کوانٹم سپن کا گھن چکر۔۔۔۔نعمان رؤف ہاشمی

کوانٹم میں ہم اکثر سپن کے بارے میں سنتے ہیں اور کوانٹم میکنیکس میں اس کا اہم کردار ہے کوانٹم انٹینگلمنٹ میں بھی سپن ہی کا ذکر ہوتا ہے یہ پارٹیکلز کی بنیادی پراپرٹیز میں سے ہے جیسے چارج اور ماس مگر سپن کہ بارے میں ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے کہ یہ کام کیسے کرتا ہے۔

کوانٹم میکنیکس میں سپن کی انٹری ذرا دیر سے ہوئی یہ کنسیپٹ Schrodinger equation کے  بعد آیا Schrodinger equation بالکل ٹھیک طرح سے کوانٹم ذرات کی Prediction کر سکتی تھی اس کے  بعد کوانٹم میں ذرات کی عجیب میگنیٹک پراپرٹیز کا اندازہ ہوا جس کو تب تک کوانٹم بیان نہیں کررہی تھی۔۔

سپن کو سمجھنے کیلئے کلاسیکل فزکس کی الیکٹرومیگنیٹزم تھیوری کا سہارا لینا پڑے گا جس کے  مطابق جب کوئی چارجڈ پارٹیکل حرکت کرتا ہے تو وہ میگنیٹک فیلڈ  جنریٹ کرتا ہے، جس چیز کا آپ آسانی سے مشاہدہ کر سکتے ہیں کسی charge carrying wire کے  قریب کمپاس رکھیں تو وہ اُس کے  حساب سے حرکت کرےگی ہمیں پتہ ہے چارجڈ پارٹیکل جب loop کی صورت میں حرکت کرتے ہیں تو وہ صرف میگنیٹک فیلڈ  ہی نہیں بناتے بلکہ ایک چھوٹے میگنیٹ کی طرح کا رویہ ظاہر کرتے ہیں اگر یہ Loop میں حرکت نہ کر رہے ہوں تو انہیں میگنیٹک نہیں ہونا چاہیے مگر یہ پھر بھی میگنیٹ کے  جیسا رویہ ظاہر کرتے ہیں  اور تجربات سے یہ ثابت ہوتا ہے میگنیٹ صرف چارجڈ پارٹیکل کے  لوپ میں حرکت کرنے کی وجہ سے ہی نہیں بنتا بلکہ اس کا اور بھی طریقے ہیں

ایک تجربے کی مدد سے ہم اسے سمجھ سکتے ہیں جسے stern Gerlach experiment کہا جاتا ہے جو ذرات کی Orientation ماپنے کیلئے استعمال ہوتا ہے یہ دو بڑے میگنیٹس پر مشتمل ہوتا ہے اوپر والے میگنیٹ کیSouth pole والی طرف نیچے کی طرف ہوتی ہے جو کہ V shaped ہوتا ہے اور نیچے والے میگنیٹ کی North pole والی سائیڈ اوپر کی طرف ہوتی ہے جو کہ گہرئی میں V Shaped ہوتا ہے(تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے) اور سامنے ایک ڈیٹیکٹر سکرین لگی ہوتی ہے اس میں جب کسی میگنیٹ یا چارجڈ پارٹیکل کو گزارا  جاتا ہے اگر اُس پارٹیکل کا North pole والی سائیڈ اوپر کی طرف ہو تو پارٹیکل اوپر والے میگنیٹ کی طرف کشش  محسوس کرےگا، مخالف پول ہونے کی وجہ سے اس طرح سکرین پر وہ اوپر والی طرف ڈیٹیکٹر سکرین پر خود کو ظاہر کرے گا اور جس پارٹیکل کی South pole والی سائیڈ نیچے کی سمت ہوگی وہ سکرین پر نیچے خود کو ظاہر کرےگا اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اگر پارٹیکل لوپ کی صورت میں نہ بھی حرکت کریں تب بھی وہ میگنیٹک ہوتے ہیں اس کا مظہر کی وجہ صرف یہی ہوسکتی ہے کہ یہ پارٹیکل اپنے ایکسز پر گھوم رہے ہیں تب ہی یہ میگنیٹک جیسا برتاؤ ظاہر کر رہے ہیں۔

اس تجربے کیلئے silver، (ag) کے  ایٹمز کا استعمال کیا گیا تھا جو کہ ایک چھوٹے بار میگنیٹ جیسا تھا ان کہ آؤٹر موسٹ شیل میں ایک unpaired الیکٹران ہوتا ہے ایک بڑے oven کی مدد سے سلور کے  ایٹمز کو بیم میں تبدیل کر کے  اس تجربے میں استعمال کیا گیا اور ڈیٹیکٹر سکرین پر ملنے والا رزلٹ حیران کُن تھا کچھ ایٹمز نے سکرین پر خود کو اوپر کے  حصے میں ظاہر کیا اور کچھ نے نچلے حصے میں اور درمیانی جگہ خالی تھی یہ خالی جگہ 1/5 ملی میٹر تھی اور اس سے ہمیں سپین کی موجودگی کا احساس ہوا اور ملنے والے نتیجے  سے پتہ چلا کہ اس ایٹم میں موجود الیکٹران کا دو طرح کا سپن ہیں ایک Up spin اور دوسرا Down Spin کیونکہ سپن ہونے کی وجہ سے ان کہ پولز مختلف مخالف سمت میں ہیں۔

مگر یہ سپن کا گن چکر اتنا بھی آسان نہیں  اس تجربے سے ہمیں  نتیجہ  Up اور Down سپن کی صورت میں ملا مگر ایٹمز جو بیم کی صورت میں ہم نے stern gerlach میں سے گزارے اُنہیں تو بے ہنگم سا ہونا چاہیے تھا مطلب کہ کچھ Poles 180° پر بھی ہونے چاہیے تھے کچھ 60° اسی طرح تقریباً تمام زوایوں پر ہونے چاہیے تھے اور اس صورت میں اینگلز کی وجہ سے ان تمام پارٹیکلز کو سامنے سکرین پر ایک لائن کی صورت میں ظاہر ہونا چاہیے تھا مگر نتیجہ  تو کچھ اور ہے ، یہ بالکل دو مختلف جگہوں پر پوائنٹ پر لینڈ کر رہے ہیں اور درمیانی حصہ بھی خالی ہے…! چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ یہ پارٹیکل یا تو بالکل اوپر کی سمت ہوتے ہیں یا بالکل نیچے کی سمت ان کی درمیانی حالت نہیں ہوتی۔

اب اس تجربے کو دوسرے انداز سے کر کے  دیکھا گیا اس میگنیٹ والے Apparatusکو سائیڈ پر Horizontal رکھ کر اُسی سورس سے اسی طرح پارٹیکلز کو گزارا  گیا اب تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ پارٹیکلز کی سمت تو سورس کے  حساب سے اوپر یا نیچے ہونی چاہیے تھی جس کی وجہ سے stren gerlach کے  میگنیٹک کی فیلڈ کا اثر نہیں ہونا چاہیے تھا یہ بغیر ہلے جُلے سکرین سے سیدھا جا کر ٹکرا جاتے مگر ایسا ہوا نہیں یہ پارٹیکلز دوبارہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر سامنے لگی سکرین آدھے دائیں اور آدھے بائیں جانب ظاہر ہوئے!

یہ اتنا عجیب ہے کہ جیسے کسی میگنیٹ دو کے بجائے چار پول بن رہے ہوں۔۔۔
سپن ایک اہم چیز ہے مگر اس خصوصیت کے  بارے میں ہم صحیح سے بیان نہیں کرسکتے یہ کنفوژنز  تو بہر حال موجود ہیں کیونکہ کلاسیکل فزکس کے  حوالے سے آپ اسے  بیان نہیں کر سکتے میگنیٹ کی اوپر اور نیچے کی خاصیت کے  ساتھ لیفٹ اور رائٹ Orientation بھی بیان کرنی پڑے گی مگر اُن کے  orientation جیسی بھی ہو کوانٹم میں ہم اپ اور ڈاؤن سپین ہی کو کنسڈر کرتے ہیں اور یہی ایکویشنز میں استعمال ہوتا ہے۔

جیسے آپ دیکھتے ہیں ایک فٹ بال یا بُک کو اگر گھومایا  جائے تو وہ اپنی شروعاتی حالت تک پہنچنے کیلئے پورا 360° کا چکر لگائیں تبھی وہ ویسے دکھیں گے جیسے وہ چکر کی شروعات میں تھے اس چیز کو پارٹیکل کا spin-1کہا جائے گا۔۔۔

اب جب ہم کہیں کہ پارٹیکل کا spin-2 ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پارٹیکل کو دوبارہ اپنی شروعاتی حالت میں آنے کیلئے 180°تک گھومنا پڑے گا آپ تصور کریں کہ کتاب آدھی گھوم کر شروع والی حالت میں آگئی جیسے صرف پلٹنے پر پلٹنے سے پہلے والی حالت میں آجانا..

اگرSpin-1/2 ہوتو اس سے مراد یہ ہے کہ پارٹیکل کو اپنی شروعاتی حالت میں آنے کیلئے دو بار گھومنا  پڑے گا۔  فٹ بال پر ایک نشان لگائیں اُس کو گھومائیں وہ 360° گھومنے کے  بعد بھی اُس نقطہ کو سامنے نہ لا ئے بلکہ 360×2 گھومنے پر وہ نقطہ دوبارہ آپکے سامنے آئے گا… پلس نمبر سپن کی کلاک وائز ہونے کا بتاتا ہے اور نیگٹیو نمبر سپن کہ اینٹی کلاک وائز ہونے کو بیان کرتا ہے

مگر یہاں ایک اور بات بھی غور طلب ہے جب ہم کوانٹم لیول پر الیکٹران کہ سپین کی بات کرتے ہیں تو ہم یہ کہتے ہیں یہ الیکٹران اپنے ایکسز کے  گرد گھوم رہا ہے اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے الیکٹران انتہائی چھوٹا پارٹیکل ہے اگر ہم اُس ایکسز کے  حساب سے سپن کودو وہ روشنی سے بھی کہیں گنا زیادہ رفتار سے سپن کرے گا کیونکہ یہ انتہائی کم ماس کا حامل ہے اور الیکٹران ایک گیند کی طرح کا پارٹیکل نہیں ہے الیکٹران انتہائی چھوٹا ہے پنسیل کی مدد سے چھوٹے سے چھوٹا ڈاٹ لگایں اس کا Radius 2.82 x 10^-15 m ہونا چاہیے اور اس صورت میں الیکٹران کو گھومتا ہوا تصور کیا جا سکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *