یزید حسین۔۔۔۔حسن کرتار

“تو آپ کے باپ کو اور کوئی نام نہیں ملا تھا؟۔ کمال ہے!”

“سر میرے والد کافی سلجھے ہوئے اور پڑھے لکھے انسان تھے۔ وہ ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے”

“تو میں جاہل ہوں! لوگ بھی ناں دو چار انگریزی کتابیں پڑھ کر خود کو جانے کیا سمجھ لیتے ہیں۔ میری طرف سے معذرت سید محمد علی شاہ بخاری ایسے کسی شخص کو اپنے ہاں ملازمت نہیں دے سکتا جس کا نام یزید ہو۔”

“سر صرف یزید نہیں ہے یزید حسین ہے”

“استغفر اللہ! بھئ کم ازکم میرے سامنے مت لو یہ نام۔ آپ یہاں سے جاسکتے ہیں۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیا کیا کیا کہا۔ چل دفعہ ہو جا یہاں سے”

“مگر میرا بہت ضروری کام ہے۔ تمہارا ناموں سے کیا لینا دینا۔ چپ کر کے اپنا کام کرو۔”

“نکل یہاں سے ورنہ بندے بلا کر تیری ایسی پھینٹی لگواؤں گا کہ تیری سات نسلیں یاد رکھیں گی۔گستاخ شرم نہیں آتی تجھے۔ دین کے ساتھ مذاق کرتا ہے۔”

“اللہ کے بندے یہ میرا اصل نام ہے۔ میرے باپ نے رکھا تھا اب میں کیا کروں”

“بھاڑ میں جائے تیرا باپ۔ اور کوئی نام نہیں ملا تھا۔ صبح صبح جانے کس منحوس کی شکل دیکھی تھی کہ تیرا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جا پہلے اپنا نام بدل کر آ۔ چل اب دفعہ ہو جا یہاں سے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اچھا بابو آپ کا نام کیا ہے”

“یزید حسین ”

“ہاہا مذاق اچھا کرلیتے ہیں آپ۔ نہیں بتانا تو مت بتائیں۔ ہم پیشے والیاں بھی ایسا ہی کرتی ہیں۔ ہمارے کئی  نام ہوتے ہیں”

“نہیں میرا واقعی میں یہی نام ہے”

“یا علی مدد! یا پنجتن پاک مجھے معاف کرنا۔ بابو اگر واقعی تمہارا نام یہی ہے تو اور کہیں چلے جاؤ۔ میں بہت گنہگار ہوں مگر اتنی بھی گنہگار نہیں۔ مولا کو قیامت کے روز کیا منہ دکھاؤں گی۔ نہ بابو براۓ مہربانی ادھر سے چلے جاؤ۔”

“تمہیں صرف پیسے سے غرض ہونا چاہیے ۔ میں چاہتا تو اپنا نام کچھ اور بھی بتا سکتا تھا۔ مگر میں نے جھوٹ نہیں بولا”

“بابو کاش تم نے جھوٹ بولا ہوتا۔ ۔ نہیں نہیں یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔ آپ ادھر سے چلے جاؤ۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تو سالے تو اپنا نام بدل کیوں نہیں لیتا۔ کب تک یہ روز روز کا ڈرامہ۔ حد ہوتی ہے۔ کوئی اور اچھا سا نام رکھ لے۔”

“کیوں میں اپنا نام کیوں بدلوں۔ یہ گھٹیا لوگ اپنی ذہنیت کیوں نہیں بدلتے۔ ۔ کیوں بدلوں میں اپنا نام ؟۔۔ یہ بس میرا نام ہے اور مجھے بہت پسند ہے۔”

“بیٹا تو کئی  دفعہ اس نام کی وجہ سے ذلیل ہو چکا ہے پٹ بھی چکا ہے۔ تجھے عقل کیوں نہیں آتی۔ یہاں کے کلچر کے حساب سے یہ نام بہت عجیب ہے۔ بہتر یہی ہے بدل ڈال۔ ناموں میں کیا رکھا ہے”

“یہی تو میں کہتا ہوں ناموں میں کیا رکھا ہے۔ پر میری بات کسی کو سمجھ ہی نہیں آتی۔”

“تو نہیں سدھرے گا۔ میں چلتا ہوں اب”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بیٹا آپ کا نام کیا ہے”

“یزید حسین”

“واہ کتنا مختلف نام ہے۔ اور آپ کے والد کا کیا نام ہے”

“یزید حسین”

“کیا مطلب! دونوں کا ایک ہی نام ہے”

“جی سر”

“تو آپ کے والد کیا کرتے ہیں”

“سر کافی عرصہ پہلے ان کا انتقال ہو چکا ہے”

“اوہو ویری سوری کیا ہوا انہیں”

“سر پاکستان میں چند شدت پسندوں نے انہیں بہت بے رحمی سے قتل کردیا تھا۔”

“او مائ گاڈ! وٹ نان سنس پر کس لئے”

“کیونکہ ان کا نام یزید حسین تھا”۔۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *