے لاکھوں گناہ ذیادہ ہے اس بنیاد پر اینٹی میٹر لاگت کی حساب سے بہت مہنگا بناتا ہے

اینٹی میٹر کہ متعلق یہ سوال بھی اُٹھتا ہے کہ ہم اس سے کیا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں

اینٹی میٹر کی مدد سے کینسر کو Diagnose کیا جاتا ہے اس کو Positron emission tomography کہاجاتا ہے
اس کہ علاوہ اینٹی میٹر انرجی پیدا کیلئے efficient سورس بن سکتا ہے شاید کہ مستقبل میں اینٹی میٹر کی مدد سے انرجی پیدا کی جائے

اینٹی میٹر کہ بارے میں مختلف تھیوریز موجود ہیں جیسے کہا جاتا ہے جب بگ بینگ ہوا تو اُس دوران انرجی سے جو میٹر اور اینٹی میٹر بنا وہ آپس میں annihilate کر کہ ریڈی ایشنز کی صورت میں دوبارہ بکھر گئے مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو کائنات کا وجود ہی نہ ہوتا

اس کی وجہ سائینٹسٹ پچھلی نصف صدی سے ڈھونڈ رہے ہیں شاید کہ اُس دوران بننے والا مادہ اور ضد مادہ آپس میں annihilate کرنے کہ بجائے بکھر گئے ہوں اور دونوں الگ الگ کائنات کی صورت میں اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہوں
کچھ سائیٹسٹ کا ماننا ہے کہ بگ بینگ کہ دوران میٹر اور انٹی میٹر کی مقدار میں تھوڑا بہت فرق آگیا ہو اور ان بیلنس کی وجہ اینٹی میٹر یا میٹر میں ایک کی مقدار کم یا ذیادہ ہوگئی جس کی وجہ سے annihilation سے بچنے والے مادہ سے یہ کائنات وجود میں آئی ہو

ابھی اینٹی میٹر پر تحقیق جاری ہے مستقبل قریب میں اگر ہم اس کو بنانے اور قابو کرنا سیکھا گئے تو ہم بہت سے رازون سے پردہ اٹھنے میں کامیاب ہوسکیں گے..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *