• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • اب تک کی تحقیقات کے مطابق کھوجا گیا چوتھا سب سے بڑا ستارہ انٹارس ۔۔یاسر لاہوری

اب تک کی تحقیقات کے مطابق کھوجا گیا چوتھا سب سے بڑا ستارہ انٹارس ۔۔یاسر لاہوری

ستارہ انٹارس Antares star

ہماری کائنات “جس میں ہم رہ رہے ہیں ” کسی عجوبے سے کم نہیں بلکہ یہ بات اپنی جگہ سچ ہے کہ جتنے بھی عجائبات ہیں وہ سب کے سب اس کائنات کے اندر ہی ہیں۔آج سے دو دن قبل رات ایک بجے میں چھت پر تھا، میرے سامنے جنوب کی طرف سرخ رنگ میں چمکتا ہوا بنسبت باقی ستاروں کے کافی بڑا اور روشن ستارہ تھا۔جس کی میں نے ایک تصویر بنائی اور آج اس پر لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔

اس تحریر کے ساتھ منسلک لنک میں موجود تصویر اسی ستارے Antares کی ہے جو میں نے اپنے موبائل سے بنائی تھی۔عنقریب انشآء اللہ میں اس ستارے کو اپنے ٹیلی سکوپ کے ذریعے بھی اپنے فلکیاتی مواد میں شامل کروں گا اور ساتھ ہی ساتھ آپ احباب کی خدمت میں بھی پیش کروں گا تا کہ آپ بھی بے شمار عجائبات سے بھری اس کائنات کے چند ایک عجائبات دیکھ کر میرے ساتھ حیران ہونے میں شریک ہو سکیں۔
اس چھوٹی سی تحریر میں ہم اس ستارے کے بارے نہایت اہم اور دلچسپ معلومات پڑھیں گے۔

سب سے پہلے یہ جان لیں کہ یہ ستارہ آپ کو آسمان کے کس حصے پر اور کس موسم میں نظر آئے گا؟
میں یہ تحریر آج 9 اپریل 2019 کو لکھ رہا ہوں، آج یہ ستارہ انٹارس Antares دس بج کر تیس منٹس پر طلوع ہوا تھا۔یعنی گرمیوں کے موسم میں جیسے مارچ اپریل مئی جون اور جولائی میں اسے دیکھا جا سکتا ہے۔یاد رہے ہر ستارہ ہر رات چار منٹس جلدی ہوتا ہے اور چار منٹس کا فرق پڑتے پڑتے یہ ستارہ آئندہ 9 اپریل 2020 کو ٹھیک اسی ٹائم 10 بجکر تیس منٹس پہ طلوع ہو گا۔
اس ستارے کو آپ آسمان کے جنوبی حصے میں سکورپیئس برج Scorpius Constellation میں اس کی سرخ رنگت اور زیادہ چمک کی وجہ سے با آسانی ڈھونڈ سکتے ہیں، آج کل اس کو ڈھونڈنے کی ایک اور نشانی بھی ہے کہ اس کے تھوڑا پیچھے سیارہ مشتری بھی بھاگا چلا آ رہا ہوتا ہے، جو اپنی تیز اور سفید روشنی کی وجہ سے پہچاننا نہایت آسان ہے۔

یہ ستارہ ہم سے کتنی مسافت پر ہے؟
ایک ستارے سے دوسرے ستارے یا ایک کہکشاں سے دوسری  کہکشاں کے درمیانی فاصلے کو ناپنے کے لئے کلومیٹرز یا میلز km or miles کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ستاروں کے درمیانی فاصلے اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ ان کی پیمائش کرنے کے لئے کلومیٹر یا میل کا پیمانہ استعمال کرنا بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ افریقہ سے روس تک کا ساڑھے بارہ ہزار کلومیٹر 12569km کا فاصلہ سینٹی میٹر cm یا ملی میٹر mm میں ناپنے لگ جائیں۔ستاروں کا درمیانی فاصلہ ناپنے کے لئے روشنی کی رفتار کو استعمال کیا جاتا ہے۔روشنی ایک سیکنڈ میں 3 لاکھ کلومیٹر اور ایک سال میں ساٹھ کھرب میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔

ہم بات کر رہے تھے Antares انٹارس ستارے کے فاصلے کی۔مختلف فلکیاتی تحقیقات کے مطابق یہ ستارہ ہماری زمین سے کم و بیش 600 نوری سال دور ہے۔ایک نوری سال میں ساٹھ کھرب میل کا فاصلہ ہوتا ہے۔چھ سو نوری سال اس قدر زیادہ فاصلہ ہے کہ اگر ہم 62000 باسٹھ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے وائجر ون خلائی جہاز کو اس کی طرف بھیجیں تو وائجر ون خلائی جہاز ایک کروڑ  سات لاکھ انتیس ہزار چار سو گیارہ1 1072941 سال بعد اس ستارے کے پاس پہنچے گا (ہم جانتے ہیں ایسا ہونا تقریبا ًًً   ناممکن ہے، یہ صرف اس ستارے اور ہمارے نظام شمسی کے فاصلے کو سمجھنے کے لئے بتایا گیا ہے)

انٹارس ستارہ Antares star اصل میں دو ستاروں کا ایک سسٹم ہے۔ان میں سے ایک غیر معمولی حجم رکھنے والا ستارہ ہے جسے Red Supergiant A اور اس کے ساتھ دوسرے ایک چھوٹے لیکن انتہائی گرم ستارے کو Antares B کہا جاتا ہے۔اس کے ساتھ منسلک چھوٹے ستارے کو ایک طاقتور دوربین کے بغیر نہیں دیکھا جا سکتا۔اس کے ساتھ جو چھوٹا ستارہ ہے وہ اس ستارے کے حجم کے حساب سے چھوٹا ہے ورنہ وہ ہمارے سورج سے کئی گنا بڑا ستارہ ہے۔

ہمارے سورج سے دس ہزار 10,000 گنا زیادہ روشن یہ ستارہ اپنے اندر موجود خام مال یعنی ایندھن کو بڑی سخاوت سے استعمال کر رہا ہے۔ابھی اس ستارے کو پیدا ہوئے صرف بارہ ملین 12million یعنی ایک  کروڑ بیس لاکھ  سال ہی ہوئے ہیں اور آئندہ دس یا بیس لاکھ سالوں میں یہ ستارہ ایک سپرنووا دھماکے سے پھٹ کر موت کی نیند سو جائے گا، آنے والے دس یا بیس لاکھ ہمارے لئے بہت زیادہ ہیں کیوں کہ ہم اس دنیا میں پچاس سے سو سال تک کے لئے ہی آتے ہیں۔ان ستاروں کا سیاروں کا، کہکشاؤں کا اور خود ہماری زمین کا ہماری عمروں سے موازنہ بنتا ہی نہیں۔ہماری سینکڑوں ہزاروں نسلیں آ کر چلی گئیں اور یہ کائنات بالکل ویسے ہی روز اول کی طرح پوری سج دھج کے ساتھ اپنی حیاتِ لاجواب کو جئے جا رہی ہے۔

اگر اس ستارے کی عمر کا موازنہ ہمارے سورج کی عمر سے کیا جائے تو ہمارا سورج اس سے کئی سو  گنا زیادہ لمبی عمر پائے گا (آئندہ ایام میں انشآء اللہ سپرنووا Supernova دھماکے “ستاروں کی موت کیسے ہوتی ہے” پر تفصیلا ًًً لکھوں گا)

ہمارے سورج سے کم و بیش ساڑھے آٹھ سو گنا زیادہ بڑا یہ ستارہ اب تک کے کھوجے گئے تمام ستاروں میں چوتھا سب سے بڑا ستارہ ہے۔یہ ستارہ اس قدر بڑا ہے کہ اگر اسے ہمارے سورج کی جگہ رکھ دیا جائے تو یہ سیارہ مریخ Planet Mars کے مدار تک کے علاقے کو گھیرے ہوئے ہو گا۔یاد رہے سیارہ مریخ ہمارے سورج سے بائیس 22 کروڑ کلومیٹر دور ہے۔اس ستارے کی سطح کا درجہ حرارت تین ہزار Celsius ہے۔درجہ حرارت کے مقابلے میں اس کی سطح کا درجہ حرارت ہمارے ستارے سورج کی سطح کے درجہ حرارت سے آدھا ہے۔
محیر العقول، انسانی عقل و شعور کو جھنجھوڑ دینے والے کچھ ایسے ہی مظاہر سے بھری یہ کائنات بنتی رہتی ہے اور بن کر ختم ہوتی رہتی ہے۔جہاں اس کے ایک حصے (Nebulas) میں ستارے اور سیارے بن رہے ہوتے ہیں وہیں اس کائنات کے کسی دوسرے حصے میں ہمارے سورج سے سینکڑوں گنا بڑے ستارے اپنی زندگی کی آخری ہچکی لے کر موت کو گلے لگا رہے ہوتے ہیں۔جب بہت بڑا ستارہ اپنی زندگی کے اختتام پر پھٹتا ہے تو وہ اپنے پیچھے گیسوں کے وہ بادل چھوڑ جاتا ہے جنہیں ہم نیبیولا یا سحابیہ (Nebula) کہتے ہیں۔پھر اس ستارے کی باقیات یعنی نیبیولا کے اندر دوبارہ ستارے بنتے ہیں۔ان میں سے کچھ ستارے پھر اتنے بڑے پیدا ہوتے ہیں کہ جن کے پھٹنے پر دوبارہ ستارے بننے کی فیکٹری یعنی نیبیولا کی پیدائش ہو جاتی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
کہ جب اس ستارے یعنی Antares star کی سپرنووا دھماکے کے نتیجے میں موت واقع ہو جائے گی تو اس کے بعد اس ستارے کی جگہ کیا ہو گا؟
میں جانتا ہوں کہ تب کیا ہو گا! ایک نہایت بڑے کائناتی دھماکے Supernova کے بعد اس ستارے کی موت واقع ہو گی اور اس کے کچھ سو سال بعد اس کی جگہ پر رنگارنگ گیسوں سے سجے کچھ خوبصورت بادل نظر آیا کریں گے۔بالکل ویسے بادل جیسے  آج ہم M1 یعنی Crabe nebula کے بادل دیکھتے ہیں۔
(تحریر کے آخر میں ایک لنک کھول کر آپ Crabe nebula کو دیکھ سکتے ہیں)

آج سے ایک ہزار سال پہلے چائنہ کے کچھ فلکیات دانوں نے ایک جگہ ایک ستارے کو دیکھا جو تقریبا ًًً ایک مہینہ تک دن کے وقت بھی خوب روشن دکھائی دیتا رہا۔وہ ایک ستارے کی موت تھی یعنی سپرنووا دھماکہ تھا۔چائنہ کے ان فلکیات دانوں نے اس ستارے کی موت کو کتابوں میں لکھ دیا۔آج ایک ہزار سال گزرنے کے بعد وہ کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں اور ان کتابوں میں  درج شدہ آسمانی نقشے پر اس جگہ جب ہم دوربین کے ذریعے نظر ڈالتے ہیں تو وہاں ہمیں کریب نیبیولا Crabe nebula نظر  آ تا ہے۔وہ دھماکہ اس قدر زبردست تھا کہ اس ستارے کی گیسیں ابھی تک اس ستارے کے مرکز سے دور جا رہی ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق گیسوں کے وہ بادل چھ سو ساٹھ (660) کھرب میل (11 نوری سال) کی مسافتوں تک پھیل چکے ہیں (گیسوں کے وہ بادل یعنی M1 کو میں اپنی دوربین سے 2018 کے آخر میں دیکھ چکا ہوں)
ان مشاہدات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ستارہ انٹارس Antares star کا حال اور مستقبل کیسا ہو گا۔

ابھی تک انسان نے اس کائنات کو شاید ایک فیصد بھی نہیں جانا لیکن اس کائنات کے راز و عجائبات میں سے یہ جو ایک فیصد سے بھی کم ہمارے احاطہ علم میں آیا ہے وہ اس بات کی گواہی کے لئے کافی ہے کہ تحقیقِ کائنات ہمارے لئے ممکن ہے لیکن تسخیرِ کائنات ممکن نہیں!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستارہ انٹاریس Antares star کی تصویر موبائل کیمرہ سے نیچے  دیئے گئے لنک میں
https://m.facebook.com/groups/2100179193327606?view=permalink&id=2428515007160688

ایک ہزار سال قبل ہوئے سپرنووا Supernova دھماکے کے نتیجے میں رنگارنگ گیسوں سے بنے نیبیولا کے بادل یعنی Crabe nebula کا نظارہ نیچے   دیئے گئے لنک میں

https://m.facebook.com/groups/2100179193327606?view=permalink&id=2213479295330928

Avatar
محمد یاسر لاہوری
محمد یاسر لاہوری صاحب لاہور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت عرصہ سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس، فلکیات، معاشرتی بگاڑ کا سبب بننے والے حقائق اور اسلام پر آرٹیکلز لکھتے رہتے ہیں۔ جس میں سے فلکیات اور معاشرے کی عکاسی کرنا ان کا بہترین کام ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *