پاکستان کے یہودی۔۔۔۔۔ سیدہ ماہم بتول

یہودیت کا شماردنیا کے قدیم مذاہب میں ہوتا ہے۔ اسلام سے قبل یہود کے تین قبائل مدینہ میں آباد تھے ان میں بنو نصیر، بنو قینقاع اور بنو قریظہ زیادہ اہم ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل متحدہ ہندوستان میں یہودی (بنی اسرائیل) کافی تعداد میں آباد تھے جن کی آبادیاں خاص کر بمبئی، کراچی، گجرات (ہندوستان) میں آباد تھیں، اس کے علاوہ پاکستان کے شہر ملتان، راولپنڈی اور پشاور میں بھی بہت سے یہودی خاندان آباد تھے۔ جو بعد میں اسرائیل اور دوسرے ملکوں کو ہجرت کر گئے۔

ایٹکن کی مولفہ سندھ گزیٹیر مطبوعہ 1907 میں یہودیوں کی کراچی آبادی کے بارے میں لکھتی ہیں کہ 1901 کی مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد صرف 1300 ہے۔ یہ سب تقریباََ کراچی میں آباد ہیں۔ اکثر کا تعلق بنی اسرائیل برادری سے ہے۔ اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مہاراشٹر سے کراچی میں آباد ہوئے تھے. متحدہ ہندوستان میں یہودیوں کی تاریخ کے بارے میں کچھ زیادہ تو نہیں کہا جاسکتا لیکن آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہے کہ 1936 میں ہندوستان میں عام انتخابات ہوئے جس میں کراچی میں کونسلر کے لئے ہونے والے انتخابات میں “ابراہام روبن” کامیاب قرار پائے تھے، اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ے کہ یہودیوں کی تعداد اس وقت اس قدر تھی کہ ان کا کونسلر تعینات ہوگیا یا پھر ان کے تعلقات دوسرے مذاہب کے ساتھ بہت اچھے ہو گے۔

“ابراہام روبن” ایک یہودی تنظیم “بنی اسرائیل ایسوسی ایشن” کے عہدیدار بھی تھے، تقسیم ہند کے بعد اس تنظیم کے نام میں پاکستان کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس تنظیم کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اس کو 1893 میں قائم کیا گیا تھا۔ انیسویں صدی میں یہودی کمیونٹی کے تحفظ کے لئے بہت سی تنظیموں کی بنیاد دکھی گئی تھی جن کا مقصد یہودیوں کے حقوق کی حفاظت اور یہودیت کا پرچار کرنا تھا۔ یہ اپنی کمیونٹی کو سستے گھر بنا کر بھی دیتے تھے اور ان کی مالی امداد بھی کرتے تھے۔ ان تنظیموں کو دنیا بھر کے یہودیوں کی طرف سے مالی امداد کی جاتی تھی۔ ان تنظیموں میں نوجوان یہودی پیش پیش تھے۔ ان تنظیموں میں ” ینگ مین یہودی ایسوسی ایشن” اور “کراچی بنی اسرائیل ریلیف فنڈ” زیادہ اہم ہے۔ 1911 تک کراچی کی آبادی کا 0.3 فیصد یہودیوں پر مشتمل تھا۔ اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد دنیا بھر سے جہاں یہودیوں نے نقل مکانی کی، وہیں پاکستان سے بھی بہت سے یہودیوں نے اسرائیل، کچھ نے انگلینڈ کی جانب ہجرت کی، پھر رہی سہی کسر عرب-اسرائیل جنگ نے پوری کردی جہاں یہودیوں کے لئے پاکستان میں رہنا مشکل ہوگیا، جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ اسرائیل سے پاکستان میں کس قدر نفرت پائی جاتی ہے. بہت سے یہودی اپنی شناخت چھپا کر بھی موجود رہے، جو کہیں خود کو عیسائی اور پارسی کہ کر اپنی پہچان کو ظاہر نہیں کرتے تھے. کراچی کے فریئر ہال میں نصب کتبہ پر ان یہودیوں کے نام کنندہ ہیں جنہوں نے “فری میسن” نامی تنظیم کی پاکستان میں بنیاد رکھی تھی، جو بعد میں قیام پاکستان کے بعد پابندی لگنے پر بند ہوگئی.

1۔ کراچی کی بنی اسرائیل مسجد

یہودیوں کی ایک مذہبی عبادت گاہ “امن کلیسہ کے سٹار” کے نام سے کراچی کے علاقے کرنل جمیل سٹریٹ، نشاط روڈ پرموجود تھی۔ اس کلیسہ کو سلیمان ڈیوڈ نے 1893 میں قائم کیاتھا۔ پھر 1912 میں مزید توسیع سلیمان کے بیٹیوں، گرشون سلیمان اور راحامین سلیمان کی طرف سے کی گئی۔ 1916-1918 میں یہودی کمیونٹی کی جانب سے اس کلیسہ کی حدود میں عبرانی سکول بھی قائم کیا گیا تھا۔ 1918 میں یہاں ناتھن ابراہیم حال بھی قائم کیا گیا تھا۔ یہاں ایک سائن بورڈ بھی آویزاں ہے جہاں “پاکستان بنی اسرائیل ایسوسی ایشن” کے الفاظ کندہ ہے۔ یہاں ایک مسجد بھی قائم ہے جس کا نام بنی اسرائیل مسجد ہے۔ اس کے داخلی دروازے پر کندہ ہے کہ “صرف یہودیوں کو یہاں داخلے کی اجازت ہے”۔ کراچی کے رنچھوڑ لائنز کے علاقے کے مرکزی چوک میں اسرائیلی مسجد کی عمارت تھی جس کو اب ایک کثیر المنزلہ رہائشی بلڈنگ میں تبدیل کردیا گیا ہے جو “مدیحہ اسکوائر” کے نام سے موجود ہے۔ جسے آج بھی کراچی کے پرانے لوگ اسرائیلی یا یہودی مسجد کے نام سے پہچانتے ہیں۔ علاقے کے ایک قدیم رہائشی “قاضی خضر حبیب” بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل ٹرسٹ کی آخری ٹرسٹی “ریشل جوزف” نامی خاتون تھیں جنہوں نے اس عمارت کا پاور آف اٹارنی “احمد الہٰی ولد مہر الہٰی” نامی شخص کے نام کر دیا تھا۔ ان میں ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ عبادت گاہ کی جگہ ایک کاروباری عمارت تعمیر کی جائے گی۔ عمارت کی نچلی منزل پر دکانیں جب کہ پہلی منزل پر عبادت گاہ تعمیر کی جائے گی۔ نچلی منزل پر دُکانیں تو بن گئیں اور پہلی منزل پر عبادت گاہ بھی۔ مگر اب عبادت گاہ کی جگہ رہائشی فلیٹ ہیں۔ “ریشل جوزف” اور مختلف افراد کے درمیان ٹرسٹ کی ملکیت کے حوالے سے مقدمہ بازی بھی ہوئی جس میں “ریشل” اور ان کے اٹارنی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ ریشل کی کراچی موجودگی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ بہت عرصہ قبل لندن منتقل ہو چکی تھیں۔ 6 مئی2007 کو روزنا مہ ڈان کی کالم نگار ریما عباسی لکھتی ہیں کہ اس جگہ کی آخری کسٹوڈین “ریشل جوزف” 2007 تک کراچی میں موجود تھیں، اور پھر وہ یہاں سے لندن منتقل ہوگئیں۔

2۔ حیدر آباد کے یہودی

یہودیوں کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ صرف کراچی تک محدود تھے، لیکن یہودی قبرستان کے ایک کتبے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ کراچی کے علاوہ بھی سندھ کے دیگر شہروں میں خدمات انجام دیتے تھے۔ ایک قبر حیدرآباد کے سول ہسپتال میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر ایلیزر جیکب بھوراپکر کی بھی ہے، جن کا سالِ پیدائش 1850 اور وفات 1922 کی ہے. اسی طرح سے ایک قبر کراچی کی یہودی برادری کے نائب صدر ابراہام ریوبن کمار لیکر کی ہے.

3۔ ملتان کے یہودی

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر میڈیا ریلیشنز الطاف احمد کے مطابق سن دو ہزار تیرہ میں ہونے والے گزشتہ قومی انتخابات میں پاکستان کے یہودی ووٹروں کی تعداد 809 تھی۔ اور ملتان میں یہودیوں کی تعداد 12 تھی جو اپنی پہچان پارسی کے طور پر کرواتے تھے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، پانچ برسوں میں سینکڑوں یہودی ووٹروں کا سرے سے غائب ہو جانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ آخر یہودی ووٹر کہاں گئے؟

4۔ پشاور کے یہودی

1960 کی دہائی میں پشاور کے پاس بھی یہودیوں کی کمیونٹی موجود تھی اور یہاں ان کی دو مذہبی عبادت گاہیں بھی قائم تھی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق 2017 تک 900 یہودی ووٹر رجسٹر تھے۔ اس وقت پاکستان میں جتنے بھی یہودی موجود ہے یہ اپنی شناخت چھپاتےہے۔ یہودی اپنے آپ کو پارسی یا مسیحی بتاتے ہے جس وجہ سے ان کی اصل تعداد کا علم ہونا ممکن نہیں ہے۔

5۔ راولپنڈی کے یہودی

انگریزی نشریاتی ادارے DW کے رپورٹر ” ڈوئچے ویلے” نے راولپنڈی میں یہودیوں سے متعلق اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ انھیں یہودیوں کی راولپنڈی میں شناخت بہت مشکل سے ہوئی، ڈوئچے ویلے نے جن پاکستانی یہودیوں سے رابطہ کیا، ان میں سے صرف ایک بزرگ شہری انٹرویو دینے پر راضی ہوئے اور وہ بھی اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر۔ پاکستان کے اس بزرگ یہودی شہری کی عمر بہتر برس ہے اور وہ راولپنڈی کے ایک پرانے اور گنجان آباد علاقے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’ایک وقت تھا جب قریب تیس سال پہلے تک بھی پینتالیس کے لگ بھگ یہودی خاندان راولپنڈی، اسلام آباد اور گجرخان میں رہائش پذیر تھے۔ میرے اپنے خاندان سمیت کئی یہودی گھرانے نقل مکانی کر کے یورپ، امریکا یا جنوبی افریقہ میں آباد ہو چکے ہیں۔ کم از کم چھ یہودی خاندان کراچی منتقل ہو چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ستر کی دہائی تک راولپنڈی میں دو یہودی عبادت گاہیں (سینےگوگ) موجود تھے۔ مگرچند یہودی خاندانوں کے شہر میں مقیم ہونے کے باوجود یہ عبادت گاہیں اس لیے بند ہو گئیں ہمارے مذہبی رہنما یعنی ربی ہی دستیاب نہیں تھے۔ یہودیوں نے خود کو بطور ووٹر رجسٹر کرانا اس لیے چھوڑ دیا کہ کسی یہودی کے لیے کسی مخصوص نشست پر الیکشن لڑنا اور بطور ووٹر ایسے کسی انتخابی امیدوار کو جا کر ووٹ دینا اب فرقہ واریت اور شدت پسندی کے دور میں کوئی قابل عمل سوچ رہی ہی نہیں۔‘‘ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ راولپنڈی شہر کے ایک محلے میں گزار دینے والے اس پاکستانی اقلیتی شہری نے مقامی یہودیوں کی سیاست میں بہت کم دلچسپی کی وجوہات کی وضاحت کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان میں یہودی طبقہ تو ویسے ہی کبھی سیاسی طور پر فعال نہیں رہا۔ مگر ضیاالحق کی آمریت کے بعد بحال ہونے والی جمہوریت کے غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے اور تقریبا سبھی سیاسی جماعتوں کی مقامی یہودیوں میں عدم دلچسپی کے باعث سیاست میں ہماری اپنی دلچسپی بھی تقریبا ختم ہی ہو چکی ہے۔ میں نے خود آخری مرتبہ اپنا ووٹ انیس سو نوے کے عام انتخابات میں ڈالا تھا۔ اس کے بعد بطور ووٹر الیکشن میں حصہ لینے کی خواہش ہی ختم ہو گئی۔‘‘

6۔ کراچی کا یہودی بنی اسرائیل قبرستان

کراچی کے قبرستان “میوہ شاہ” میں یہودیوں (بنی اسرائیل) کی قبریں موجود ہیں۔ اور ایک اندازے کے مطابق یہاں پانچ ہزار یہودی دفن ہیں۔ جب کے پانچ سو کے قریب قبروں کی نشاندہی کی گئی ہے. کتبوں پر لکھی عبرانی زبان ہی اب وہ واحد نشانی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں یہودیت کے ماننے والے دفن ہیں۔ اس بنی اسرائیل قبرستان میں آخری تدفین سن 80 کی دہائی میں کی گئی تھی، جس کے بعد یہاں کس یہودی کے دفن ہونے کی اطلاع نہیں ہے. سولومن ڈیوڈ انگریزدور میں بلدیہ کراچی میں ایک سرویئر تھا، 1902 میں سولومن مر گیا اور اس کے اگلے ہی سال اس کی بیوی بھی چل بسی، دونوں میاں بیوی اسی قبرستان میں دفن کر دئیے گئے. 1912ء میں اسی سولومن ڈیوڈ کے دو بیٹوں نے ان کے کتبوں کی نئے سرے سے تزئین و آرائش کی۔ اس قبرستان میں جا بجا جھاڑیاں اور پودے اگے ہوئے ہیں، اور حکومتی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں اکثر جرائم پیشہ افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں سے چھپ کر رہتے ہیں. اس قبرستان کی دیکھ بھال ایک بلوچ خاندان کر رہا ہے جن کے مطابق وہ 6 نسلوں سے یہاں کے چوکیدار ہیں. ان کے مطابق پہلے کچھ یہودی یہاں آتے تھے اور یہاں کی دیکھ بھال کے لئے انھیں خرچہ دے جایا کرتے تھے، لیکن اب سالوں سے یہاں کوئی نہیں آیا، صرف اخباری نمائندے اور ریسرچر آتے ہیں اور تصویریں بنا کر چلے جاتے ہیں. کراچی میں یہودیت کے ماننے والوں کی یہ یادگار مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کھنڈر بن چکی ہے۔ یہودیوں کی اکثر قبریں مسمار کی جا چکی ہیں اور مسلمان مُردوں کی آباد کاری زور شور سے جاری ہے.

1947ء میں پاکستان اور 1948ء میں اسرائیل بنا اور یہیں سے ان یہودیوں کے برے دن شروع ہو گئے۔ پھر جب بھی عربوں کی اسرائیل سے جنگ ہوتی سندھ کے یہودیوں کے لیے زمین تنگ ہو جاتی. 1956ء اور 1967ء کی عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستانی شدت پسند مسلمانوں نے پاکستانی یہودیوں کا جینا محال کیے رکھا۔ یہاں تک کہ 1968ء سندھ میں صرف 250 یہودی رہ گئے جو کبھی تین چار ہزار کی تعداد میں ہوا کرتے تھے۔ یہودیوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ پاکستان چھوڑ کر انگلینڈ یا اسرائیل میں پناہ لیں.

باقی بچ جانے والے یہودی شناخت چھپاتے ہوئے خود کو پارسی ظاہر کرتے تھے، انہوں نے کراچی کا میگن شیلوم سنیگاگ اور یہودی قبرستان بھی کسی نہ کسی طرح آباد رکھا. پاکستان کی بدقسمتی کہ پھر ضیاء الحق کا دور آ گیا، یہ پاکستانی یہودیوں کی ڈبل بدقسمتی تھی، جہاد کے نعرے لگاتے ہوئے لوگ ایک دوسرے پر ہی پل پڑے، جب دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ ہی ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر مار رہے ہوں ایسے میں یہودی کیسے بچ سکتے ہیں. کچھ شدت پسند مسلمانوں نے قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر اس یہودی عبادت گاہ پر حملہ کر دیا، یہودی جان بچا کر بھاگ گئے، قیمتی سامان چرا لیا گیا. آج سے بارہ برس پہلے تک کراچی میں تقریباً دس یہودی خاندان آباد تھے. لیکن یہ تعداد اب مزید کم ہو گئی ہے، اور یہودیوں کی جائیداد پر قبضہ مافیا اور مقامی افراد نے رہائشی عمارتیں اور تجارتی کمپلکس تعمیر کرلئے ہیں۔

یہودیوں کے بارے میں اپنی اس تحقیق کے حوالے سے میں اپنے ہم وطنوں کو یہ پیغام دینا چاہونگی کہ براہ کرم پاکستانی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، عبادت گاہوں اور قبرستانوں کا احترام بہرصورت ملحوظ رکھیں، یہ ملک سبھی کا ہے اور اسلام بھی ہمیں امن سے رہنے کا درس دیتا ہے، اور ہمارے بیچ موجود اقلیتوں کی حفاظت کی تلقین کرتا ہے۔

سیدہ ماہم بتول
سیدہ ماہم بتول
Blogger/Researcher/Writer

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *