کلثوم نواز۔۔۔آصف محمود

دکھ کی نسبت سیاست سے نہیں انسانیت سے ہے۔ اس کا عنوان بھی سیاست نہیں انسانیت ہی کو ہونا چاہیے۔ایسا نہ ہو تو پھر روگ جنم لیتے ہیں جو وقت کے ساتھ المیہ بن جاتے ہیں۔ کلثوم نواز ایک ماں تھیں۔ماں جو دیار غیر میں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔اس کے بعدکی کہانی آپ کے سامنے ہے اور میرے لیے اس کہانی کا عنوان سیاست نہیں انسانیت ہے۔ بیٹی جیل میں ہے اور مرحومہ کا شوہر بھی۔ وہ ماں نہیں رہی جس نے بیٹی کو گود میں کھلایا، بیٹی تو یادوں کے انبار تلے دب گئی ہو گئی ۔ ساری زندگی یہ سوال اب روگ بن کر اس بیٹی کو لاحق رہے گا کہ اسکی ماں یہ دکھ ساتھ لے کر اس دنیا سے رخصت ہوگئی کہ مریم ملنے بھی نہیں آتی اور فون بھی نہیں کرتی۔ماں نے بیٹی کا شکوہ تو لوگوں سے کر دیالیکن کیا اسے شریک حیات سے کوئی شکوہ نہیں ہو گا؟تصور کیجیے وہ خاتون کیا کیا دکھ ساتھ لے کر اس دنیا سے گئی ہو گی۔ کل رات نواز شریف کا چہرہ درد کی اسی کہانی کا عنوان بنا ہوا تھا جو بیان بھی نہیں کی جا سکتی۔ درست کہ موت سب کو آنی ہے اور کسی کی موت سے قانون کے نفاذ کا عمل رک نہیں سکتا۔ غور کیا جائے تو یہ کسی کا مطالبہ بھی نہیں۔ مطالبہ صرف اتنا سا ہے کہ قانون کے نفاذ کے راستے میں جہاں کہیں انسانیت پکارے تو اس کی پکار کو سنا جائے۔میت لندن میں رکھی ہے۔اسے لانے اور تدفین میں کچھ وقت تو لگے گا۔یہی سوچ کر شہباز شریف نے پیرول پر رہائی کے لیے جو درخواست لکھی اس میں پانچ دن کی درخواست کی۔ حکومت نے بہت اچھے رویے کا مظاہرہ کیا۔ شہباز شریف کی درخواست پر فوری فیصلہ ہوا۔اور میاں صاحب پولیس کی گاڑیوں کی بجائے اپنی گاڑیوں میں جیل سے رخصت ہوئے ۔ پرائیویٹ طیارے پر لاہور پہنچے۔سوال مگر یہ ہے کہ اگر یہ درخواست من و عن تسلیم کرتے ہوئے پانچ دن کے لیے مریم اور نواز شریف کو رہا کر دیا جاتا تو کون سا طوفان آ جاتا؟ پنجاب کا وزیر اعلی ایک روایتی دیہی پس منظر رکھتا ہے۔کیا اسے بتانا پڑے گا کہ دشمن کے گھر میں بھی لاش پڑی ہو تو ہماری روایات میں کچھ ادب آداب ہوتے ہیں۔وہ خود حکم صادر کردیتے کہ پانچ دن کے لیے رہا کر دیا جائے تو ہمارے تلخیوں سے بھرے ماحول میں ایک اور اچھا نقش واضح ہو سکتا تھا۔ پانچ دن کے بعد وہ پھر جیل میں ہی ہوتے ۔ بارہ گھنٹوں کی رہائی کا فیصلہ ظاہر ہے کہ بدل دیا جائیگا۔ اسے بدلنا ہی پڑے گا۔ہمارے سیاسی یاد داشت میں البتہ ایک اور دکھ اور تلخی کا اضافہ ہو گیا ہے کہ لاش گھر میں پڑی تھی تھی ، پانچ دنوں کا پیرول مانگا گیا اور نئے پاکستان کے حاکم نے صرف بارہ گھنٹے دیے۔ یہ عذر بہت کمزور ہے کہ پریزن رولز کے تحت بارہ گھنٹوں سے زیادہ کی رہائی ممکن نہیں تھی۔ پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول نمبر 545 بی کے تحت نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو پیرول پر رہا کیا گیا ہے۔اس کے الفاظ پڑھ لیجیے اور خود فیصلہ کر لیجیے: “The duration of permission granted under this rule may not ordinarily exceed twelve hours depending on the circumstances of each case” اب اس میں دو چیزیں اہم ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ اس میںShall not کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے بلکہ May not کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے یہاں ordinarily کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اور تیسری بات یہ ہے کہ ہر کیس کو اس کے اپنے حالات کے مطابق دیکھنے کی بات کی گئی ہے۔گویا قانون کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ بارہ گھنٹے سے زیادہ کے لیے رہا نہ کیا جائے بلکہ قانون نے اس بات کی گنجائش رکھی ہے کہ یہ دورانیہ بارہ گھنٹے سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ہمارے سماج میں پہلے ہی بہت تلخیاں ہیں۔انہیں کم ہونا چاہیے اور انہیں کم کرنے کی شعوری کوشش بھی کی جانی چاہیے۔قانون کو اپنا راستہ بے شک بنانا چاہیے۔ قانون کا نفاذ بھی لازما ہونا چاہیے۔ لیکن اگر قانون میں موجود گنجائش کو انسانی قدروں کے تناظر میں استعمال کر لیا جائے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہوتا۔ ذولفقار علی بھٹو کو یہاں پھانسی ہوئی۔ اس پر ایک سے زیادہ آراء ہو سکتی ہیں کہ بھٹو کو دی گئی پھانسی انصاف تھا یا ظلم لیکن اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بھٹواور ان کے خاندان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ ایک المیہ ہے۔ بیٹی بے نظیر باپ سے ملنے گئی تو جانے سے پہلے اسے معلوم ہی نہ تھا یہ آخری ملاقات ہے۔سلاخوں کے پیچھے ملاقات کروائی گئی۔بیٹی تڑپتی رہ گئی کہ آخری مرتبہ باپ کے سینے سے لگ سکے ۔پھانسی کے بعد بیٹی اور بیوی کو بھٹو کی لاش تک نہیں دیکھنے دی گئی۔ بے نظیر اور نصرت بھٹو راولپنڈی میں تھیں اور بھٹو کی میت جہاز کے ذریعے ان کے آبائی گائوں پہنچا دی گئی۔اس سوال کا جواب کسی کے پاس ہے کہ کس قانون اور کس ضابطے کے تحت بیوی اور بیٹی کو اس حق سے محروم کیا گیا کہ وہ بھٹو کو قبر میںاتارنے سے پہلے ایک نظر دیکھ سکیں۔بے رحم سیاست کے تقاضے جو بھی کہتے ہیں یہ صرف ایک المیہ تھا اور المیے کا عنوان ہمیشہ انسانیت ہی ہوتا ہے۔مریم اور نواز شریف جانیں اور عدالت جانے ، اپنا مقدمہ انہیں بہر حال قانون کی عدالت ہی میں پیش کرنا ہے لیکن انسانی قدروں کو اتنا تو مضبوط کر دیجیے کہ دکھ کے اس عالم میں بارہ گھنٹے کی تلوار ان کے سر پر لٹکانے کی بجائے پانچ دنوں کی درخواست کو قبول کر لیجیے۔ جب ہم انسانی جذبات و احساسات کی بات کرتے ہیں تو بات پھر صرف چند اہل سیاست تک محدود نہیں رہتی۔ مائیں بھی سانجھی ہوتی ہیں اور دکھ بھی سب کو ہوتا ہے۔قانون میں ترمیم کر دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں کہ نقص امن ، جرم یا اس کے فرار ہو جانے کا خطرہ نہ ہو تو گھر کے کسی خونی رشتہ دار کی وفات پر قیدی کی پیرول پر رہائی تین چار دنوں کے لیے تو ضرور ہو۔آپ تصور کیجیے کہ ماں ، باپ ، بیٹی ، بیٹا یا شریک حیات کا لاشہ گھر میں پڑا ہو اور قیدی کو آپ صرف بارہ گھنٹوں کے لیے رہا کریں۔ یہ تو نواز شریف صاحب کا معاملہ تھا ، ادھر درخواست آئی ادھر فیصلہ ہو گیا کیاآپ اندازہ کر سکتے ہیں ایسا ہی سانحہ کسی عام قیدی پر بیتا ہو تو اس کے کرب اور اس کی تکلیف کا عالم کیا ہو گا۔عام لوگوں کے بھی اسی طرح احساسات ہوتے ہیں۔ماں ہسپتال میں جان دے یا سڑک پر پولیس کی گولیوں سے ماری جائے، درد ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔۔ قانون کو ان سے بے نیاز نہیں ہونا چاہیے۔ کلثوم نواز پر اللہ رحمت فرمائے۔ نواز شریف کے لیے ہمیشہ ان کا وجود خیر اور راحت کا باعث رہا۔ ملک معراج خالد کہا کرتے تھے زندگی کا حاصل بس یہی ایک فقرہ ہے کہ مرنے والا کیسا تھا۔ لوگوں نے کہہ دیا اچھا تھا تو سمجھو بیڑا پار ہے۔ آج کلثوم نواز ہم میں نہیں لیکن سماج کے تمام طبقات ان کے لیے کلمہ خیر ادا کر رہے ہیں۔کلثوم نواز زندہ تھیں تو مشرف آمریت کے خلاف جدو جہد کرتی رہیں، آج وہ ہم میں نہیں لیکن ایک سوال چھوڑ کر جا رہی ہیں کہ قانون نے ان کے گھر تو یوں دستک دی کہ وہ شوہر اور بیٹی کا انتظار کرتے کرتے اپنے اللہ کے پاس پہنچ گئیں ۔ اب اس قانون کا بانکپن پرویز مشرف کی دہلیز پر کب دستک دے گا۔کیا کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے؟

آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *