روشن خیال معاشرے کی تشکیل ۔۔۔ ریحان خان

 

سپریم کورٹ نے ہندوستان میں ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرے سے خارج کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب ملک میں ہم جنس پرستوں کا جنسی تعلق جرم نہیں رہا ہے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے سنائی جو چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 2013 کے ایک عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا جس میں ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے میں شامل کرنے والے قانون کو آئین کی روشنی میں درست قرار دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ ججوں کے ایک آئینی بنچ نے ہم جنسی پرستی سے متعلق اپنے اہم فیصلے میں کہا کہ ’ایک ہی صنف کے دو بالغ لوگوں کے درمیان باہمی رضامندی سے جنسی تعلق جرم نہیں ہے‘۔ سپریم کورٹ نے جہاں ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرہ سے خارج کیا ہے وہیں اس کی دستوری حیثیت سے بھی انکار کیا ہے۔ جس کے بعد ہم جنس پرست کوئی طبقہ نہیں تسلیم کئے جائیں گے اور وہ کوئی مطالبات پیش کرنے کے اہل ہونگے۔ یہ ان کے باہمی معاملات ہیں جس سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ عدلیہ نے جانوروں کے ساتھ جنسی عمل کو جرم کے زمرہ میں رکھا ہے تاہم اس پر آئندہ دنوں میں کیا کچھ ہوگا اس کا اندازہ لگانا قبل ازوقت ہوگا تاہم ماضی میں ہم جنس پرستی کو بھی اسی طرح معیوب اور جرم سمجھا جاتا تھا جس طرح آج جانوروں کے ساتھ تعلق بنانے کو جرم تسلیم کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ شرمناک ہے لیکن ‘ترقی’ کی راہ کا ایک سنگ میل بھی ہے۔
برطانوی دور کے ہم جنسی مخالف جسے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کالعدم قرار دیا ہے یہ واضح کرتا ہے کہ اس قسم کی ‘ترقی’ کے بغیر بھی انگلستان کالے کوسوں دور اپنی کالونیاں قائم کرسکتا تھا۔ ترقی اور عرفان ہم جنسی سے مربوط نہیں ہے۔ عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اکثریت کی اخلاقیات سے نہیں چلتا ’ایک آئینی معاشرہ تخلیق کرنے کا بنیادی مقصد اس معاشرے کو ایک روشن خیال معاشرے میں تبدیل کرنا ہے۔‘ سپریم کورٹ کی نظر میں روشن خیال معاشرے کی تشکیل کی ایک یہی راہ رہ گئی تھی۔ آرٹیکل 377 اپنی وضع میں موجود تھا لیکن اس کے تحت ہم جنسوں کو سنائی جانے والی سزاؤں کے خال خال معاملات ہی موجود ہیں، اس قانون مو عموماً ہم جنس پرستوں کو ڈرانے یا انہیں قابو میں رکھنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ جس قانون کا کوئی عملی نفاذ ہی نہیں تھا، جس کے تحت سزائیں نہیں دی جاتی تھیں، جس سے معاشرے کو غیر فطری ڈگر سے محفوظ رکھا جاسکتا تھا اسے ختم کرکے سپریم کورٹ نے ملک میں ایک طوفان بدتمیزی کی راہ کھول دی ہے جس کے ثمرات آئندہ دہائیوں میں سامنے آئینگے۔ دفعہ 377 کی موجودگی میں ہندوستانی معاشرے میں اب تک یہ وبا اتنی عام نہیں ہوسکی تھی جتنی مغربی ممالک میں ہے تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشرقی روایات کی آزادی کا ایک باب کھل گیا ہے۔
ہم جنسی مخالف قانون کو پہلی مرتبہ 1994 میں چیلنج کیا گیا تھا جس کے بعد اب اس پر حتمی فیصلہ سنایا گیا ہے۔ اس دوران بالی ووڈ نے ڈھکے چھپے الفاظ میں ہم جنس پرستی کی حمایت کی اور کرن جوہر نے سارے پردے اتار کر علی الاعلان اس کا اعتراف کرلیا۔ اس دوران بالی ووڈ میں بامبے ٹاکیز، علی گڑھ اور شب جیسی فلمیں بھی بنائی گئیں جس میں سے کچھ کو سینسر بورڈ نے پاس بھی کردیا۔ سینسر بورڈ کی جانب سے ایسی فلمیں پاس ہونے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خدوخال سامنے آگئے تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اگر کسی شوہر یا بیوی کا حق مارا جاتا ہے تو ایسے معاملات کا تصفیہ کس شکل میں کیا جائے گا۔ اسے جرم میں شمار بھی کیا جائے گا یا نہیں، یا طلاق کی مخالف سپریم کورٹ اس جوڑے کو طلاق کا مشورہ دے گی۔ روشن خیال معاشرے کی تشکیل کا مطلب یہ تو نہیں ہوا کہ شہری کو جنسی بھیڑیے کی شکل میں مادر پدر آزاد چھوڑ دیا جائے۔ اگر روشن خیال معاشرے کی تشکیل اسی طرح ہوتی ہے تو ہمیں دنیا کے اس روشن خیال، ترقی یافتہ اور سوپر پاور معاشرے کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے جس کا صدر ماضی قریب میں شہریوں سے اپیل کرنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ ‘خدارا! شادیاں کیجے۔’

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *