لبیک عمران خان۔۔عبدالباسط ہزاروی

جب اس نظام موجود کو مانتے ہوئے اس کا قلادہ گلے سے نیچے اتارا اور بڑوں کی بات کا پاس رکھتے ہوئے اس ملک کو مشابہہ بالمسجد سمجھا جنھوں نے پہلی قانون ساز اسمبلی میں بطور رکن شرکت کر کے قرارداد مقاصد کی راہ میں پل باندھا تھا اور ملکی سیاست میں قدم رکھ کر عازم سفر ہوئے تھے ، پھر بھٹو اور یحیی کی سنگینوں کے سامنے سینہ سپر ہوئے اور اپنے تلامذہ و احباء کو اس عِقد مسلسل سے جُڑے رہنے کا درس دیا، جس کی بدولت یہ حضرات تہتر کے آئین کی منظوری کا سببِ اہم بنے، ان کے أبناء و أصحاب بعد کے ادوار میں بھی بحالی جمہوریت کی ڈوری کو مضبوط کرنے کے درپے رہے اور دہائیاں دیتے رہے کہ آزادی اور حقوق کی جنگ آئینِ سربلند کے تحت دائرہ قانون میں رہ کر لڑی جائے گی اور اس سواءالطریق سے ہٹ کر کوئی کاوش منظورِ نظر اور مقبولِ قلب نہ ہو گی.

ان کا مطمحِ نظر وہ احادیث تھیں جن میں حاکم وقت سے الجھنا ممنوع تھا کیونکہ یہ مفضی الی الفساد بنتا ، تو ہم جیسے عوام الناس نے مشرف، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، شوکت عزیز اور آصف زرداری کی امارت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ، اس کے سوا گنجائش ہی نہیں تھی آخر ان سے کفر بواح سرزد تو نہیں ہوا تھا، البتہ چھوٹی موٹی کج روی ہڑتال بازی اور احتجاج مندی کے ذریعے صراط مستقیم پہ گامزن کروا دی تھی اور آئندہ بھی اس قسم کی کسی بھی کوتاہی کو بابا رضوی کے پہلو بہ پہلو راہی عدم کروا دیں گے لیکن آئین و قانون کے پھڑپھڑاتے عـلم کے عصا مبارک کو شعلہ نار سے جھلسانے کی سعی لاحاصل کبھی خیال تک میں نہ لائیں گے.

آج وقت نے پھر اذان دی ہے اور حکمران ذی شان کی نظریں فدایانِ ملت اور وفادارانِ قوم سے ملتجی ہیں کہ شادابی مصر کا زمانہ رفوچکر ہونے کو ہے اور خشک سالی کنعان فصیلیں توڑ کر حملہ آور ہونے والی ہے تو بچپن سے رٹائے جانے والے اس فکری پہاڑے کے نشے میں حاکم وقت اور امیر سلطنت جناب عمران خان أدام اللہ ظلہ کی دعوت متمنیہ پر لبیک کہتے ہوئے اِصلاحِ احوال الناس اور انتظامِ امور المسلمين کی خاطر اپنی جیب ناپرساں حال سے پھوٹی کوڑی کشکولِ سلطان میں قربان کرنے کے لیے حاضر ہیں ، کیونکہ ہماری عظمت رفتہ کی گم گشتہ تاریخ ان روایات سے سیراب پڑی ہے کہ جب بھی خلیفہ وقت نے گردشِ دوراں کے ستانے کی وجہ سے صدا لگائی تو ہم جیسے شہسوارنِ قوم نے تن من لٹا کر اس گلشن کی بنیادوں کو مٹی ہونے سے بچایا اور اس کارِ مستی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا.
اس لیے کل بھی ہم نے لبیک کہا تھا اور آج بھی یہی نعرہ مستانہ بلند کریں گے “لبیک عمران خان” باقی رہے نام اللہ کا.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *