• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • دانشور ـ شاعر ـ صحافی حضرات خوف، ـ ذاتیات، ـ جانبداری اور مصلحت کا شکار ـــ ۔۔۔۔۔۔عابد حسین

دانشور ـ شاعر ـ صحافی حضرات خوف، ـ ذاتیات، ـ جانبداری اور مصلحت کا شکار ـــ ۔۔۔۔۔۔عابد حسین

کسی بھی معاشرے کے فکری اُتار چڑھاؤ میں وقت کے حضرات (دانشوروں ـ شعرا صحافیوں ) کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے,اور اگر حضرات(دانشورـشاعرـ صحافی) اپنے کندھوں پر موجود ذمہ داری صحیح ادا نہ کریں اور کوتاہی برتیں تو عام عوام کا اپنے حقوق تک رسائی ـایشوز اور نان ایشوز میں فرق ـ  اور پھر مسائل کا حل تلاش کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔جب معاشرہ ہر لحاظ سے زوال پذیری کا شکار ہو اور مال و متاع کو دیکھ کر عِز و شرف کا فیصلہ کیا جاتا ہو تو یہ معاملات حضرات میں لالچ اور خود نمائی کا عنصر ضرور لے آتے ہیں جو کہ حقائق بیانی میں بڑی دیوار بنتے ہیں۔اور اگر تلخ سچائی کے بیانوں پر حضرات(دانشورـشاعرـصحافی)کو جان اور ایمان سے جانے ـ عزت سے ہاتھ دھونے کا خطرہ ہو تو بھی حقائق کا بیان کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔اور اگر ریاست خود ان کاموں میں  ملوث ہو جائے اور  مختلف  حیلوں بہانوں ہتھکنڈوں سے حدِ ادب دستارِ شاہی کا لحاظ پیشِ نظر رکھنے کا حکم نامہ نافذ ہو،غدارـ ایجنٹ ـ کافرـ توہینِ مذہب کے سرٹیفیکیٹ دینے والوں کو ختم کرنے کی بجائے خوب حوصلہ افزائی ہو تو حضرات کے لئے یہ وقت کڑی آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔جہاں ریاست سانپ(دہشتگرد) پال سکتی ہے،وہاں حضرات پالنا کوئی عجوبہ اور نا ممکن کام نہیں ہے ـ۔پھر ان جعلی حضرات کو بھی پالے ہوئے سانپوں کی طرح عوام میں چھوڑ دیا جائے یہ جعلی حضرات بھی سانپوں کی طرح خوب نمک حلالی کا حق ادا کرتے ہیں ـ۔۔چاہیں تو کوے کو سفید بکوا لیں چاہے تو کبوتر تو کوا کہلوا لیں ـ۔

جنبشِ قلم ذرا حدِ ادب ـ ظلِ الہی ان باتوں کا جلد برا منا لیتے ہیں اور اچھے تجربہ کار جادو گر ہونے کے ناطے اچھا خاصا بندہ منٹوں میں غائب کر سکتے ہیں ـ تو ایسی جادو نگری میں سچائی کا سامنے لانا کوئی آسان کام بھی نہ ہے کیونکہ دیانتداری یعنی حق گوئی کا راستہ نہایت کھٹن راستہ ہے ـ اور زندگی میں بہت سی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے ـ۔جبکہ دوسرا راستہ قصیدہ گوئی ـ خوشامد ـ دست و پا بوسی کا راستہ ہے جو کہ آرام دہ اور آسان ہے بس آپ کےبقلم اور آواز سے کسی قاری یا سامع  کے ذہن میں کوئی سوال جنم نہ لے روایتی سوچ کو نیا رخ نہ ملے ، کیونکہ تاریخ بڑی بے رحم ہے یہ طاقتور جرنیلوں کو نہیں بخشتی عبرت کا نشان بنا دیتی ہے ۔حضرت کیا چیز ہیں ـ۔۔۔۔۔۔۔اور حضرات(دانشور ـ شاعر ـصحافی) ذہن میں رکھیں کہ یہ اکہتر کا زمانہ نہیں ہے کہ جب کسی اخبار کے ماتھے کا جھومر تو فتح مبین کی جھوٹی خبر بنا دی جائے جبکہ ذلت آمیز اور عبرتناک شکست ایک سچی حقیقت ہو ـ۔۔۔

حضرات ـ بلوچوں کی جھونپڑیوں کو لگی آگ سے جتنا بے خبر رکھیں لیکن وہاں جھونپڑیوں کو لگی آگ اور بجھانے تک کو پانی کا میسر نہ ہونا ایک سچی حقیقت ہے ـ۔۔۔

حضرات ـ اپنے حقوق کی خاطر آواز اٹھاتے پشتونوں کو جتنا اپنے خود ساختہ پشتونوں کے کھوہ کھاتے ڈالنے کی کوشش کریں لیکن ان کے مطالبات اور مسائل سچی حقیت ہیں ـ۔

حضرات ـ خود کو اور اداروں کو جتنا بھی غیر جانبدارانہ ـ آزادانہ ہونے دھنڈورا پیٹیں اور بتائیں مگر مداخلت اور جانبداری ایک سچی حقیقت ہے ـ۔

حضرات ـ کسی کی بیماری کا خوب مذاق اڑائیں جھوٹا اور پراپگنڈہ کہیں لیکن بیماری کی وجہ سے کسی کی موت ایک سچی حقیقت ہے ـ۔

اور حضرات حقیقتوں کو فقط تھوڑی سی دیر اوجھل رکھا جا سکتا ہے ہمیشہ کیلئے چھپایا نہیں جا سکتا ـ۔اور ایسی چاپلوسی اور بے سود کوشش کرنے کیلئے نام کے ساتھ لقمان سے زیادہ حضرات کا مزاجاً ڈھیٹ ہونا بہت ضروری ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *