شہید انسانیت اور فلسفہ شہادت۔۔۔۔سبط حسن گیلانی

سبط حسن گیلانی شہید اور شہادت کا تصور بہت قدیم ہے۔ اتنا ہی جتنا ایک ریاست قوم اور سلطنت کا تصور۔ یہ ہر قوم اور ہر مذہب میں موجود ہے۔ ہر قوم اور ہر مذہب میں اسے نہایت ہی احترام اور عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کا مذہبی و غیر مذہبی تصور بھی کم و بیش ایک جیسا ہے۔ یعنی کوئی انسان گروہ یا جماعت اپنے وطن کی حفاظت کے لیے،کسی عظیم مقصد کے لیے، اپنی قوم یا بنی نوع انسان کے مفاد کے لیے، ان کی آزادی کے لیے، آز ادی اظہار کے لیے، مذہبی سیاسی و سماجی آزادیوں کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے اپنی جان کھو دے تو وہ شہید ہے اپنی قوم کا ہیرو ہے اور اسے اس کی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی اور احترام کی نظر سے دیکھے گی۔

معلوم تاریخ میں سچ اور حق کے راستے پر چلتے ہوئے جابر اور حاکم قوتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جن عظیم لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ان میں سر فہرست ہمیں سقراط نظر آتا ہے۔ یعنی سچ کے راستے پر چلنے والا اولیں شہید اور پھر بعد میں اس راستے پر چلنے والے گروہ کا امام۔ سقراط کے سامنے اپنی جان بچانے کے راستے موجود تھے، اگر وہ اپنے موقف سے تائب ہو جاتا، ایک قدم پیچھے ہٹ جاتا۔ مقتدر قوتوں کو معافی نامہ لکھ دیتا۔مگر اس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ اپنے موقف اور اصول کو اپنی جان سے ذیادہ قیمتی جانتے ہوئے وہ راستہ اپنایا جو اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر کر گیازندہ جاوید بنا گیا۔ کسی لکھنے والے نے کتنا درست لکھا ہے کہ سقراط اگر زہر کا پیالہ نہ پیتا تو مر جاتا۔آج اگر وہ ہمارے دلوں میں ذندہ ہے تو جابر قوتوں کے آگے سر نہ جھکا کر اور پوری من کی شانتی کے ساتھ زہر کا پیالہ پی کر زندہ ہے۔

اس کے بعد دوسرا عالمی شہید جس کی شہادت نے بنی نوع انسان پربے پناہ اثر ڈالا، جس کی انتیس سالا مختصر زندگی اور یوم شہادت نے پوری دنیا کی تاریخ اور زمانے کو دو حصوں میں بانٹ ڈالا۔ آج ہم تاریخ کا شمار کرتے ہیں تو یا ہم اس سے پہلے والا زمانہ لکھتے ہیں یا بعد والا۔ جس نے سولی پر چڑھ کر بھی تین دنوں کے عرصے میں تل تل جان نکلنے والے دنیا کے سب سے زیادہ تکلیف دہ عمل کے دوران ایک لمحے کے لیے بھی اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ جو فلسطین میں ایک چھوٹے سے گاؤں ناصریہ میں پیدا ہوا۔ جسے لوگ عیسیٰ مسیح ناصری کے نام سے جانتی ہے اور ہم اسے عیسیٰ ابن مریم کے نام سے۔ عیسیٰ ابن مریم کی عظیم شہادت اوراس بے گناہ خون نے وہ شہرت دوام حاصل کی کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سقراط کی شہادت کی روشنی اس کی چکا چوند بھی اس شہادت کے سامنے ماند پڑ گئی۔ سقراط کی شہادت کسی مذہب کے حساب میں نہیں لکھی جاتی اس لیے کہ وہ تمام بنی نوع انسان کا مشترکہ ورثہ ہے۔ مگر عیسیٰ ابن مریم کی جدوجہد چونکہ مذہب کے دائرے میں تھی جس نے آگے چل کر ایک عظیم مذہب کی بنیاد ڈالی اس لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ شہادت عیسائی مذہب کا انتہائی قیمتی ورثہ ہے۔

اس کے بعد وہ عظیم مذہب جس کی افاقیت کے سامنے عیسائیت کی چکا چوند بھی ماند پڑ گئی وہ اسلام ہے۔ اسلام بنیادی طور پر ہے ہی قربانیوں کا مذہب۔ سب سے پہلے جن دو افراد نے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں اپنی جان دی وہ مشہور صحابی رسول ﷺ حضرت عمار یاسر رضی کے ماں باپ تھے، جو غلام تھے اور اپنے ظالم آقا کے ظلم و ستم کا شکار ہو کر شہید ہوئے۔ اس کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شہادتیں، مگر حضرت حمزہ کی دردناک شہادت نے سب سے اونچا درجہ حاصل کیا اور انہیں خود پیغمبر ﷺ کی طرف سے شہید اعظم کا درجہ ملا۔ بانی اسلام ﷺ کے بعد پہلے چاروں خلفا میں سے تین شہید ہوئے۔ مگر واقع کربلا جس کی پیش گوئی خود پیغمبر ﷺ نے کی تھی اور ام المومنین ام سلمہ سے کہا تھا یہ میرا بیٹاحسینؑ اسلام کا شہید اعظم ہو گا۔

بلا شبہ واقع کربلا کے بعد سواد اعظم نے اس شہادت کو سب سے بڑی شہادت تسلیم کیا، اور امام حسین ؑ کی شہادت کو دیگر غیر مسلم اقوام نے بھی عظیم شہادت قرار دیااس لیے ہم انہیں شہید انسانیت کے عظیم نام سے یاد کرتے ہیں۔ امام حسین ؑ کی شہادت اور اس کے فلسفے کو مسلمانوں نے پوری طرح سمجھا ہی نہیں ہو سکتا ہے آنے والے زمانوں میں اس کے فلسفے اور پیغام کو وہ درجہ حاصل ہو جائے جو اس کا اصل حق ہے۔ جوش ملیح آبادی یاد آتے ہیں۔ ۔ انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ۔ ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؑ اس عظیم ترین شہادت کے فلسفے اور پیغام کے ساتھ سب سے پہلی جو زیادتی اور ظلم ہوا وہ مسلمانوں کی طرف سے ہوا۔ وہ ایسے کہ اسے فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، اس فرقہ واریت نے مجموعی طور پر اسلام کو وہ نقصان پہنچایا کہ جس کا حساب ہونا ابھی باقی ہے۔خاص کر بیسویں صدی کے اول سے شروع ہونے والی اور اکیسویں صدی میں بھی پوری شدت کے ساتھ موجود فرقہ واریت نے۔ سواد اعظم نے واقعہ  کربلا کو ایک فرقے کے حوالے کر کے اپنے ہاتھ جھاڑ دیے۔ جس فرقے نے اسے اپنایا اس نے بھی اس کے فلسفے اور پیغام کو سمجھے اور اپنائے بغیر اسے محض رسومات کے حوالے کر دیا۔چناچہ آج یہ اسلام کا عظیم ترین ورثہ چند رسومات تک محدود ہو کر اپنی افادیت و افاقیت سے محروم ہو چکا ہے۔

سقراط،عیسی ابن مریم اور امام حسینؑ کی عظیم ترین شہادتوں میں ہمیں ایک حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے، وہ یہ کہ ان تینوں شہدا نے ایک ہی راستے کا انتخاب کیا، مظلومیت کے راستے کا، عدم تشدد کے راستے کا۔ امام حسین ؑ کی شہادت اور اس بے گناہ خون کا سب سے بڑا فائدہ اسلام کو یہ ہوا کہ مذہب اسلام کے پردے میں چھپی ہوئی اس وقت کی ایک جابر و ظالم سلطنت کے چہرے سے نقاب اُتر گیا۔اس کے بعد آنے والی ظالم جابر و استحصالی قوتوں حکومتوں سلطنتوں ریاستوں نے خود کو مذہب کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کی اور کچھ تو آج بھی کر رہی ہیں مگر نہ یہ پہلے کبھی کامیاب ہو پائیں تھیں نہ آج ہوں گی اور نہ ہی آئندہ انشااللہ۔ان قوتوں نے جب جب تلوار کے زور پر مسلمانوں اور دیگرانسانوں پر اپنا اقتدار قائم کرنا چاہا تو ناکامی ان کا مقدر بنی۔ آج کے جدید دؤر میں یہ قوتیں جمہوریت کے پردے میں لوگوں کو بے وقوف بناتی ہیں اپنے لیے مذہبی جواز گھڑتی ہیں لیکن عام مسلمان ان کے بھرے میں نہیں آتے وہ انہیں ہر بار مسترد کرتے ہیں، مسلمانوں کے اندر یہ سیاسی سماجی و تنقیدی شعور شہید کربلا امام حسینؑ کی شہادت کا صلہ ہے۔ یہ شہادت صرف اسلام کی چند رسومات کو بچانے کے لیے پیش نہیں کی گئی تھی۔ نماز روزہ حج زکات سے کوئی انکاری نہیں تھا۔ امام کا قاتل گروہ بھی یہ فریضے ادا کر رہا تھا۔ مگر اسلام کی اصل روح مردہ ہو چکی تھی جسے اس خون نے دوبارہ سے  زندگی بخشی، وہ روح آزادی اظہار تھی۔ ظالم اور جابر کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کی جرات تھی۔

تمام بنی نوع انسان کو بلا امتیاز مذہب و ملت رنگ و نسل زبان و علاقہ انسانیت کی بنیاد پر یکساں سیاسی سماجی و مذہبی آزادیوں کا حق تھا۔ جن کی ضمانت بانی اسلام ﷺ نے دنیا کو دی تھی۔ انسانیت کو نشیب سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں اور رفعتوں تک پہنچانے والا وہ قانون اور اعلان تھا جسے پہلے اور آخری حج سے واپسی پر صحرا کے ایک مقام پر کھڑے ہو کر نبی اسلام ﷺ نے پوری دنیا کو دیا تھا۔ جسے آج کی مہذب دنیا بھی انسانیت کا سب سے بڑا چارٹر تسلیم کرتی ہے، امام حسین ؑ کی شہادت نے ان ٖضمانتوں پر مہر تصدیق ثبت کی تھی۔ آج بھی پوری دنیا کے حریت پسند امام حسین ؑ کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں۔ جو انسان جو مسلمان اپنے اپنے وقت کی ظالم جابر اور استحصالی قوتوں سے نبرد آزما ہے وہ قافلہ حسینی کا مسافر ہے۔

سبطِ حسن گیلانی
سبط حسن برطانیہ میں مقیم ہیں مگر دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ آپ روزنامہ جنگ لندن سے بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *