گھٹیا افسانہ نمبر 2۔۔۔۔۔۔ فاروق بلوچ

جیسے ہی شبیر بخاری لوگوں کی بھیڑ  سے نکل میرے سامنے آیا ہے مجھے اپنے بائیس ہزار یاد آ گئے ہیں. بھڑوے نے دو سال گزار دئیے ہیں یہ کہہ کہہ کر کہ آج شام کل شام کو دے رہا ہوں. کتی کا بچہ. شبیر بخاری ایک لمبا ڈگ بھر کے میرے قریب ہو گیا اور مجھے گلے لگا لیا. کندھے پہ تھپکیاں دے رہا ہے. کہتا ہے کہ آپکے   والد صاحب کی وفات بہت افسوس ناک ہے، الہی آپ کو صبر دے، آپ والد مرحوم شریف اور نیک آدمی تھے، اُن کا جنت میں داخلہ کنفرم ہے. مجھے بائیس ہزار یاد آ رہے ہیں. یہ کیا طریقہ ہے؟ دو دن کا کہا تھا آج دو سال ہو رہے ہیں. سور کا بچہ. وہ اب بھیڑ میں گم ہو رہا ہے. مجھے بائیس ہزار روپے ڈوبنے کا افسوس ہے.

شازیہ تمہارے پاس کتنی رقم دستیاب ہے؟
مرے پاس آٹھ دس ہزار ہوں گے. کیوں! تمہیں ضرورت ہے؟
ہاں بابا ہسپتال میں ہیں مجھے جلد از جلد رقم درکار ہے.
اچھا میں جویریہ سے مانگ تانگ کر تمہیں پندرہ ہزار بھیج رہی ہوں، کافی ہیں؟
بیس نہیں ہو سکتے؟
اچھا چلو بھیجتی ہوں، تمہارے شناختی کارڈ نمبر کی ضرورت پڑے گی، وہ مجھے بتاؤ.
میں اپنے قسمت پہ رشک آ رہا ہے، ایسی بیوقوف گرل فرینڈ اللہ سب کو دے. فیس بک پہ ایسی کئی لڑکیاں مل جاتی ہیں جو عشق کے چکر میں پڑ کر پیسہ کھلاتی ہیں. وہ کون سا میرے خاندان بارے جانتی ہے. جو بتایا ہے اُس کو وہی سچ لگتا ہے. خیر شازیہ نے دو گھنٹے کے اندر اندر ببیس ہزار بھیج دئیے. پرانا موبائل-فون دے کر اور اضافی بیس ہزار دیکر آئی فون سیون میں سابقہ موبائل کا ڈیٹا ڈالتے ہوئے شازیہ کی تصویر سامنے آئی تو تھوڑا تھوڑا ترس آ رہا ہے.

میرے پاس فقط دو سو روپے ہیں. لیکن میں کم از کم پانچ معروف ترین اور موثرترین ہم جماعتوں کو افطاری پہ دعوت دینا چاہتا ہوں. لہذا میرے پاس کم از کم دو ہزار روپے ہونے چاہئیں. رات کے تین بج رہے ہیں، آنکھیں بار بار بند ہو رہی ہیں. لیکن اگلے ماہ ہونے والے سٹوڈنٹ یونین کا الیکشن جیتنے کے لیے بہت سارے پیسے درکار ہیں. میں فوراً چوری کے خیال سے کھڑا ہو چکا ہوں، آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترنے لگا، سیدھا مدرسے کی عقبی دیوار پھلانگ کر چندے والے ڈبے کے قریب پہنچ چکا ہوں. مولوی ابھی تک پاد رہا ہے. میں سوچ رہا ہوں کہ ڈبہ ہی ساتھ لے جاؤں، لیکن ہر صورت شور سے بچنا ہے. اچانک ایک دوسرا خیال آیا. جاکر وضو کیا تاکہ اگر کوئی جاگ بھی جائے تو میں تہجد کا بہانہ کر لوں. ڈبہ اٹھا کر عقبی دیوار پہ پہنچا ہی ہوں کہ مولوی نے مجھے دیکھ لیا، آواز دی لیکن تب تک دیوار پھلانگ کر اندھیروں کو چیرتے ہوئے اپنے چوبارے کی سیڑھیوں پہ چڑھ چکا ہوں. باہر گلی میں چور چور کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں. اگر میرے چوبارے پہ موجود لوگ جاگ جاتے ہیں تو میرے لیے چندے والا ڈبہ چھپانا مشکل ہے. آہستہ آہستہ اپنے کمرے میں داخل ہوکر ڈبے کو کسی طرح کھول کر پیسے گننا مزہ دے رہا ہے.

یہ بلاوا کوئی پہلی بار نہیں ہے. امین مجھے پچھلے تین دنوں میں چار مرتبہ اپنی بیٹھک میں بُلا چکا ہے. آج بھی نصیر کے ہاں محفلِ نعت سے واپسی پہ وہ میرے پیچھے پڑ گیا کہ ایک بار پھر سے، میں نے نہ ٹالنے کی بات کہی اور نہ ہی اقرار…. اب دن کے تین بجے اُس کی بیٹھک کھٹکھٹا رہا ہوں، میں اپنی بیٹھک سے نکل کر امین کی بیٹھک میں داخل ہو رہا ہوں. جن لوگوں کا اپنے ہمسایوں میں ہی جسمانی تعلق قائم ہو جائے تو بس اُن کی کی زندگیوں میں اِس کی کمی نہیں رہتی، بلکہ یہ معاملہ دن بہ دن الجھن زدہ ہو جاتا ہے، مگر ڈھٹائی کے ساتھ جاری رہتا ہے. امین مجھ سے کم از کم پندرہ سال بڑا ہو گا، مجھے میرے مرحوم چچا زاد نے بتایا کہ یہ امین ڈھونڈ ڈھونڈ کر کم عمر لڑکے کہیں نہ کہیں سے لے ہی آتا ہے، کیونکہ ہمارے خاندان میں مجھ سے قبل امین کو اپنے سامنے الٹا لیٹا ہوا صرف مرحوم دلاور نے دیکھا ہوا ہے. میں اُس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا جب پہلی بار امین نے میری طرف پیش قدمی کی تھی. مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا. چودہ پندرہ سال کی عمر میں کوئی شخص خود آپکے سامنے لیٹ جائے تو انکار کی کوئی ضرورت بھی محسوس نہ ہوئی. جس دن امین کرنٹ لگنے کی وجہ سے جاں بحق ہوا تو جس وقت تک میت دفن نہ ہوئی میں گھر سے ہی نہ نکل سکا. میں دو بار اُس کی قبر پہ گیا لیکن کچھ محسوس نہ ہوا.

مشہور قومی یادگار کے اردگرد پنڈال کرسیوں سے بھر چکا ہے. لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجود ہے. یہ چار روزہ اجتماع کا دوسرا روز ہے. ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے اجتماع میں شرکاء کی تعداد لاکھوں میں ہے. ایک تنظیم کے سٹوڈنٹس لیڈر کی طرف سے خطاب کرنے کے لیے ابھی میرا نام پکارا جا رہا ہے. میں نے خطاب کا آغاز ذکراللہ سے کرنے کے بعد دھیمی تقریر شروع کر دی. سورہ اخلاص کی تفسیر کے بعد وقفے کے دوران نعرے لگائے جانے لگے تو ہلکے سے توقف کے بعد کہہ رہا ہوں کہ قوموں کی پائیدار نشوونما اور ترقی اگر ہو سکتی ہے تو صرف مثبت اخلاقیات اور ایک پاکیزہ نصب العین ہی کی بنیاد پر ہو سکتی ہے. جو راہنما یہ اصل طریقہ چھوڑ کر قومیت کے استحکام و ترقی کے لیے بدخوئی، خوف اور شرانگیزی کو مستقل وسائل کے طور پر مستعمل بنا لیتے ہیں وہ اپنی قوم کا مزاج خراب کر دیتے ہیں اور ایسی بنیادوں پہ استوار قوم ایک نہ ایک دن سیاہی ماتھے پر مَل ہی لیتی ہے. پنڈال نعروں سے گونج رہا ہے. ایک باریش نوجوان کے سوال کے جواب میں بولنا شروع کر رہا ہوں کہ دین اور ریاست کا اتنا براہ راست تعلق ہے اور یہ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہیں کہ اگر ریاست اسلام کے بغیر ہو تو ظلم، لاقانونیت اور جہالت کا سبب بن جاتی ہے اور اِسی کے نتیجے میں چنگیزی جنم لیتی ہے. اور ہاں اگر اسلام، ریاست پہ قابض نہ ہو سکے تو اس کا ایک حصہ بیکار ہو جاتا ہے. حق کا دین حکمرانی اور قیادت کے بجائے غلامی اور مقتدیت کا سامنا کرتا ہے. ریاست کو اسلامی بنیادوں پر تشکیل دینا بیحد ضروری ہے. ریاست شریعت کی پابند ہو اور اس کی حفاظت کے لیے تیار رہے.

جاری ہے

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *