• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • شادی کے شعبے کو بھی آلودہ کردیا گیا ہے۔۔۔۔اسد مفتی

شادی کے شعبے کو بھی آلودہ کردیا گیا ہے۔۔۔۔اسد مفتی

برطانیہ کی ایک خبر کے مطابق طلاق حاصل کرنے والے اوسط جوڑوں پر جن کے دو بچے ہیں سرکاری خزانے کو 80 پونڈ رقم خرچ کرنا پڑے گی، جبکہ سنگل پیرنٹس کے صرف بچوں پر اور رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ مزید یہ کہ ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر سرکاری خزانے کو 75 ہزار پونڈ سے لے کر ایک لاکھ 23 ہزار پونڈ تک رقم خرچ کرنا پڑے گی۔یہ اعداد و شمار حالیہ شائع ہونے والی سنٹر فار پالیسی سٹڈیز میں دئیے گئے ہیں اس کا بنیادی مقصد شادیاں ٹوٹنے کے ٹیکس اور ویلفیئر سسٹم پر اثرات کو اجاگر کرنا ہے،

کیمرج یونیورسٹی کے پروفیسر باب روتھورن نے کہا ہے کہ والدین کو طلاق یا علیحدگی جذباتی اور جسمانی مسائل کا باعث بنتی ہے لیکن اس سے مالی طور پر منفی اثرات جنم لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تین میں سے ایک والدین کو طلاق کی صورت میں  سرکاری خزانے سے لاکھوں پونڈ کی رقم خرچ کرنی پڑے گی ۔

ایک اندازے کے مطابق اگر ایک شوہر 640 پونڈ اور بیوی 250 پونڈ فی ہفتہ کما رہے ہیں تو دس برسوں میں 76 ہزار پونڈ ٹیکس کی صورت میں ادا کریں گے ۔اور اگر ان کی علیحدگی ہوجائے تو وہ رقم بھی اسی قدر کماتے ہوں تو وہ چار ہزار پونڈ ٹیکس ادا کریں گے اور سرکاری خزانے کو ان پر 80 پونڈ پلے سے خرچ کرنے پڑتے ہیں ۔اور اگر ایک بے روزگار جوڑا سوشل ہاؤسنگ  میں رہتا ہے تو دس سال میں انہیں  بِلا ٹیکس ایک لاکھ 28 ہزار پونڈ بینیفٹ میں ملیں گے ۔لیکن علیحدگی کی صورت میں یہی رقم بڑھ کر ایک لاکھ 48 ہزار پونڈ ہوجائے گی ۔اورسرکاری خزانے کو مزید 20 ہزار پونڈ کا مالی نقصان ہوگا۔

اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے کشورِ حسین شاد باد کے باسی جو ولایت میں رہتے ہیں دھڑا دھڑ طلاقوں پر زور دیاہے۔یہ طلاق صرف کاغذات میں ہوتی ہے لیکن مولوی کے نکاح کو بدستور قائم رکھا جاتا ہے ۔برطانیہ  کی حکومت ان دنوں اس مسئلے سےنمٹنے رہی ہے ۔

میری اطلاعات کے مطابق “حقیقی جمہورت” کی طرح  حقیقی طلاق کا گراف نہ صرف بیرون ملک بلکہ اندرون ملک بھی بڑی تیزی سے اوپر جارہاہے۔جہاں تک طلاق کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے ،کتاب و سنت کے بعد شریعت کا تیسرا ماخذ “اجماع”ہے۔

اس وقت اہلِ نت والجماعت کے پانچ مکاتبِ فکر ساری دنیا می پائے جاتے ہیں ،حنفی،شافعی،مالکی،سلفی جبکہ اہلِ تشیع کے یہاں فقہ جعفریہ پر عمل ہے۔ان تمام مکاتب فقہ کی کتابیں چھپی ہوئی موجود ہیں ۔میرے علم کے مطابق  ان میں سے کسی کے یہاں بھی طلاق واقع ہونے کے لیے مصالحتی کوشش کا ہونا شرط نہیں ہے۔ کسی بھی کتاب میں طلاق دینے کے سلسلے میں ایسی کوئی شرط کا ذکر نہیں ملتا ۔اس لیے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ا باے میں ملت کا اجماع و اتفاق ہے۔یہاں تک کہ علیحدگی کی صورت میں ثالثی  کو بھی ضروری قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس کا کوئی ذخر ہی نہیں آیا۔

لہذا قیاس کا تقاضہ بھی یہی  ٹھہراکہ طلاق واقع ہونے کے لیے بھی پہلے ثالث کے ذریعے معاملہ طے کرنے کی کوشش کرنا ضروری نہیں ہوتا ۔قرآنی آیات میں مرد و عورت کا درجہ بتایا گیا ہے کہ مرد صدرِ خانہ  ہے اور عورت پر جائز امو ر میں  اس کی اطاعت واجب  ہے ۔

جبکہ حقوق و فرائض کے بارے میں اکثر نزاع پیدا ہو جاتا ہے ۔اور یہاں بیوی کی ہمہ وقتی رفاقت کی وجہ سے ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اگر بیوی شوہر کے حقوق کے بارے میں کوتاہی کرے  اور اور اس کی وجہ سے تعلقات میں ناخوشگواری پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتو شوہر ذاتی طور پر اس کو حل کرنے کی کوشش کرے ۔اور اس کی تین صورتیں  ہو سکتی ہیں ۔۔۔پندو نصیحت،عارضی طور پر ترکِ تعلق اور سرزنش اور اگر اس سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو سماجی مداخلت ،یعنی اگر سماج کو چاہیے کہ باہمی جھگڑے طے کرنے کے لیے دونوں خاندانوں کو لے کر اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔

یاد رہے کہ یہ سب ایک عمومی نصیحت ہے چونکہ ازدواجی رشتہ خاندان کے استحکام کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے اس لیے خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں دراڑ نہیں ہونی چاہیے۔ شوہر بھی ذاتی طور پر اس  کے لیے کوشش کرے اور سماج بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے لیکن اس کا تعلق کاص طلاق کے مسئلے سے ہر گز نہیں بلکہ کسی بھی قسم کا اختلاف شوہر بیوی میں پیدا ہو تو اسے اس طرح سے حال کرنے کی کوشش کی جائے ۔اس لیے میرے حساب سے اگر علیحدی کے بغیر چارہ نہ ہو تو جلد اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے کہ طلاق کو مشکل بنانا  بظاہر عورت کے مفاد میں نظر آتا ہے لیکن یہ اس کے حق میں مضر رساں عمل ہے ۔

غموں کا کوئی بھی موسم نہیں ہے

یہ میلہ  سال بھر لگنے لگا ہے !

 


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *