گھٹیا افسانہ نمبر 1۔۔۔۔فاروق بلوچ

میں نے ابھی اپنا انگریزی میں لکھا تحقیقی آرٹیکل انٹرنیشنل میگزین کی ویب سائٹ پر دیکھا. اچھے خاصی تعداد نے آج میرے مضمون کو اوپن کیا تھا. سوشل میڈیا پہ بھی خاصا چرچہ رہا. کمنٹس میں خاصی گرما گرمی بھی اور تیکھے جملوں کا تبادلہ بھی ہوا. میں نے کسی بھی سماج میں پنپتے خیراتی رویوں پہ شاندار بحث کی اور سمیٹتے ہوئے سوشلزم کو مسائل کا حل بتایا. میں خود ہی اپنے دو تین فقروں پہ ایسا محظوظ ہوا کہ بےاختیار خود کو داد دے ڈالی. یہ واقعی ایک پُراثر مضمون ہے.
پولیس والا خاندانی پسِ منظر کی وجہ سے مجھے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا لیکن بار بار قہر آلود نگاہوں سے دیکھ لیتا ہے. منہ بھر گالی دینا چاہتا ہے، مگر ہر بار خاموش ہو جاتا ہے. اُس کو معلوم ہے کہ ایک کے بدلے میں تین گالیاں سنائی دیں گی. علاوہ ازیں کل کچہری میں پیشی کے دوران میرے احباب کی طرف سے تشدد کے امکانات کم نہیں ہیں.  بار بار مجھ سے واردات بارے سوال کرتا ہے. مگر میں مسلسل واردات سے لاعلمی کا اظہار کر رہا ہوں. حالانکہ ساری واردات پولیس والے کے سامنے ہوئی ہے.
شہر میں بہت نامی گرامی کال گرلز پائی جاتی ہیں. اُن کو ملنے اور اُن کے ساتھ رات گزارنے کے لیے شرفاء بہت تردد کرتے ہیں. شاپنگ کراتے ہیں. میں نے کبھی اُن کی طرف نہ دیکھا. شہر کی اوسط درجے کی کئی جسم فروش لڑکیاں ایسی ہیں جو گاہکوں کے قصوں میں خاطر خواہ جگہ نہیں پا سکتی، اُن میں سے ایک لڑکی آج میرے کاندھے پہ سر رکھ کر اپنی محبت کا واقعہ سنا رہی ہے جس کے انجامِ ناکام کے بعد شرم کے مارے گھر نہ لوٹ سکی اور اب یہاں ہمارے شہر میں جسم فروشی کر رہی ہے. میں پیار سے اُس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا ہوں.
بچوں کا سکول بہت اہم ہے. اِسی تلاش میں شہر کے سکولوں کو دیکھ بھال رہا ہوں. دیکھتا ہوں کہ آیا کھیل کود کے میدان ہیں یا نہیں، آیا اساتذہ بچوں کے ساتھ تعلق استوارکر  سکتے ہیں یا نہیں، آیا سکول میں تعلیمی ماحول اور تدریسی عمل کی کیا حالت ہے. جب سکول کی فیس جمع کروانے جاتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں مگر جب اولاد چھوٹی سی جماعت میں فَر فَر انگریزی بولتی ہے تو مزہ آ جاتا ہے.
شاہ جی آج چرس دینے آئے ہیں. تین روز سے کال پہ کال کر رہا ہوں. اِن کی مرضی سے ہی کام چلتا ہے. یہ آ گئے تو چاندی یہ نہ آئیں تو ہم پاگل ہوئے پھرتے ہیں. شاہ جی کو آٹھ ہزار روپے دیکر روانہ کرکے مال پرکھنے لگا ہوں. اِس بار مال سوادی لگ رہا ہے. بہن۔۔۔۔دو تین سگریٹ میں ہی چوکڑی بھول جائے گی. جب سے رزلا چھوڑا ہے سکون میں آ گیا ہوں. اصل میں رزلا چرس کے لیے بنایا ہی نہیں گیا، یہ کچی کچی حشیش کے ساتھ مزہ دیتی ہے. پھر رزلے میں کم از کم تین سگریٹ بھرنے پڑتے ہیں. بندے کو الو کا پٹھا بنانے کا فریضہ رزلا پینے میں مضمر ہے. میرا صرف ایک دوست رزلا پہ بضد ہے مگر اب رزلا چھوڑ دیا تو چھوڑ دیا، پھر بھی کبھی کبھار دم مار ہی لیتا ہوں.
آج جسٹس آف پیس کے پاس ابتدائی بحث کی پیشی ہے. یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کسی غریب کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے. دوسرے کو شدید گالیاں دی جائیں. تم ڈائریکٹر جنرل ہو کا مطلب ہر کسی کو دباتے پھرنا ہرگز نہیں. “جج صاحب میرے پاس ڈی جی کے ہاتھوں میرے دفتر کے چپڑاسی کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو موجود ہے، چشم دید گواہان کو بڑی مشکل سے راضی کیا ہے، ڈی جی کو سزا دیں”. ڈی جی کمرہ عدالت میں میری طرف بخشش طلب نگاہوں سے دیکھ رہا ہے مگر میں مسلسل اُس کو اگنور کر رہا ہوں.
فیس بک پہ جتنی گالیاں میسر آتی ہیں کی تعداد بتانا ناممکن ہے. کبھی یہ، کبھی وہ. مولوی کمیونسٹ کہتے ہیں، اور کمیونسٹ مولویوں سے جا ملاتے ہیں، لبرل ناراض ہیں اور فیمینسٹ گالیاں دیتے ہیں. عورتیں سمجھتی ہیں کہ ہر لڑکی/عورت میرا شکار ہے، مرد سمجھتے ہیں کہ ہماری راہ کی رکاوٹ ہے. میں مسلسل ہنس رہا ہوں. اب بھائی بہنو تم ہی بتاؤ کس کس کو جواب دوں. بس مجھے گندا و برا کہلوانے میں کوئی اعتراض نہیں اور اچھا و عمدہ بننے میں کوئی شغف نہیں.
میں فیس بک پہ کلاشنکوف سے کی گئی فائرنگ کی اپنی ویڈیو اپ لوڈ کر رہا ہوں. ٹوئٹر پہ میری تیراکی والی ویڈیو بہت شیئر ہو چکی ہے. ابھی گھر کی گھنٹی بجی ہے، ملازم نے بتایا کہ بینک والے ہیں، ساتھ پولیس بھی ہے، آپ کا پوچھ رہے ہیں، قرضہ کی واپسی مانگ رہے ہیں… میں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا، ملازم باہر چلا گیا ہے، شاید کوئی نئی کہانی ڈال دے وگرنہ اُس کے پاس جواب موجود ہے، “صاحب کہتے ہیں جو کرنا ہے کر لو پیسے نہیں ہیں”. پولیس اور بینک ملازمین بیچاروں کی مانند ادھر اُدھر دیکھیں گے اور چلے جائیں گے.
آج بیحد گرمی ہے. میں سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے چبوترے کے فُٹ پاتھ پہ بیٹھا ہوا بہاؤالدین زکریا کے دربار کے مرکزی دروازے کو تَک رہا ہوں. دروازے کے باہر مَنت منگوانے والے دیا فروشوں نے میری اکلوتی محبوبہ کو گھیر رکھا ہے. دیے میں ڈالنے کے لیے تیل خرید کر اُس نے مجھے دیکھا تو میں نے پیشانی سے پسینہ صاف کرنا شروع کر دیا ہے. ساری رات ننگے بدن کے ساتھ بدکاریاں کرنے والی لڑکی اگلے دن دربار کے باہر دیا جلا رہی ہے، میں سوچ رہا ہوں کہ ایسے مناظر کتنے لوگوں کو میسر آ سکتے ہیں؟ ہم ملتان کا میوزیم دیکھ رہے ہیں، وقتاً فوقتاً اپنی محبوبہ کے کولہوں پہ ہاتھ پھیر رہا ہوں، ایک دو بار دیگر آنے والوں نے مجھے حرکت کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، میری محبوبہ نے مجھے کہا کیوں نہ میوزیم کی چھت پہ چلیں، وہاں جاکر دیکھا ایک جوڑا دنیا و مافیا سے بیگانہ دیوانہ وار ہونٹ چوس رہے ہیں.
“ایسے کیسے ہو سکتا ہے، کسی امریکی کو کسی پاکستانی کو جو ایک دوسرے سے شناسا بھی نہیں ہیں، کیونکر نفرت کر سکتے ہیں، یہ تہذیبوں کے ٹکراؤ کی تھیوری انسانوں کو تقسیم کرنے کے لیے ہے، اور بہت کامیابیاں بھی سمیٹ رہی ہے”. میری اِس بات پہ ہال تالیوں کی گونج سے جھوم رہا ہے.
جاری ہے۔۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *