علی اقتدار شاہ دارا: انڈیا اور پاکستان کی ایک مشترکہ میراث

جکارتا میں حالیہ اختتام پذیر ایشیائی گیموں اور اوڈیشا میں  آنے والے ایف آئی ایچ ورلڈ کپ نے ہاکی فیلڈ میں کم سے کم پاکستان اور انڈیا کے پر جوش شائقین   کی دلچسپیاں بڑھا دی ہیں۔ دو ملکوں کے مابین یہ مقابلے ہمیشہ سخت ٹکر کے ہوتے ہیں  اور آزادی کے دن سے آج تک ایسا ہی پرجوش ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔پاکستان کا ریکارڈ ہمیشہ بھارت کے مقابلے میں بہتر رہا۔ بہت سے مواقع پر تماشائی براہ راست میچ نہیں دیکھ پاتے  لیکن اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ لیکن ایک پلئیر ایسا ہے  جس نے ریڈکلف کی کھینچی گئی لکیر کے دونوں طرف کے عوام کی نمائندگی کی ہے  اور یہ پلئیر کوئی اور نہیں بلکہ علی اقتدار شاہ دارا ہیں۔

لیال پور میں 1915 میں پیدا ہونے والے دارا نے سکول کے دنوں سے ہی ہاکی کو اپنا پسندیدہ کھیل بنا لیا تھا۔ ان کی ہاکی پلئیر  کے طور پر پہچان کالج طالب علمی کے دوران ہوئی۔  اس نے کلکتہ میں ایک صوبائی ٹورنمنٹ میں پنجاب کی نمائندگی کی۔

دارا برٹش انڈین آرمی میں شامل ہوئے جہاں وہ انڈیا کے عظیم ترین ہاکی کھلاڑی دھیان چند سے تاحیات کی رفاقت حاصل  کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ۔ دونوں نے پنجاب ریجمنٹ کے لیے اکٹھے ہاکی کھیلی۔ 1936 تک انڈیا اس کھیل میں ایک بڑی طاقت بن چکا تھا جو کہ برطانیہ کی طرف سے شروع کیا گیا تھا۔  یہ ملک 1928 اور 1932 میں اولمپک گولڈ جیت چکا تھا اور متنازعہ  برلن اولمپکس میں فیورٹ دکھائی دے رہا تھا، جسے نازی حکومت اپنی کامیابیوں کے نمونہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تھی۔

برلن میں گولڈ

میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ برلن میں دارا کو انڈیا کی نمائندگی کے لیے ٹیم میں منتخب نہیں کیا گیا تھا چونکہ اس کی آرمی یونٹ نے اسے چھٹی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جب انڈیا جرمنی سےایک پریکٹس  میچ ہار گئی، انڈین مینیجر پنکج گپتا نے دارا کی ٹیم میں شمولیت کے لیے ایک فوری درخواست بھیجی۔

ٹائمز آف انڈیا  1936 میں ہندوستانی ہاکی ٹیم کی فتح کے جشن میں ایک آرٹیکل چھپا جس میں گول  پوچر فارورڈ دارا کے کردار  کی بہت تعریفیں کی گئیں اور بھارت کی فتح کا کریڈٹ انہیں خاص طور پر دیا گیا ۔  آرٹیکل میں لکھا تھا: ”فائنل میں دارا نے جرمن دفاع کو شاندار کھیل کے ساتھ  چاروں شانے چت کر دیا۔ ا”،وہ میچ جسے اڈولف ہٹلر نے وی آئی پی سٹینڈز سے دیکھا، انڈیا کے کھیلوں کی شاندار فتوحات میں سے ایک ہے۔

دہائیوں بعد (1970 میں) دارا نے “ورلڈ ہاکی میگزین” میں دھیان چند کے میجک کے بارے میں لکھا۔ اس نے لکھا،  ”1936 کے اولمپک ہاکی ٹورنمنٹ کے فائنل کے دوران جرمن نے ان کے خلاف 6 گول ہو جانے  کے بعد رف انداز میں کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ دھیان  کو ٹارگٹ کرتے ہوئے  جرمن گول کیپر نے ان کا ایک دانت بھی توڑ دیا۔”  ”فوری طبی امدا د کے بعد  واپس آتے ہوئے دھیان نے ہمیں کوئی اور گول نہ کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا  کہ ہمیں بال کو قابو کرنے کا سبق انہیں ضرور سکھانا ہو گا، ۔ ہم لگا تار بال کو جرمن  ٹیم کے دارئرے میں لے جاتے اور پھر خود ایک دوسرے کو پاس دے کر واپس لا کر جرمن کھلاڑیوں کو حیران کرتے۔ ہم نے جرمنی کو 8-1 سے ہرایا۔ ”

فائنل میں  دھیان چند نے ہیٹرک کی جب کہ دارا نے 2 گول سکور کیے۔

ان کے خاندان کے پاس ابھی تک ایک فوٹو ہے جس میں ہٹلر دارا کو فتح پر گولڈ میڈل دے رہے ہیں ۔

 

1936 کے اولمپک کے بعد جنگ کے  خطرات کی وجہ سے ، 1940 اور 1944 میں کھیلوں کی تقریبات نہ ہوئیں۔ دارا ایشیا کی  اگلی صف میں لڑے  اور ملایا میں جاپانیوں نے انہیں گرفتار کر  لیا۔ انہوں  نے انڈین نیشنل آرمی میں شمولیت اختیار کی جس کی قیادت سبھاش چندرا بوس کے ہاتھ میں تھی، جس نے برطانوی سلطنت کو انڈیا سے نکالنے کے لیے کوشش کی تھی۔

پاکستان کی ایک ہاکی طاقت بنانا

1947 میں دارا نے، جسے مغربی پنجاب سے جلا وطن کیا گیا تھا، پاکستان میں رہنے کا انتخاب کیا، جہاں اسے ہاکی  کے شعبہ کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرنا تھا۔

33 سال کی عمر میں، دارا نے نئی قائم شدہ قوم کی اولمپک ٹیم کی کپتانی کی اور اولپمکس میں دو ملکوں کی نمائندگی کرنے والا پہلا  ہاکی کھلاڑی بن گیا۔ اس نے مقابلے میں 9 گول سکور کیے جہاں پاکستان برونز میڈل جیتنے کے بہت قریب آ کر رہ گیا اور چوتھے راؤنڈ میں باہر ہو گیا۔

ہلنسکی میں 1952 کی اولمپکس کے بعد، جہاں پاکستان ایک بار پھر چوتھے راؤنڈ میں رہ گیا، دارا نے ایک کمیٹی میں شمولیت اختیار کی تا کہ ان طریقوں کو ڈھونڈا جائے جن سے ملک کی کھیلوں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ پھر وہ 1956 کی اولمپک ٹیم کے کوچ بنے جس نے سلور میڈل جیتا اور 1960 کی ٹیم کے مینیجر تھے جس نے روم میں فائنل میں انڈیا کو ہرا کر  پاکستان کو پہلا گولڈ میڈل جتوایا۔

اگلی دو دہائیوں تک مختلف قابلیتوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے دارا بین الاقوامی ہاکی فیڈریشن کے نائب صدر بن گئے اور اور ایشین ہاکی فیڈریشن کی سربراہی کی۔ وہ ٹورنمنٹس جیسے ورلڈ کپ اور چیمپین ٹرافی کے اہم سپونسرز میں سے ایک تھے۔

پاکستان ہاکی  کا مضبوط قلعہ بن گیا ، دارا کی زندگی کے دوران دو بار ورلڈ کپ  جیتنےمیں کامیاب ہوا  اور تیسری بار 1982 میں  بمبئی میں جیتا جب دار ا کی موت کو ایک سال گزر چکا تھا۔  پاکستان نے 1994 میں بھی ورلڈ کپ جیتا۔اس کے علاوہ پاکستان  تین اولمپک گولڈ میڈل، تین چمپئن ٹرافی گولڈ میڈل اور ایشین گیمز اور ایشیا کپ کی جیت کا بھی سہرا اپنے نام رکھتا ہے۔

”دارا ہی وہ شخص تھے جنہوں نے پاکستانی ہاکی کی تعمیر کی اور اسے سب سے اونچائی والی بلندی پر لے گئے ،” نکت بھوشن نے اپنی کتاب ”دھیان چند: لیجنڈ جو زندہ ہے” میں لکھا۔ ”جب بھی پاکستان جیتتا، دھیان چند کہتا، دارا کا  پاکستان ہاکی کے لیے اچھی محنت کر رہا ہے۔”

دارا  اور دھیان کے بیچ محبت اور احترام کا رشتہ ہمیشہ قائم رہا اور دارا دھیان چند کو بھارت کا بہترین ہاکی پلئیر قرار دیتے تھے۔

انڈیا پاکستان دوستی

دارا انڈیا اور انڈین ہاکی کا خیر خواہ رہا۔ 2016 میں شائع ہونے والی ایک کتاب بعنوان ”My Olympic Journey: 50 of India’s Leading Sportspersons on the Biggest Test of Their Career ” میں دھیان چند کے بیٹے اشوک کمار، جو انڈیا کی واحد فتح کے فاتحانہ گول کی وجہ سے اچھی طرح جانے جاتے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ کیسے دارا میکسکو شہر میں 1968 کے اولمپک میں انڈین ٹیم کے ساتھ شامل تھے۔

انڈین ٹیم جو اس سال اولمپک کے لیے گئی  تھی کے دو کپتان تھے اور دو چھاؤنیوں میں گہری تقسیم تھی۔ جب وہ سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے ہارے، دارا نے انڈین ٹیم کو بلایا۔

اشوک کمار  لکھتے ہیں:”انڈیا برونز میڈل پلے آف میں جرمنی کے ساتھ کھیلنے والی تھی اور منقسم ٹیم سے پرانے کھیل کی ہی توقع تھی  لیکن اچانک ایک حیران کن مداخلت نے پانسا پلٹ دیا۔ ”یہ مداخلت کرنل علی اقتدار شاہ دارا کی صورت میں  ہوئی جو اس وقت پاکستان ہاکی فیڈریشن کے  سربراہ تھے۔ وہ میرے والد اور انڈین ہاکی فیڈریشن کے سربراہ اشوینی کمار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ہاکی میں ایشیا کی یورپ پر برتری کو دیکھنے کے لیے پرجوش تھے۔ انہوں نے ٹیم میں کچھ تبدیلیوں کا مشورہ دیا جس نے جرمنی کے خلاف برونز میڈل پلے آف کھیلا اور اس نے کام کیا اور انڈیا نے برونز کے لیے پلے آف جیت لیا۔در اصل دارا نے  کمار کو مشورہ دیا کہ کچھ پلئیرز کی پوزیشن تبدیل کریں۔ ایسا کرنے سے ٹیم میں جو تقسیم کی صورتحال تھی وہ ختم ہو گئی۔   یہ دارا کی ان کے سابق ملک کے لیے ایک چھوٹی سی شرکت تھی۔”

دارا نے 1971 کی جنگ کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کھیلوں کے رابطے بحال کرنے میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ جنگ کے تین سال بعد دارا نے ایک ایشین آل سٹار تقریب مرتب کرنے میں مدد کی۔ نکت بھوشن نے لکھا کہ دارا نے دھیان چند کو دعوت دی جو اس وقت جھانسی میں رہتے تھے، کہ وہ دہلی میں تقریب میں شریک ہوں۔ اس موقع پر پرانے دوستوں نے ماضی کی یادیں تازہ کیں۔

اپنے پرانے دوست دھیان چند کی وفات کے دو سال بعد دارا 1981 میں وفات پا گئے، ۔

اگرچہ دونوں ممالک  نے ماضی قریب میں ہاکی فیلڈ میں شاندار پرفارمنس دکھائی ہے لیکن کوئی بھی ٹیم ایک دہائی سے کوئی گولڈ میڈل یا ولڈ کپ جیتنے کے قریب بھی نہین دکھائی دی۔اگر ان دو ٹیموں سے ایک بھی اس ٹورنامنٹ میں   ایشیا کو ہاکی پاور ہاوس ثابت کردیتی ہے تو یہ دارا کے لیے خراج تحسین کا بہترین انداز سمجھا جاائے گا۔

بشکریہ دنیا پاکستان

علی اقتدار شاہ دارا: انڈیا اور پاکستان کی ایک مشترکہ میراث

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *