گٹر۔۔۔علی اختر

آج بڑی مدت بعد دفتر کی چھٹی کی تھی ۔ بہت کوشش کی کے دیر سے  اٹھوں پھر بھی آنکھ 10 بجے جو کھلی تو پھر بہت کوشش کے باوجود نیند نہ آئی  ۔ اپنے پرانے دوست عبید کو فون کر دیا جو کہ میڈیکل ریپ ہے اور کبوتر کی طرح شہر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی تلاش میں اڑتا پھرتا ہے۔ پتا چلا   موصوف عباسی شہید ہسپتال میں موجود ہیں اور 2 بجے تک فارغ بھی ہو جائیں گے۔ چھٹی ہو اور پرانا یار چند قدم کی دوری پر ہو تو نہ ملنا ناانصافی ہوتی سو ٹھیک دو بجے عباسی ہسپتال کے سامنے ایک چائے ہوٹل پر موجود تھے۔
مجھے دیکھتے ہی عبید خوش ہو گیا اور دو کٹ چائے کا آرڈر دے دیا ۔ “اور سناؤ کیا چل رہا ہے” میں نے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا۔ “بس کیا چلے گا وہی زندگی چل رہی ہے” اسن ے موبائل ایک طرف رکھتے کہا۔ “دیکھو نئی  حکومت آئی  ہے امید ہے تبدیلی بھی آہی جائے گی” ۔ اسے نئی  حکومت سے کافی امیدیں تھیں۔
“ارے کہاں یار ۔ ہماری قسمت میں وہی کچرے کے ڈھیر اور ٹوٹی سڑکیں لکھی ہیں ۔ کوئی  تبدیلی نہیں آئے گی” میں نے اسے چھیڑا۔ ” نہیں بھائی  اس بار امید ہے تبدیلی آئے  گی۔ عمران خان مخلص انسان ہے اور شوکت خانم ہسپتال اس بات کا گواہ ہے کے یہ قوم کے ساتھ مخلص ہے۔ اسکے علاوہ یہ ملک سے باہر بھی وقت گزار چکا ہے تو یہ بھی جانتا ہے کے مہذب معاشرے  کیسے ہوتے ہیں۔ یہ ضرور ایسا ہی معاشرہ قائم کرے گا۔ ” اسکی امیدیں قوی تھیں۔
” ہاں بالکل صحیح کہا کہ وہ انگلینڈ میں تعلیم اور پھر کاؤنٹی کے سلسلہ میں مقیم تھا ۔ یہ بھی جانتا ہوں کہ  مہذب معاشرے  ہم سے الگ ہوتے ہیں ۔ وہاں لوگ بسوں کی چھت پر سفر نہیں کرتے، جرم کریں تو سزا اور مظلوم کو انصاف ملتا ہے، ہسپتالوں میں اچھا علاج اور اسکولوں میں اچھی تعلیم ہوتی ہے، غذا خالص اور صاف ہوتی ہے، ہماری طرح پریشر والا گوشت اور مکھی مکس قیمہ نہیں ملتا۔ لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ  اس سے پہلے والے سارے حکمرانوں کو بھی یہ سب پتا تھا” ویٹر کے ٹیبل پر چائے رکھنے سے گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔
” ہاں سب کو سب پتا تھا لیکن وہ مخلص نہیں تھے۔ یہ قوم سے مخلص ہے اور کچھ کرنا چاہتا ہے” اس کی امیدیں برقرار تھیں ۔
“ارے یار اس سے پہلے بھی بہت سے آئے جو مخلص اور ایماندار ہونے کے دعوے دار تھے۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا ۔ تم دیکھ لینا اسے بھی۔ دس سال بعد ہم یہیں بیٹھ کر اسے برا کہ رہے ہونگے” میں نے چائے ختم کرتے ہوئے کہا ۔ اور کھڑا ہو گیا۔
“اب کہاں” اس نے مجھے کھڑے ہوتے دیکھ کر پوچھا۔
“چل اپنی بائیک یہیں چھوڑ اور چل میرے ساتھ” میں نے بائیک پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ “تھوڑا کام ہے” اس نے کاؤنٹر پر پیسے دیئے اور بائیک پر بیٹھ گیا۔
بائیک چلی تو پھر وہ پھر بولنا شروع ہوا۔ ” میں نے دیکھا ہے کہ  تم کچھ زیادہ ہی مایوسی کا شکار ہو۔ حالات اتنے برے بھی نہیں ۔ دیکھو اب بل جمع کرانے کے لیئے لائن میں نہیں لگنا ہوتا۔ جگہ جگہ تعلیمی ادارے  ہیں۔ ہر ایک کے ہاتھ میں مہنگا موبائل ۔”
“ہاں۔۔۔صحیح کہا” میں بائیک چلاتے ہوئے بولا ۔
“ارے یار اس طرف تو روڈ پر   گٹر کا پانی بھرا ہے ۔ دوسری طرف سے چلو” اس نے کہا تو میں نے بائیک دوسری سڑک پر موڑ دی۔
وہ سڑک آدھی خشک تھی اور آدھی سے گٹر کا پانی بہہ رہا تھا جو دوسری سڑک پر جمع ہو رہا تھا ۔
ہم کچھ آگے بڑھے  تو سڑک کے بیچوں بیچ ایک کھلےمین ہول کے کنارے پر دو افراد پیلی جیکٹس پہنے کھڑے تھے اور کھلے مین ہول میں جھانک رہے تھے۔ جیسے کسی کے منتظر ہوں ۔
میرا تجسس بڑھا میں نے بھی انکے قریب بائیک روک دی۔
اچانک گٹر کی غلیظ سطح پر چند بلبلے ابھرے اور پھر ایک انسان کا سر اس غلاظت سے باہر آیا ۔ پھر ایک ہاتھ بھی جس نے اس کے چہرے اور آنکھوں سے غلاظت ہٹائی  اور اس نے آنکھیں کھول دیں ۔ ایک گہرا سانس لے کر وہ پھر گٹر کی غلاظت میں گم ہو گیا۔
میں نے مڑ کر عبید کی جانب دیکھا۔ وہ خاموش تھا ۔ میں نے گیئر لگایا اور بائیک آگے بڑھادی۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *