حکم کریں صاحب — عبداللہ خان چنگیزی

زندگی کے ساتویں سال میں داخل ہوتے ہی نوید کی بچپن کی بہاروں میں ظالم خزاں نے ڈھیرے جما لئے لیکن وہ اُس خرگوش کو دیکھتے ہوئے بہت خوشی محسوس کرتا رہا جو بنگلے کے لان میں یہاں سے وہاں اُچھل کود رہا تھا اُس کی لال لال آنکھیں اور صاف اُجلا رنگ اُسے بہت بھاتا تھا۔ اُس دن وہ کچھ اُداس سا بھی تھا کیونکہ اُس کی ماں وہاں اُس کے ساتھ نہ تھی بلکہ لوگ اسے وہاں لے کر مٹی میں دبا کر واپس آگئے تھے جہاں وہ کبھی کبھی اُس کے ساتھ جایا کرتا تھا ماں اُس کو بتاتی تھی کہ وہاں اِس کے بابا کی قبر ہے قبر کیا ہوتی ہے وہ سمجھ نہیں سکا شاید وہ اسے کوئی گھر ہی سمجھتا رہا۔

آج اُس کو کسی نے کھانے کے لئے بھی نہ پوچھا وہ خود بھی بھوک محسوس نہیں کر رہا تھا وہ تو اِس خرگوش کے مستی میں ڈوبا ہوا تھا جو اُس کے سامنے کرتب دکھا رہا تھا۔

اچانک اُس کے کانوں نے ایک تیز آواز سنی!
ابے تو یہاں بیٹھا ہے جلدی سے ایک گلاس پانی لے آو میرے کمرے میں۔۔۔

وہ اِس آواز پر چونک پڑا اور دوڑتا ہوا کچن میں داخل ہوا جو اسے معلوم تھا کیونکہ اُس کی ماں اور وہ وہاں ہی کھانا کھاتے تھے۔ پانی کا گلاس ھاتھ میں لئے وہ کمرے میں داخل ہوا اور گلاس اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پکڑے بڑے صاحب کو پکڑا دیا۔ صاحب نے ناگواری سے اُس کی طرف دیکھا اور دوسرا حکم جاری کیا۔

جاو وہاں کونے میں جو جوتے پڑے ہیں وہ ٹھیک سے صاف کر کے لے آو دیکھو کوئی کچرا باقی نہ رہے۔۔۔

اُس نے کمرے کے ایک طرف کونے میں پڑے ہوئے جوتے اٹھائے اور باہر کی طرف چل پڑا۔ جوتوں کو رگڑ رگڑ کر صاف کرتا رہا جب اُس کی صورت کی ہلکی سی جھلک وہاں دکھائی دینے لگی تب اس کو یقیں ہوگیا کے جوتے صاف ہوگئے۔

کمرے میں جوتے رکھنے کے بعد وہ واپسی کی طرف مڑا ہی تھا کے آواز سماعت سے ٹھکرائی۔

میں کام سے جا رہا ہوں میڈم باہر گئی ہوئی ہے جب تک وہ ائے تب تک تم نے صفائی ختم کرنی ہے سمجھے! اور ہاں وہ باہر لان میں پودوں کو پانی بھی ٹھیک سے دینا۔

جی اچھا صاحب!
وہ بس اتنا ہی کہہ پایا۔

سب کچھ صاف کرنے کے بعد وہ پانی کے نلکے کو کھول کر اسے کھینچتے ہوئے پودوں تک لے گیا اور وہاں پودوں کو سیراب کرنے لگا۔

کچھ دیر ہی گزری تھی خرگوش کو چھلانگیں لگاتے ہوئے کے گھر کے بڑے دروازے پر گاڑی کی ہارن سنائی دی وہ اٹھا اور دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا دروازہ کھول کر اسے ایک طرف دھکیل دیا اور دوسرے پھاٹک کو اپنے ساتھ ہی گھوماتا چلا گیا۔

نوید یہاں آو۔

تیز آواز سنائی دی

جی ماما۔۔۔

ماما کے بچے تم نے پھر کچن میں سب کچھ غلط رکھا ہے کیا کیا کھا گئے ہو کچن سے؟

جی جی کچھ نہیں ماما میں نے آج کھانا بھی نہیں کھایا مجھے بھوک نہیں لگتی۔

چپ حرام خور جھوٹ بولتا ہے؟

ایک زناٹہ سا سنائی دیا اور اس کے گال پر ختم ہوا۔۔۔

تین ہفتےبعد۔۔۔

یہ نوید بہت کام چور ہوگیا ہے کل میں نے اسے میرے موزے دیئے دھونے کو بلکل بھی صاف نہیں کئے! وہ اپنے میاں سے بولتی رہی اور وہ سنتا رہا۔

تین ہفتوں سے وہ بہت سے کام سیکھ گیا تھا گھر کی صفائی کرنا پودوں کو پانی دینا گاڑی دھونا گندے برتن دھونا صاحب اور ماما کے جوتے پالش کرنا گڑیا کے سواری کے لئے گھوڑا بننا سب کچھ۔۔

ایک دن حکم ملا کچن میں چینی برتنوں کو اچھی طرح صاف کرنے کا ایک پلیٹ صاف کرتے کرتے اس کے ہاتھ سے اس کے پاوں پر گر پڑا ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا پاوں سے لال لال گاڑھا خون نکلنے لگا۔

کچھ ٹوٹنے کی آواز دبائی نہیں جاسکتی تھی ماما کچن میں آئی تو یہ دیکھ کر آگ بگولہ ہو گئی کہ اس کے قیمتی برتنوں میں سے ایک ٹوٹ کر فرش کی زینت بن چکا تھا۔

طمنچوں کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہوا جو ایک گھونسے پر ختم ہوا جو سینے کے عین وسط پر پڑا تھا۔ فرش خون سے لت پت لیکن شاید وہ کوئی غیر ضروری شے تھی جس کی طرف ماما کی نظر نہ گئی۔۔۔۔

آج وہ سارا دن سٹور روم میں موجود آپنے چھوٹے سے گدے پر پڑا ہوا تھا رات کو بہت اچھی نیند آئی تھی اسے صبح وہ برتن صاف کرنے بھی نہ اٹھا اس کے پاوں پر کپڑا بندھا ہوا تھا جو اسے ماما نے دیا تھا باندھنے کو جس سے خون کی روانی کچھ کم ہوئی پھر بند ہوگئی۔

دن کے بارہ بجے کے قریب اسے باہر سے ماما کی آواز سنائی دی جو اسے غصے سے مخاطب کر رہی تھی اسے کام چور کے نام سے پکارتی ہوئی۔ اچانک دروازہ کھلا اور ماما اگئی۔

کیوں بے وہ برتن کیا تمھارہ باپ دھوئے گا؟ جو ابھی تک پڑے ہو اٹھو پاوں کچھ تھوڑا سا زخمی ہوا ہے ٹوٹ نہیں گئی۔

وہ اٹھا اور اپنے ننے سے وجود کے ننے سے وزن کو اپنے ننے سے پاوں پر گھسیٹتا ہوا دروازے سے باہر آتا ہوا کچن کی طرف جانے لگا۔

اس کے ذہن میں ایک خیال تیرتا رہا خون لال خون اور اس کے بعد نیند واہ کیا مزے کی نیند تھی وہ یہی سوچتا رہا اور برتنوں کو پانی کے نیچے رکھا۔

آج پھر وہ بہت تھک چکا تھا کچھ مہمان آئے تھے جن کی خاطر تواضع کے لئے کچھ زیادہ ہی برتن نکالے گئے تھے کچن میں گندے پڑے تھے وہ اسے دھوتے دھوتے اونگتا رہا کچھ لمحوں بعد وہ غنودگی میں چلا گیا کے اچانک ایک چھناکا سا سنائی دیا اور وہ یک دم بیدار ہوکر منمنانے لگے-

میں نے نہیں توڑا میں نے نہیں توڑا۔۔۔۔

وہ دیکھ رہا تھا کے نل سے پانی جاری تھا اس کے ایک ہاتھ میں ایک پلیٹ اور دوسرے ہاتھ میں وہ صابن تھا پلیٹ ٹھیک تھا وہ ٹوٹا نہیں تھا۔

سب کچھ صاف کرنے کے بعد وہ اپنے صبح کیلئے پوری نیند سونے کا بندوبست کرنا چاہتا تھا اس نے نظریں دوڑائی اور اس تیز سٹینلیس سٹیل کے چاقو کی طرف دیکھ کر مسکرایا-

چاقو اٹھا کر اس نے اپنے پاوں کی سیدھ میں سیدھی کی اور اوپر سے گرا دی۔۔۔

آہ ہ ہ ایک سسکی سی اس کے منہ سے نکلی اور وہ سرخ لال خون پاوں سے جاری ہونے لگا وہ دوڑتا ہوا باہر لان کی طرف گیا جہاں ماما بیٹھی صاحب جی کے ساتھ باتیں کر رہی تھی اس کو دیکھتے ہی بولی–

کیا ہے برتن دھو لئے ہوں تو جاو سو جاو صبح جلدی اٹھنا ہے تم کو۔

اس نے اپنا پاوں آگے کرتے ہوئے کہا

وہ برتن دھوتے ہوئے چاقو نیچے میرے پاوں پر گر پڑا!

میڈم اور صاحب جی دونوں چونک کر اس کی پاوں کی طرف دیکھنے لگے جس سے خون رس رہا تھا۔

تم نے پھر کوئی غلطی کی ہوگی! ماما نے تیز زبان میں کہا!

چھوڑو بھی اب اسے کچھ دے دو یا اس کا خون روکنے کے لئے کچھ باندھ دو صاحب جی نے کہا۔

جاو جاکے وہی کپڑا باندھ دو جو کل دیا تھا! ماما نے نوید کی طرف دیکھا وہ دل ہی دل میں خوش ہوا کے صبح اسے کوئی نہیں جگائے گا۔

وہ دوڑتا ہوا سٹور روم کی طرف گیا اور کپڑا اپنے پاوں پر اڑھا ٹھیڑا باندھتے ہوئے گہری نیند سو گیا۔

کیا خوب طریقہ اس کے ہاتھ لگا تھا تھوڑا سا لال خون بہا کر وہ صبح دیر تک سو سکتا تھا اب اسے کوئی فکر نہ تھی جب بھی اسے کل دیر تک سونا ہوتا کوئی زخم اسی پرانی جگہ پر لگا دیتا پھر کام سے بچ جاتا۔۔۔۔

مہینہ پورا ہونے کو تھا وہ اس پورے مہینے میں کوئی ساتھ مرتبہ صباح دیر تک سو چکا تھا ساتھ بار لال گہرا گاڑھا خون بہا کر۔۔۔۔

نوید یہاں آو صبح کمرے صاف کرنے ہیں اس لئے خیال کرنا جلدی سوجانا اور خود کو زخمی نہ کرنا-

جی صاحب جی

وہ کمرے سے نکلا لیکن اس کے ہاتھ میں ایک تیز بلیڈ تھا جو اس نے صاحب جی کے دراز سے اٹھا لیا تھا۔

بلیڈ ہاتھ میں پکڑ کر اسے پاوں پر پھیرنا تھا تاکہ لال خون نکلے اور وہ سو سکے اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا بلیڈ اپنے پاوں کے انگوٹھے سے لیکر ٹخنے کے جوڑ تک پھیر دیا۔۔۔۔۔ خون کا فوارہ بلند ہوا اس کا ذہن ڈوبتا چلا گیا شاید گہری نیند سونے۔

ڈاکٹر صاحب کیا کرنا ہے جلدی بتائیں! ماما آپنے میاں کے ساتھ نوید کو اٹھا کے ہسپتال لے کر آئے تھی جو انہیں سٹور روم میں بے ہوشی کی حالت میں ملا تھا۔

دیکھیں اس کا زخم بہت زیادہ خراب ہوچکا ہے بار بار ایک ہی جگہ زخمی ہونے اور کوئی ٹھیک علاج نہ ہونے پر زخم کینسر میں داخل ہوچکا ہے اس کی ٹانگ کاٹنی ہوگی۔۔۔۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
منتظر ہیں ہم صور کے، کہ جہاں کے پجاری عیاں ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *