کیا یہ صحافت ہے؟۔۔۔آصف محمود

صحافت کا یہ بانکپن ، اللہ میری توبہ۔ اب میر انیس ہی آئیں تو اس کا مرثیہ کہیں۔ ٹی وی سکرین پر ایک صاحب بریکنگ نیوز دینے پر تلے بیٹھے تھے۔ چہرے پر فخر ، آنکھوں میں مسکراہٹ اور لہجے میں شہر پناہ پر تازہ تازہ پرچم لہرا کر لوٹنے والے کسی جنگجو کا سا خمار۔ریموٹ پر میری انگلیاں برفاب ہو گئیں ۔ میں وہیں رک گیا۔ دل ہی دل میںسوچا کہ کوئی بہت بڑی خبر اب کے اعصاب کو چٹخا کے رکھ دے گی۔لیجیے صاحب آپ بھی دل تھام کر اندر کی یہ اہم ترین خبر پڑھیے اور پھر بے شک پہروں اکیلے بیٹھ کر سر پیٹتے رہیے، خبر یہ تھی کہ ایک بڑے سیاست دان کی اہلیہ امید سے ہیں۔ یہ ایک دوسرا منظر نامہ ہے۔ ایک ٹاک شو میں سیاست دان ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں اور اینکر محترم کے چہرے پر دنیا جہان کا درد سمٹ آیا ہے اور وہ وعظ فرما رہے ہیں کہ دیکھیے یہ بری بات ہے اس طرح گفتگو نہ کیجیے لیکن مہمان ان کی سننے کو تیار ہی نہیں۔ دیکھنے میں لگتا ہے کہ اینکر صاحب صدمے کی شدت سے کہیں بے ہوش ہی نہ ہو جائیں۔ ان کے بس میں ہو تو اس شو کو یہیں ختم کر دیں۔اب اگر یہاں آپ کو معلوم ہو کہ یہ شو تو ریکارڈڈ تھا اور سارا دن اہتمام سے ناظرین کو خبر دینے کے بعد نشر کیا گیا کہ آ ئیے دیکھیے ہم کیسے مہمانوں کو لڑاتے ہیں، آئیے دیکھیے فروغ دنگل کے لیے ہم کس قدر کوشاں ہیں تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ یہ تیسرا منظر ہے۔ ایک محترمہ کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شو میں ایک رپورٹر کو فون پر لے کر اس بے چارے کے صحافتی درجات بلند کرنے کے بعد سوال کرتی ہیں کہ اس وقت جو سماعت ہو رہی ہے اس پر ہمیں کچھ بتائیں۔رپورٹر عرض کرتا ہے کہ سماعت ان کیمرا ہو رہی ہے۔خاتون فرماتی ہیں : سماعت ان کیمرا ہو رہی ہے تو یہ بتائیں کیا آپ لوگ اپنے کیمرے اندر بھجوا چکے ہیں۔ان کیمرا سماعت کی اس تعریف پرآپ چاہیں تو اسی طرح سر پیٹ سکتے ہیں جیسے چند سال پہلے میں نے پیٹ لیا تھا۔ یہ چوتھا منظر بھی پر لطف ہے۔مائک ہاتھ میں پکڑے ایک نوجوان لاہور کی کسی سڑک پر کھڑے ہیں اور گاڑیوں کو روک کر حکم سنا رہے ہیں کہ لائسنس دکھائو۔ ایک سرکاری اہلکار آگے سے کہتا ہے کہ آپ کے پاس لائسنس طلب کرنے کی کیا اتھارٹی ہے یہ کام تو پولیس کا ہے۔وہ اس پر ذرا بد مزہ نہیں ہوتے بلکہ مائیک قریبا اس کے منہ میں گھسیڑ تے ہوئے طنطنے سے کہتے ہیں کہ پولیس اگر یہ کام نہ کرے تو پھر؟ گاڑی میں بیٹھا شخص اس کمال کی منطق سے لاجواب ہو کر کہتا ہے کہ اس کا تو مجھے علم نہیں ہے لیکن آپ کو لائسنس طلب کرنے کا کوئی حق نہیں۔ وہ صاحب چنگیز خان کے میمنہ کے سالار کی طرح پلٹتے ہیں اور کیمرے کی آنکھ سے ہم عوام سے مخاطب ہوتے ہیں۔میری بد قسمتی کہ میں ان کے اقوال زریں سن نہیں سکا ۔مجھے اس وقت خواجہ آصف کے اقوال زریں یاد آ گئے۔ یہ سیلاب کا ایک منظر ہے ۔ سالوں بیت گئے مگر پلکوں میں دھرنا دیے بیٹھا ہے۔ایک خاتون سیلاب زدہ ایک بستی میں موجود ہیں تاکہ عوام کو لمحہ لمحہ باخبر رکھا جا سکے۔اگست کا مہینہ ہے۔ ایک مرد سر پر ایک بڑی سی ٹوکری میں ایک بچے کو اٹھائے پانی سے نکل کر خشک جگہ پر آتا ہی ہے کہ محترمہ مائک اس کے نتھنوں میں قریبا ٹھونس ہی دیتی ہیں اور پوچھتی ہیں : اگست کا مہینہ ہے کیا آپ ہمیں قومی ترانہ سنا سکتے ہیں۔ وہ شخص بے بسی کی تصویر بنا وحشت ناک آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھتا ہے اور صرف یہ کہہ پاتا ہے بہت پیاسا ہوں کسی کے پاس پانی ہو گا۔ ایک محلے کا منظر ہے۔ ایک گھر کے بڑے سے صحن میں لاش رکھی ہے۔ یہ ایک معصوم وجود کی لاش ہے جو انسانوں کی درندگی کا شکار ہو گیا۔ ایک صاحب مائک ہاتھ میں پکڑے وہاں سے براہ راست عوام کو باخبر رکھ کر صحافت کو بلندیوں کی طرف ہانک رہے ہیں۔سٹوڈیو میں بیٹھی محترمہ فرماتی ہیں کیا آپ بچے کی ماں سے ہماری بات کروا سکتی ہیں۔رپورٹر بھائی جان کمال مستعدی سے مقتول کی ماں کو ڈھونڈتے ہیں اور اب مقتول کی ماں سے سٹوڈیو سے سوال ہوتا ہے۔اب ذرا سوال سن لیجیے۔ محترمہ پوچھتی ہیں کہ آپ اس وقت کیا محسوس کر رہی ہیں۔ایک بے بس ماں یہ سوال سن کر رو دیتی ہے۔معلوم نہیں اس ماں پر کیا گزری ہو گی، میں بلڈ پریشر کا مریض نہیں مگر اس روز مجھے اپنے صحافی دوست امتیاز بٹ کے ساتھ آغا خان ہسپتال جا کر بلڈ پریشر کی دوا لینا پڑی تھی۔ ایک اور منظر شاید ان سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ نرسوں نے لاہور میں اپنے مطالبات کے لئے جلوس نکا لا تو ایک چینل نے ان نرسوں کے جلوس کی فوٹیج پر گانا چلا دیا’’ جی ٹی روڈ تے بریکاں لگیاں نی بلو تیری ٹور ویکھ کے۔‘‘ یہ بد ذوقی کی انتہا ہی نہیں یہ پست معیار کا اعلان عام بھی تھا۔ ذمہ داری کا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گاہے لگتا ہے ایک تماشا لگا ہے اور ہم سب اس کا حصہ ہیں۔ایک بچی درندگی کا شکار ہوئی تو ایک چینل پر ایک محترم چیخ چیخ کر اعلان کرتے رہے ، دیکھنا مت بھولیے گا ہم آپ کو بتائیں گے اس کے ساتھ ایک گھنٹہ اور بائیس منٹ تک کیا ہوتا رہا۔ یہ یکم رمضان المبارک کی پہلی شام تھی۔ ٹی وی آن کیا تو دیکھا ایک بڈھے نے ایک بڈھی کا ہاتھ تھام رکھا ہے ۔بازاری قسم کے چند ڈائیلاگ میں اظہار محبت کیا۔ کیمرہ زوم آئوٹ ہوا۔ ایک بچی حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔اس کے بعد ناظرین کو اہتمام سے بتایا گیا کہ یہ رمضان کا خصوصی کھیل ہے۔جو مہینہ عبادات کے لیے مختص تھا ، آزاد میڈیا نے اسے تہوار بنا رکھا ہے ۔ بلیو ایریا اسلام آباد میں کھڑا سکندر تو آپ کو یاد ہی ہو گا ۔آزاد صحافت کی خیر ہو یاروں نے سکندر کے رفعِ حاجت کے عمل کو بھی لائیو دکھا دیاتا کہ آزادیِ صحافت کے چوڑے چکلے ماتھے پر ایک نیا جھومر سجایا جا سکے۔یہی نہیں نیوز کاسٹرز نے شدت جذبات سے کانپتے لہجے میں اپنے ناظرین کو یہ بھی بتایا کہ یہ اہم منا ظر صرف ہم اس وقت آپ تک براہ راست پہنچا رہے ہیں۔تماش بینی کی دائم آرزواور اوپر سے کیمرہ۔۔۔گاہے نوابزادہ نصراللّٰہ خان یاد آتے ہیں،ایسی اچھل کود کے ہنگام کس رسان سے کہا کرتے تھے:’’ اگے بھابھو نچنی اتوں ڈھولاں دے گھمکار۔‘‘ کیمرہ ان کے ہاتھ میں آ گیا۔ اب سماج میں کسی کی عزت محفوظ نہیں۔احباب جس طرف رخ کرتے ہیں کشتوں کے پشتے لگا دیتے ہیں۔ بد تمیزی کوبانکپن سمجھ لیا گیا ہے اور ہاتھ میں پکڑا مائیک لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے کا ایک لائسنس۔ دندناتے ہوئے جدھر منہ آیا گھس گئے۔سر راہ جس کی چاہا عزت اچھال دی۔ صحافتی اخلاقیات کیا ہوتی ہیں ان کی جانے بلا۔ دنیا کا یہ واحد شعبہ ہے جہاں ہر نومولود سینیئر تجزیہ کار ہوتا ہے۔خود تو ہیں ہی ، خطرہ ہے کہ یہ پورے سماج کو نفسیاتی مریض بنا دیں گے۔ اہل صحافت مان کر نہیں دیں گے مگر سچ کہوں تو ایک لاوہ ہے جو پک چکا۔ سماج ان کے رویوں سے بے زار ہو چکا۔ پولیس نے تو جواب آں غزل کے طور پر موبائل کو کیمرہ بنا لیا اور پھرساری قوم نے ٹریفک چالان سے بچنے کے لیے آزاد صحافت کی ترک تازیاں دیکھیں اور لطف اٹھایا۔یہ معاملہ مگر اب یہاں نہیں رکے گا۔آگے بڑھے گا۔ ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *