امام حسین علیہ السلام کا مکتوب مبارک معززین بصرہ کے نام ۔۔۔ شجاع عباس

 

اما بعد خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں پر برگزیدہ فرمایا۔ان کو نبوت کی عزت سے نوازا اور اپنی پیغام رسانی کے لئے چن لیا۔پھر ان کو اپنے پاس بلایا۔
انہوںﷺنے بندگان خدا کو نصیحت کی اور پیغام(حق)کو پہنچایا۔

ہم(اہل بیت)ان کے اہل،ولی،وصی اور وارث ہیں۔لوگوں کےلئے ان کے قائم مقام بننے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں،لیکن ہماری قوم(قریشی مہاجرین)نے ہمیں پیچھے دھکیلا۔

ہم بھی راضی ہوئے،کیونکہ ہم تفرقہ کو ناپسند اور (مسلمانوں کے)امن و عافیت کے آرزومند تھے۔حالانکہ ہمیں اس بات کا علم تھا کہ ہم اس مقام ،جس کے ہم طالب تھے، کے زیادہ حق دار ہیں ،ان کے مقابلے میں ،جنہوں نے اسے حاصل کیا۔انہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔اللہ ان پر رحم کرے اور ہماری اور ان کی مغفرت فرمائے۔

میں نے تمہاری طرف اس مکتوب کے ساتھ اپنا قاصد بھیجا ہے ۔میں تم لوگوں کو خدا کی کتاب اور نبی کی سنت کی طرف بلاتا ہوں۔

بتحقیق سنت کو مٹا دیا گیا ہے اور بدعت کو زندہ کیا جاچکا ہے۔

اگر تم میری بات سنو اور میرے امر کی اطاعت کرو،میں تم لوگوں کو راہ ہدایت پر گامزن کروں گا۔
والسلام۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *