ابن الوقتی اور ذات پات کی تفریق کا مجرب علاج

ڈاکٹر سلیم خان .

نتیش کمار نے مکھوٹا بدلنے کے بعد پہلی بارچونچ کھول کربڑی حق گوئی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا 2019 کے انتخاب میں مودی کو کوئی چیلنج نہیں ہے۔ یہ نتیش کمار کی آتما کی آواز ہے جو من کی بات بن کر زبان پر آگئی۔ نتیش کمار جیسا خود پسند آدمی جب تک حزب اختلاف میں تھااپنی ذاتِ والا صفات کو نریندر مودی کے خلاف سب سے بڑا چیلنج سمجھتا تھا لیکن پھر اسے احساس ہوگیا کہ وہ ایک بہت ہی مختصر سی علاقائی جماعت کا ر ہنما ہے۔ نتیش کمار نے اپنی حالیہ ملاقات میں اس حقیقت کا بھی برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا ‘میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں ایک بہت چھوٹی جماعت کی قیادت کرتا ہوں اس لیے قومی سطح پر کسی بڑے عہدے کا ارمان نہیں رکھتا’۔ یہ سچ ہے کہ فی الحال ان کی آرزو مندی پر اوس پڑ چکی ہے لیکن ایسا پہلے نہیں تھا۔ ایک زمانے تک وہ وزیراعظم بننے کا خواب سجاتے رہے لیکن پھر مرکزی حکومت کے خوف اور صوبائی اقتدار کے لالچ نے ان کے انجر پنجر ڈھیلے کردیے۔

نتیش کمار کی غداری سے عارضی طور پر فسطائیت کے مخالفین میں صف ماتم بچھ گئی ہوئی ہے اور یار دوستوں اس کو 2019 کے انتخاب سے قبل یوپی اے کی پہلی ناکامی قرار دے دیا لیکن اگر ایسا ہی ہوتا تو بی جے پی والے بہار میں نتیش کمار کو وزیراعلیٰ بنانے کے بجائے صدر راج نافذ کرکے انتخاب کرواتے اور سشیل مودی کو وزیراعلیٰ بنادیتے لیکن وہ ایسی جرأت نہیں کرسکے بلکہ ایک ابن الوقت کے قدموں میں بیٹھ کر اقتدار کی روٹیاں سینکنے پر اکتفاء کیا۔ سنگھ پریوار کا ایک پرانا مرض یہ ہے کہ وہ اپنے عیوب کی پردہ پوشی کرکے دوسروں کو احساس جرم کا شکار کردیتا ہے۔ افسوس کی بات تویہ ہے کہ فسطائیت کے مخالفین بھی اس کام میں نادانستہ ان کے آلۂ کار بن جاتے ہیں۔

اس بنیادی سوال پر غورکرنے کی ضرورت ہے کہ اگرنتیش کمار فی الحال نہ بدلتے تو 2019 سے قبل سیاسی منظر نامہ کیسا ہوتا ؟ اس میں شک نہیں کہ اگر وہ مہاگٹھ بندھن میں شامل رہتے تو اپنے آپ کو وزیراعظم بنانے کے لیے زمین آسمان کے قلابے ملادیتے اور اپنے سارے مسابقین کو بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کرتے۔ ایک ایک کی کردار کشی کی جاتی اور انہیں نااہل قرار دینے کی بھیانک سازشیں رچی جاتیں۔ اس کام میں بی جے پی کی ان کو در پردہ حمایت حاصل ہوتی اس لیے کہ اس کا نتیش کمار سے بہتر مخالف کوئی اور نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ سعی تین امکانات پرمنتج ہوسکتی تھی ۔

پہلی یہ کہ 2019 کے انتخاب میں نتیش کمار کو حزب اختلاف وزیراعظم کا امیدوار تسلیم کرلیتا اور اس کے بعد تمام جماعتوں کی محنت سے اور بی جے پی سے عوام کے اندرپائی جانے والی شدید بیزاری کے نتیجے میں وہ کامیاب ہوجاتاتو وزیراعظم بن کر عیش کرتا جیسا کہ اب وزیراعلیٰ بن کررہاہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ بی جے پیاپنے بل پر اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتی مگرپھر بھی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرتی۔ ایسے میں یہ کالی بھیڑ اپنے جیسے غدار ارکان پارلیمان کے ساتھ چولا بدل کر بی جے پی ساتھ چلی جاتی اور مرکز میں وزیر یا نائب وزیراعظم بن جاتی۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ اگر نتیش کمار کو وزیراعظم کا امیدوار نہیں بنایا جاتا تو وہ بے چین ہوکربی جے پی کے اشارے پر راون کے بھائی وبھیشن کی مانند خود اپنی لنکا ڈھانے میں جٹ جاتا اور اپنی کشتی میں چھید کرکے اسے ڈبونے کی کوشش کرتا۔

اس بلی کا وقت سے پہلے تھیلی سے باہر آجانا دراصل حزب اختلاف کے لیے باعثِ خیروبرکت ہے۔ 2015 کے صوبائی انتخاب میں مہا گٹھ بندھن کا نعرہ تھا ’’سب سے بڑا ایمان‘‘۔ یہ نعرہ نتیش کمار نے بھی لگایا تھا لیکن اس کا نفاق بہت جلد ظاہر ہوگیا۔ لالو پرساد یادو کا یہ دعویٰ درست ہے کہ انہوں نے زہر کا گھونٹ پیتے ہوئے نتیش کمار کو وزیراعلیٰ بنایا تھا ورنہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطے یہ ان کا حق تھا۔ لالو یادو کےاس بیان پر ناراض ہو کر نتیش نے سوال کیا کہ کیا میں زہر ہوں۔ اس میں کیا شک ہے کہ وہ زہر ہلاہل ہے لیکن فرق یہ ہوا ہے کہ جو سم قاتل اب تک حزب اختلاف کی رگوں میں دوڑ رہا تھا اب یہ بی جے پی کی شیریان میں داخل ہوگیا ہے۔

کوئی بعید نہیں کہ اگر یو پی اے کو اقتدار میں آنے کے لیے چند ارکان پارلیمان کی کمی پڑ جائے تو یہ ابن الوقت ان ارکان کے ساتھ جو بی جے پی کی مدد سے منتخب ہوئے ہوں گے دوبارہ کمل کو پھینک کر لالٹین سنبھال لے۔اس لیے کہ نتیش کمار کبھی بھی کچھ بھی کرسکتا ہے۔ کسی بھی جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے اپنے مخالفین کی قوت وکمزوری کی معلومات کے بغیر اس کا توڑ ناممکن ہے۔ وطن عزیز کے اندر ہندو سماج کی دو کمزوریاں ایک ذات پات اور دوسرے موقع پرستی۔ کانگریس برسوں تک ان دونوں کمزوریوں کا بھرپورفائدہ اٹھا کر حکومت کرتی رہی فی الحال بی جےپی وہی کررہی ہے۔ ان دونوں کا علاج نہ تو سیکولرزم کے پاس ہے اور نہ ہی جمہوریت یا قوم پرستی میں ہے۔ ہندوستان کا سیکولرزم مذہبی رواداری بنام ’’سرو دھرم سمبھاو‘‘ کا نعرہ بلند کرتا ہے ۔

اس لیے اس کا تقاضہ ہے کہ ذات پات کے نظام میں دخل اندازی نہ کرے کیونکہ وہ خالص مذہبی معاملہ ہے۔ ہندودھرم کے مذہبی صحیفوں میں ورن آشرم کا تقدس درج ہے اور اس میں مداخلت کی جرأت یوروپی بے دین سیکولرزم تو کرسکتا ہے لیکن دیسی لادینیت نہیں کرسکتی۔ ہندوستانی قوم پرستی پر فسطائیت کا ایسا رنگ چڑھا ہوا ہے کہاس سے بھی کوئی توقع کرنا فضول ہے۔ جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے ابن الوقتی کو فروغ دینے والااس سےبہتر کوئی اور نظریہ نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری اقدار کے فروغ کے ساتھ ہی موقع پرستی بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ سیاسی زندگی میں نظریات نے دم توڑ دیا۔ ایسے میں صرف دین اسلام ہی ذات پات اور ابن الوقتی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔

دین اسلام کی بنیاد توحید کے عقیدے پر ہے۔ توحید کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسانیت ایک خدا کا کنبہ ہے اور عالم انسانیت کنگھی کے دانت کی مانند برابر ہیں۔ یہی عقیدہ ذات پات کے تفریق و امتیاز کو ختم کرسکتا ہے۔ نبی کریم ؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ساری اونچ نیچ کو اپنے قدموں تلے روند دیا۔ رنگ ونسل اورامیر غریب یا آقا و غلام کے درمیان کے تفاوت کو عملاً ختم کرکے دکھا دیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے ہندوستان جیسے دور درا زعلاقہ میں آکر خاندانِ غلامان نے 84 سالوں تک حکومت کی۔ 1206 میں محمدغوری کی شہادت کے بعد قطب الدین نے غوری سلطنت کے ہندوستانی حصوں پر اپنی حکومت قائم کی۔ اس خاندان میں ۹بادشاہ اور ایک ملکہ رضیہ سلطانہ ہوئی۔ اس خاندان کا اولین بادشاہ قطب الدین اصل میں ترک تھا اور بچپن ہی میں غلامی کا حلقہ اس کے کان میں پڑ گیا تھا۔

قطب الدین اس کے مالک نے گودلیا اور آگے چل کروہ پہلے سپہ سالار اور پھر بادشاہ بنا۔ یہ خاندان غلامان کا پہلا بادشاہ تھا۔ اس خاندان کے اکثر حکمراں قطب الدین کی طرح ابتداءمیں غلام تھے۔مملوک خاندان کےسلطان ناصر الدین شاہ کی افواج نے ہندوستان کو منگولوں کے حملے سے بچانے کا تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ یہ اسلام کی نعمت تھی کہ اس جیسی کوئی مثال پانچ ہزار سالہ ہندوستان کی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ مسلمانوں نے ہندوستان میں حکومت تو کی اور ان کے سیاسی دبدبہ نے ہندو احیاء پرستوں کو اسلام کی راہ میں مانع ہونے سے باز بھی رکھا لیکن اس کے باوجود اسلام کا پیغامِ عدل و مساوات ہندوستان کے غریب و مستضعفین تک ویسے پہنچ نہیں سکا کہ جیسا اس کا حق تھا۔

یہی وجہ ہے غیر مسلمین کی ایک کثیر تعداد حلقہ بگوش اسلام ہونے سے محروم رہی اوران کی اکثریتذات پات کی زنجیروں سے آزاد نہیں ہوپائی۔ آج بھی اسلام کی نعمتِ عظمیٰ ہی ذات پات کے تار عنکبوت کو تار تار کرسکتی ہے اور اسی اندیشے نے سنگھ پریوار کی نیند اڑا رکھی ہے۔ یہی خوف اس کو اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کرنے پر مجبور کرتا ہے اس لیے کہ اگر ورن آشرم ختم ہوجائے تو مٹھی بھر سورن دلتوں کو اپنی غلامی میں نہیں رکھ سکتے۔ اسلام کے پرچم تلے وہ متحد ہوکر فسطائیت کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ ہمارے سماج کی دوسری بڑی خرابی یعنی ابن الوقتی کا خاتمہ عقیدۂ آخرت کے بغیر ممکن نہیں ہے اس لیے کہ بدعنوان نظام سیاست میں جہاں ایک ایم ایل اے کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کروڈوں کی پیشکش کی جاتی ہوملک وقوم کا مفاد اوردستور کے تحفظ کے نعرہ بہ آسانی بدعنوانی کی چتا میں جل کر راکھ ہوجاتاہے۔ ایسے میں اللہ کی ناراضگی کا خوف اور جنت سے محرومی کا احساس ہی اصحاب ِاقتدار کی خواہشات نفس پر لگام لگا سکتا ہے۔

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *