• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاک سعودی تعقات اور عمران خان کا دورہ سعودی عرب؟۔۔۔۔ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

پاک سعودی تعقات اور عمران خان کا دورہ سعودی عرب؟۔۔۔۔ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

خبروں کے مطابق وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب سب سے پہلے اپنے بیرونی دورے پر سعودی عرب جائیں گے۔ جب بھی کوئی وزیراعظم حلف اٹھاتا ہے تو سفارتکار بڑی تیزی کے ساتھ اپنے اپنے ملک کے مفادات کے تحفظ کے لئے سرگرم ہو جاتے ہیں اور یہی ان کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ سعودی سفارتکاروں نے یکے بعد دیگرے کئی ملاقاتیں کیں اور سعودی وزیر بھی آئے، جنہوں نے شاہ سلمان کے خصوصی پیغامات بھی پہنچائے۔ خطے میں عرب بہار کے ساتھ ہی سعودی عرب نے بڑی جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے، اس نے ہر اس ملک کو اپنا دشمن سمجھا ہے، جو یمن اور دیگر ممالک میں جاری سعودی مداخلت میں اس کے ساتھ نہیں ہے۔ آپ قطر کی صورتحال دیکھ لیں، دونوں عرب ممالک ہیں، دونوں ہم عقیدہ بھی ہیں، ہر اتحاد کا حصہ تھے، جیسے ہی اختلافات ہوئے، اس کا حقہ پانی بند کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا۔ اب جب اس میں کافی حد تک ناکامی ہوئی تو قطر کو ایک جزیرے میں تبدیل کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا، ستر کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک بڑی نہر کھود کر قطر کے چاروں طرف پانی ہی پانی کر دیا جائے گا۔ حیران کن طور پر ان اونٹوں کو چرانے والوں سمیت سعودی عرب سے نکال دیا گیا جن کا تعلق قطر سے تھا۔

پاک سعودی تعلقات ہمیشہ مذہبی سائے میں مفادات کے نیچے رہے ہیں۔ افغان جنگ میں سعودی پیسہ اور نظریہ استعمال کرتے ہوئے جہاد انڈسٹری خوب چلی، جس نے امریکی مفادات کے لئے پاکستان کے امن کو غارت کر دیا اور آج بھی ہم اس سے باہر نہیں آسکے۔ کبھی اے پی ایس میں اپنے دلوں کے ٹکڑوں کا خون ہوتا دیکھتے ہیں اور کبھی اپنی ہی چیک پوسٹوں پر حملوں میں اپنے جوانوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔ سعودی عرب نے یمن پر حملے کی پلاننگ کرتے وقت یہ فرض کر لیا تھا کہ پاکستانی فوج ایک کال پر پہنچ جائے گی، ان کی ساری پلاننگ اسی مفروضے کے مطابق تھی اور سابقہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی بے جا بات بھی نہیں تھی، مگر اس وقت کی حکومت نے ہمت کی اور پارلیمنٹ کے ذریعے بڑی حکمت عملی سے اس جنگ سے دوری اختیار کی، جو ہمارے لئے بہت اچھی ثابت ہوئی۔

وہ آگ جو فرقہ واریت کے نام پر عراق اور شام میں بھڑکائی گئی، جس کے الاو سے یہ دونوں ملک جھلس گئے اور یمن میں اس کے اثرات نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، ہم انسانیت کے اس قتل عام میں شامل نہ ہوئے، اس وقت کی پارلیمنٹ اس فیصلے پر خراج تحسین کی مستحق ہے۔ اس فیصلے پر سعودی ردعمل بڑا شدید تھا، انہوں نے ہماری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور مودی کو سعودی عرب بلایا گیا، اس دورہ میں مودی کو بہت زیادہ پروٹوکول دیا گیا اور ساتھ میں اسے سعودی عرب کے سب سے بڑے سول اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ یہ پاکستان کے لئے پیغام تھا کہ تم نے ہمارے کہنے پر عمل نہیں کیا، ہم اس کی سزا دیں گے۔ مودی کو ایوارڈ دینے پر جہاں اہل پاکستان کے دل دکھے، وہیں اہلیان مقبوضہ کشمیر کے دل بھی بے قرار ہوئے، کیونکہ حرمین کی وجہ سے ہر شخص اس ارض مقدس کا احترام کرتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت بڑے بڑے وعدے کرکے اقتدار تک پہنچی ہے، اس نئی قائم ہونے والی حکومت کے پاس وقت کم ہے اور مسائل بہت زیادہ ہیں۔ یہ مسائل وسائل کا تقاضا کرتے ہیں کیونکہ ڈیم، ہسپتال اور دیگر انفراسٹکچر کی تعمیرات وسائل کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہاں عملی طور پر خزانے کی صورتحال کافی پیچیدہ ہے۔ ہمارے وزیر خزانہ محترم اسد عمر صاحب کے مطابق اس صورتحال سے نکلنے کے لئے فوری طور پر گیارہ ارب ڈالر کے بیل آوٹ پیکج کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے آئی ایف کے دروازے پر دستک دی گئی، مگر وہاں ہمارے سابق دوست امریکہ نے ہمیشہ کی طرح ہمارے راستے میں روڑے اٹکائے اور قرض سے انکار ہوگیا، اقرار کی صورت اسی وقت نکل سکتی ہے، جب ہم امریکہ کی ذلت آمیز شرائط کو قبول کر لیں۔ اس میں ایک مسئلہ پاکستانی عوام کا بھی ہے، کیونکہ پی ٹی آئی نے وعدے کئے تھے کہ ہم کسی صورت میں قرض نہیں لیں گے، اب قرض لیتے ہیں تو شدید عوامی دباو کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے سامنے ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ جیسے یہ قرض لینے کی بات کی گئی، سوشل اور قومی میڈیا پر ایک ہلچل مچ گئی تھی۔ اب حکومت پاکستان کو ہر صورت میں پیسے چاہیں، تاکہ وہ اپنے منصوبے مکمل اور اپنے وعدے پورے کرسکے، آئی ایم ایف آپشن مشکل ہوچکا ہے اور حکومت کو دیگر آپشنز پر غور کرنا پڑ رہا ہے۔

ایسی صورتحال میں ہمارے سعودی دوست پہنچے ہیں، ان کی عملی صورتحال بھی کافی گھمبیر ہے، وہ کافی مشکلات کا شکار ہوچکے ہیں، پیسہ ان کے پاس بہت ہے، اسلحہ بھی مشرق و مغرب کا جمع کر لیا ہے، لیکن افرادی قوت اس قابل نہیں ہے کہ اس کا استعمال کرسکے، اتنے عالی دماغ موجود نہیں جو جنگی حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔ سعودی گروہوں کو عراق میں بری طرح شکست ہوچکی ہے، بلکہ اگر دیکھا جائے تو عراق کی طرف سے سعودی بارڈر کافی غیر محفوظ ہوچکا اور وہاں انہیں باقاعدہ فوجی چوکیاں بنانا پڑی ہیں، جس سے ان کے متحرک بارڈر میں کافی اضافہ ہوچکا ہے۔ شام میں بھی صرف ادلب بچا ہے، جہاں سعودیہ کے حمایتی گروہوں نے پناہ لے رکھی ہے، اگلے چند دنوں میں ان کی گرفتاری، موت یا ترکی فرار کی خبر آجائے گی، اس لحاظ سے شام بھی ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

یمن پر حملہ حیران کن طور پر ناکام ہوچکا ہے، یمنیوں کے بارے میں تمام سعودی تجزیے غلط ثابت ہوچکے ہیں، اب تو یہ صورتحال ہوچکی ہے کہ کئی اہم سعودی شہر یمنی میزائلوں کی زد میں آچکے ہیں۔ وہ یمن جس کے مظلوم مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا، وہ سعودی گلے کی ہڈی بن چکا ہے، یہ لٹے پٹے لوگ اپنا سب کچھ برباد کروانے کے بعد بجنگ آمد ہیں۔ سعودیوں کا خیال تھا کہ ہماری ہر بات مقدس مقامات کی آڑ میں قبول کر لی جائے گی، ہمارے جبہ و دستار قائم رہیں گے اور ہم تیل کے پیسے سے رقص و سرور کی محفلیں بھی کریں گے اور کرائے کے لوگوں کو لڑوا کر اپنے مفادات کا تحفظ بھی کریں گے، مگر اب سعودی عرب یمنی دلدل میں پھنس چکا ہے۔

اس ساری صورتحال میں سعودی عرب کو لڑنے والے لوگ چاہیئے، جو یمن میں اس کی گلو خلاصی کرائیں اور پاکستان کی نئی قائم ہونے والی حکومت کو پیسے چاہیں۔ ہمارے وزیراعظم نے سعودیہ جانے کا فیصلہ کیا ہے، اس میں آرمی چیف بھی ان کے ہمراہ ہوں گے اور اسی دورے میں اسلامک بنک سے مذاکرات بھی ہوں گے، جس میں سعودی حمایت سے چھ ارب ڈالر اپنے اکاونٹ میں داخل کرنے کے لئے مل جائیں گے۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ چھ ارب ڈالر ہم استعمال نہیں کرسکیں گے، فقط اپنے کاونٹ میں رکھ کر دنیا کو یہ دکھا سکیں گے کہ ہمارے پاس یہ پیسے موجود ہیں۔ سعودی عرب یہ چھ ارب ڈالر مفت میں نہیں دے گا، ہمارے آرمی چیف بھی وفد کے ساتھ جا رہے ہیں، امید ہے کہ یہ سب پاکستان کی فوج یمن بھیجنے کے نام پر نہیں ہوگا۔

کیونکہ سعودی اخبارات میں حکومت کے قریب سمجھے جانے والے صحافیوں کے مسلسل آرٹیکلز آرہے ہیں کہ پاکستان کو ایران یا سعودیہ میں سے کسی ایک انتخاب کرنا ہوگا۔ یہ بات ہمارے قومی مفادات کے خلاف ہے، کیونکہ جہاں سعودیہ ہمارے لئے مذہبی طور پر مقدس ہے، وہیں ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے، جس نے سب پہلے ہمیں تسلیم کیا اور آج تک ہر فورم پر پاکستان کا دفاع کر رہا ہے۔ اگر پاکستان یمن کی جنگ میں شریک ہوتا ہے تو جہاں یہ نہتے یمنیوں پر ظلم ہوگا، وہیں یہ خطے میں جاری فرقہ واریت کو کھینچ کر وطن عزیز لے آئے گا، جس سے نکلنے کی ہم بھرپور کوشش کر رہے اور جس سے بہت بڑا نقصان ہم پہلے ہی اٹھا چکے ہیں، اس لئے یمن کی جنگ سے دور رہا جائے اور پارلیمنٹ کی قرارداد کی قدر کی جائے، جس میں یمن فوج نہ بھیجنے کا کہا گیا تھا، اسی میں وطن کی بہتری ہے۔

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *