امن کے بعد۔شینووا اچیبے/ خورشید اقبال

جوناتھن اوِگبواپنے آپ کو بے حد خوش قسمت محسوس کر تا تھا۔ نئے نئے قائم ہونے والے امن کے ان دھندلے دھندلے سے دنوں میں پرانے دوستوں میں ایک دوسرے کو ’’زندگی مبارک ہو‘‘کہہ کر مبارک باد دینے کا چلن تھا…لیکن اس کے لیے یہ محض مبارکبادی کا جملہ نہ تھا، بلکہ بہت کچھ تھا…یہ جملہ اس کے دل کی گہرائیوں میں اترا ہوا تھا۔ جنگ کے آتشیں ماحول سے وہ پانچ بیش بہا چیزیں بچا نے میں کامیاب رہا تھا۔ ان میں سے ایک تھا اس کا اپنا سر، ایک اپنی بیوی ماریا کا سر اور اپنے چار میں سے تین بیٹوں کے سر۔ یہی نہیں اضافی بونس کے طور پر وہ اپنی پرانی سائکل بھی بچانے میں کامیاب رہا تھا، جس کا بچ جانا ایک معجزے سے کم نہ تھا، بہرحال جو بھی ہو…پانچ انسانی سروں سے تو اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اس سائیکل کی بھی اپنی الگ ہی کہانی تھی۔ ان دنوں جنگ زوروں پر تھی،اچانک ایک دن اس سے ’’ضروری فوجی کارروائی‘‘ کے لیے اس کی سائیکل طلب کر لی گئی۔ حالانکہ سائیکل سے دستبردار ہونا اس کے لیے بہت ہی مشکل امر تھا پھربھی وہ بلا جھجک سائیکل ان کے حوالے کرہی دیتا لیکن نہ جانے کیوں اسے ایسا لگا جیسے وہ اس فوجی افسر سے اپنی سائیکل بچانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ایسا اس لیے نہیں تھا کہ اس فوجی افسر کی وردی بوسیدہ تھی،نہ ہی اس لیے کہ اس کے ایک پیر میں نیلا اور دوسرے پیر میں بھورا کینواس کا جوتا تھا جن سے اس کے پیروں کی انگلیاں جھانک رہی تھیں،اور نہ ہی اس لیے کہ اس کے عہدے کو ظاہر کرنے والے دونوں ستارے شاید بڑی جلدی میں بال پین سے بنائے گئے تھے۔ ان دنوں بے شمار اچھے اور بہادر فوجیوں کی حالت ویسی ہی یا اس سے بھی زیادہ خراب تھی۔ وہ تو اس فوجی کے انداز اور لہجے کی کمزوری تھی جس نے اسے ایسا سوچنے پر مجبور کیا تھا۔ اسے لگا جیسے وہ اس فوجی افسر سے اپنی بات منوا سکتا ہے۔

پس جوناتھن نے اپنے رافیا کے ریشوں سے بنے تھیلے میں تلاش کر کے دو پونڈ کے نوٹ نکالے اور اسے دے دیے۔ یہ رقم لے کر وہ جلاون کی لکڑیاں خریدنے نکلا تھا۔ اس کی بیوی ماریایہ لکڑیاں فوجیوں کو فروخت کر کے کچھ آمدنی کر لیتی تھی تاکہ کچھ اضافی خشک مچھلی اور مکئی کی بنی غذا خرید سکے۔ بہر حال وہ اپنی سائیکل بچانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اسی رات اس نے اپنی سائیکل جھاڑیوں کے درمیان کی اسی چھوٹی سی خالی جگہ میں دفن کر دی ، جہاں کیمپ کے دوسرے مردوں کے ساتھ اس کا چھوٹا بیٹا بھی دفن تھا۔ ایک سال بعد جب جنگ ختم ہو ئی اور اس نے زمین کھود کر اسے باہر نکالا تو یہ بالکل صحیح سلامت تھی، بس ذرا سی پام آئل ڈالتے ہی پھر سے قابل استعمال بن گئی۔ ’’خدا کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں‘‘اس نے حیرت سے کہاتھا۔

اس نے سائیکل کا ایک بہتر استعمال ڈھونڈ لیا۔ اس نے اسے ٹیکسی کے بطور استعمال کر کے خاصی رقم کمالی۔ وہ فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو قریبی پکی سڑک ،جو وہاں سے چار میل کے فاصلے پر تھی، پہنچا دیتا تھا۔ اس کے لیے وہ عام طور سے چھ پونڈ(بیا فرائی کرنسی ) کرایہ لیتا تھا اور جن لوگوں کے پاس رقم تھی وہ اس کا کچھ حصہ اس طرح خرچ کر کے خوش ہوتے تھے۔ دوہفتوں ہی میں اس نے ایک سو پندرہ پونڈ جمع کر لیے جو اس کے لیے ایک خزانے سے کم نہ تھے۔پھر ایک دن وہ اپنے شہراینوگو واپس گیاتو وہاں ایک اور معجزہ اس کا منتظر تھا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اس نے اپنی آنکھوں کو مل کر دوبارہ دیکھا…ہاں!وہ اس کے سامنے صحیح سلامت کھڑا تھا… لیکن پھر بھی یہ معجزہ اس کے خاندان کے پانچ سَروں کی سلامتی کے مقابلے کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ یہ نیا معجزہ اُوگوئی اُوور سائیڈ پر واقع اس کا چھوٹا سا مکان تھا…بے شک !خدا کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں!اس سے صرف دومکان آگے، ایک کنکریٹ کا بنا بہت بڑا اور شاندارمکان ، جو ایک دولتمند ٹھیکے دار نے لڑائی چھڑنے سے چند دنوں قبل ہی بنوایا تھا،آج ملبے کا پہاڑ بنا پڑا تھا،اور وہیں جوناتھن کا جستے کی چادروں سے بنامکان جس کی تعمیر میں مٹی کی کچی اینٹیں بھی استعمال کی گئی تھیں، صحیح سلامت تھا۔

بے شک دروازے اور کھڑکیاں غائب تھیں اور چھت کی پانچ چادریں بھی نہیں تھیں،لیکن یہ کوئی بڑی بات نہ تھی۔ وہ اینوگو بالکل صحیح وقت پر لوٹا تھا اور آس پاس بکھرے ملبے میں سے جستے کی چادریں، لکڑیاں اورکارڈبورڈ کے ٹکڑے چن سکتا تھا،اس سے قبل کہ ہزاروں لوگ اپنی جنگی پناہ گاہوں سے باہرنکل کر آتے اور یہی چیزیں تلاش کر تے پھرتے۔ اس نے ایک مفلوک الحال بڑھئی کو بھی ڈھونڈنکالا جس کے اوزاروں والے تھیلے میں صرف ایک ہتھوڑی، ایک کند آری اور چندزنگ آلود، مڑی تڑی کیلیں ہی باقی بچی تھیں۔ وہ پانچ نائجیریائی شیلینگ یا پچاس بیافرائی پونڈکے عوض لکڑی، جستے اور کارڈ بورڈسے،جو،جوناتھن چن کر لایا تھا، دروازے اور کھڑکیاں بنانے پر راضی ہو گیا۔ جوناتھن نے پونڈ اسے ادا کر دیے اورخوشی سے پاگل اپنے خاندان کے پانچ افراد کے ساتھ مکان میں داخل ہو گیا۔

نئے سرے سے زندگی کی شروعات کرنے کے لیے ،اس کے بچے قریبی فوجی قبرستان سے آم توڑ کر فوجیوں کی بیویوں کو چند سکوں کے عوض فروخت کرنے لگے۔ اس کی بیوی پڑوس کے لوگوں کو فروخت کرنے کے لیے اَکارَ ا بال (ایک نائجریائی فاسٹ فوڈ ڈِش) بنانے لگی۔ جوناتھن اپنی سائیکل پر آس پاس کے گاؤں سے تازہ تاڑی (تاڑ کی بنی شراب) خرید کر لاتا اور سڑک کے کنارے واقع نل سے،جس میں حال ہی میں پھر سے پانی آنا شروع ہوا تھا، پانی لا کر، تاڑی میں اچھی خاصی مقدار میں ملا تا۔ اس نے فوجیوں اور لڑائی میں زندہ بچ جانے والے خوش نصیب اور دولتمندلوگوں کے لیے ایک شراب خانہ کھول لیا تھا۔
کول کارپوریشن کے آفس میں، جہاں وہ پہلے کان کُن کے طور پرکام کرتا تھا،وہ بار بار جایا کرتا تھا،شروع شروع میں روزانہ، پھر ہر دوسرے دن اورپھرہفتے میں ایک دن، تاکہ اسے نوکری کی بحالی کی کوئی خبر مل سکے۔ آخر کار جو بات اس کی سمجھ میں آئی وہ یہ تھی کہ اس کے مکان کا صحیح سلامت بچ جانا اس سے کہیں زیادہ بڑی خوش بختی تھی ،جتنی وہ سمجھ رہا تھا …اس کے کچھ ساتھی کان کُن، جنھیں کوئی ٹھکانہ میسر نہیں تھا وہ دن بھر کے انتظار کے بعد،آفس کے درازوں کے باہرہی بورن ویٹا کے ٹن کے ڈبوں میں اپنی استطاعت کے مطابق کوئی کھانے کی چیز پکا لیتے اور وہیں زمین پر سو جاتے۔ انتظار جب بہت طویل ہو گیا اور اس بات کی پھربھی کوئی خبر نہ ملی کہ نوکری کا کیا ہوگا، تو اس نے ہر ہفتے آفس جانے کا اپنا معمول ختم کردیا اور سنجیدگی سے اپنے شراب خانے میں دلچسپی لینے لگا۔

لیکن خدا کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں! قسمت اس پر مہربان تھی۔ ٹریزری آفس کے سامنے،تیز دھوپ میں ، پانچ دن تک قطاروں میں لگنے کے بعد، آخر اس نے اپنے ہاتھ میں موجود بیس پونڈ کے نوٹوں کو گنا،جو اسے’ ایکس گریشیا‘ (Ex-gratia)انعام کے طور پر ملے تھے۔ جب رقم بٹنے لگی تو اس کے اور اس جیسے دوسروں کے لیے یہ سماں کرسمس سے کم نہیں تھا۔ زیادہ ترلوگ اسے ایگ ریشرکہا کرتے تھے کیوں کہ وہ اس کا صحیح تلفظ( ایکس گریشیا) ادا نہیں کر پاتے تھے۔جیسے ہی پونڈ کے نوٹ اس کی ہتھیلی پر آئے اس نے فوراً سختی سے اپنی مٹھی بند کر لی اور پھر مٹھی کو اپنی پینٹ کی جیب میں ڈال لیا۔ وہ پوری طرح ہوشیار تھا،کیوں کہ ابھی دو دن قبل ہی اس نے ایک آدمی کو اس جم غفیر کے سامنے بری طرح پچھاڑیں کھاتے ہوئے دیکھا تھا۔ بے چارے کو جیسے ہی بیس پونڈ ملے ،ویسے ہی کسی بے رحم جیب کترے نے اس کی جیب سے اڑا لیے تھے۔ اب ایک آدمی جس کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہو چکا ہو، اسے کوئی الزام دینا کسی طرح مناسب نہ تھا،لیکن پھر بھی لوگ اس آدمی ہی کو اس کی لاپروائی کے لیے کوس رہے تھے، خاص طور سے جب اس نے اپنی جیب کو الٹ کر باہر نکالا تو اس میں ایک اتنا بڑا سوراخ موجود تھا جس میں سے ایک چور کا ہاتھ بڑی آسانی سے اندر جا سکتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ وہ بضد تھا کہ رقم اس جیب میں نہیں دوسری جیب میں تھی، اس نے وہ جیب بھی باہر نکال کر دکھائی جو بالکل ٹھیک تھی… بہر حال ہر شخص کو محتاط رہنے کی ضرورت تھی۔

جلد ہی جوناتھن نے رقم بائیں ہاتھ میں لے کر پینٹ کی بائیں جیب میں ڈال لی، تاکہ ضرورت پڑنے پر، اس کا دایاں ہاتھ مصافحے کے لیے خالی رہے۔ حالانکہ اس نے اپنی نگاہیں انسانی چہروں سے اوپر ایک ایسے زاویے پر ٹکا رکھیں تھیں کہ اسے یقین تھا کہ گھر پہنچنے تک اسے کسی سے مصافحہ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔عام طور سے وہ بہت گہری نیند سویا کرتا تھا لیکن اس رات اس نے پاس پڑوس کی ساری آوازوں کو، ایک کے بعد ایک، رات کے سناٹے میں ڈوبتے ہوئے سنا۔ یہاں تک کہ رات کا چوکیدار، جو ہر گھنٹے ،دور کسی دھاتی شے کو بجایا کرتا تھا، وہ بھی شاید ایک کا گھنٹہ بجانے کے بعد کہیں سو گیا تھا۔ جوناتھن یہی سوچتے سوچتے آخر خود بھی نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ ابھی اسے سوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔’’کون دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے؟‘‘ اس کی بیوی نے سر گوشی کی، جو زمین پر اس کی بغل میں لیٹی ہوئی تھی۔
’’مجھے پتا نہیں۔ ‘‘ اس نے بھی سر گوشی میں جواب دیا۔
دوسری بار ہونے والی دستک زیادہ تیز تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کمزور سا دروازہ گر پڑے گا۔
’’کون ہے؟‘‘ اس نے پوچھا، اس کی آواز کپکپا رہی تھی۔
’’ہم چور ہیں… دروازہ کھولو۔ ‘‘ باہر سے جواب ملا اور ساتھ ہی زور دار آواز میں دروازہ پیٹا گیا۔
اس کی بیوی ماریا نے سب سے پہلے چیخنا شروع کیا۔ اس کے ساتھ اس کے سبھی بچے بھی چیخنے لگے۔

’’چور…چور…پولیس! … پڑوسیو ! … ہمیں بچاؤ… چور آئے ہیں… ہم لٹ جائیں گے … ہم بر باد ہو جائیں گے… پڑوسیو!…تم لوگ سو رہے ہو…جاگو… ہمیں بچاؤ…پولیس…۔ ‘‘کافی دیر تک وہ لوگ چیختے رہے۔ پھر اچانک خاموش ہو گئے۔ شاید انھوں نے چوروں کو ڈرکر بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مکمل سناٹا طاری تھا،لیکن بہت کم وقت کے لیے…۔
’’چیخنا چلانا ہوگیا؟‘‘باہر سے آواز آئی، ’’ یا ہم بھی تمھاری تھوڑی مدد کر دیں ؟‘‘
اورپھر چور خود ہی چیخنے لگے’’ اے لوگو…چور … چور…پولیس!… پڑوسیو !…ہم لٹ جائیں گے … ہم بر باد ہو جائیں گے… ہمیں بچاؤ…پولیس…۔ ‘‘
سرغنہ کے علاوہ کم از کم پانچ دوسری آوازیںبھی اس خوفناک کورَس میں شامل تھیں۔
جوناتھن اور اس کے خاندان کا خوف سے برا حال تھا۔ ماریا اور اس کے بچے بری طرح بے آوازرو رہے تھے۔ جوناتھن لگاتار کراہے جا رہا تھا۔ اس کے پیر اس کے اپنے بوجھ تلے بری طرح کپکپا رہے تھے۔
چوروں کے چیخنے کے بعد کا سناٹا بڑا ڈرائونا لگ رہا تھا۔ جوناتھن ان کے سرغنہ سے منتیں کرنے لگا کہ وہ اسے بخش دے، اس کے پاس انھیں دینے کے لیے کچھ نہیں۔
’’سنومیرے دوست۔ ‘‘ آخر چوروں کے سر غنہ نے کہا، ’’ہم برے نہیں ہیں۔ ہم کسی کو بے کار ستانا نہیں چاہتے۔ مشکلات کا دور ختم ہو گیا ہے۔ لڑائی ختم ہو گئی ہے۔ اب خانہ جنگی پھر نہیں ہوگی۔ اب امن کا دور ہے۔ ہے یا نہیں؟‘‘
’’ہاں ہے۔ ‘‘ اس کے ساتھیوں نے ایک ساتھ اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
’’تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟میں ایک بے حد غریب آدمی ہوں۔ میرے پاس جو کچھ بھی تھا وہ جنگ کی نذر ہو گیا۔ تم میرے پاس کیا لینے آئے ہو؟ تمھیں تو ایسے لوگوں کا پتا ہوگا جن کے پاس ابھی بھی دولت ہے۔ ہم لوگ تو…۔ ‘‘
’’ٹھیک ہے! ہم بھی یہ جانتے ہیں تمھارے پاس بہت زیادہ دولت نہیں،لیکن ہم کیا کریں ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ اس لیے تم یہ کھڑکی کھولو اور ہمیں صرف ایک سو ڈالر دے دو۔ ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ دوسری صورت میں ہم اندر آئیں گے اور تمھیں مزہ چکھائیں گے۔ ایسے…۔ ‘‘
ایک آٹومیٹک گن سے ہونے والے فائر کی زبردست آواز سے ماحول گونج اٹھا۔ ماریا اوربچے ایک بار پھر زور زور سے رونے لگے۔
’’اوہ مسّی… روؤ مت… اس کی ضرورت نہیں ہے…ہم نے کہا نا کہ ہم شریف چور ہیں… ہم صرف ایک چھوٹی سی رقم لیں گے اور خاموشی سے یہاں سے چلے جائیں گے…کوئی بے حرمتی نہیں کی جائے گی… ہمارا وعدہ ہے۔ ‘‘ سرغنہ کی آواز آئی۔
’’بالکل صحیح۔ ‘‘بقیہ چوروں کی آوازیں سنائی دیں۔
’’دوستو…‘‘جوناتھن نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ’’تم نے جو بھی کہا میں نے سنا…میں تمھارا شکریہ ادا کرتا ہوں…اگر میرے پاس ایک سو پونڈ ہوتے تو میں…۔ ‘‘
’’دیکھو میرے دوست! تم ہم سے کھیل کھیلنے کی کوشش مت کرو… اگر ہم غلطی سے تمھارے گھر کے اندر گھس آئے تو پھر اس کے بعد کا کھیل بہت برا ہوگا…۔ ‘‘
’’خدا کی قسم جس نے مجھے پیدا کیا۔ تم گھر کے اندر آؤ اور اگر تمھیں ایک سو پونڈ مل جائیں تو میں تم سے کہتا ہوں کہ تم مجھے اور میری بیوی بچوں کو گولی مار دینا۔ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں۔ آج میرے پاس اگر کوئی رقم ہے تو وہ ہے صرف بیس پونڈ جو آج ہی ایگ ریشرکے طور پر مجھے ملے ہیں…‘‘ جوناتھن گڑگڑایا۔
’’ٹھیک ہے… چلو…کھڑکی کھولو اور وہ بیس پونڈ میرے حوالے کرو… ہم اسی میں کام چلا لیں گے۔ ‘‘
اچانک باہر سے بہت ساری بھنبھناتی ہوئی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
’’ارے جھوٹ بولتا ہے۔ ‘‘
’’یہ آدمی جھوٹ بولتا ہے۔ ‘‘
’’ہمیں اندر جاکر اچھی طرح تلاشی لینی چاہیے۔ ‘‘
’’اس کے پاس زیادہ رقم ہے۔ ‘‘
’’خاموش رہو۔ ‘‘سرغنہ کی غراتی ہوئی آواز فائر کے دھماکے کی طرح فضا میں گونج اٹھی اور ساری بھنبھناتی آوازیں یک لخت خاموش ہو گئیں۔
’’کیا تم موجود ہو ؟…۔جلد رقم میرے حوالے کرو۔ ‘‘
’’میں آرہا ہوں۔ ‘‘ جونا تھن جلدی سے بولا۔ اندھیرے میں وہ لکڑی کے ننھے سے صندوق کا تالا کھولنے کی کوشش کر رہا تھا،جسے اس نے اپنے پاس ہی چٹائی پر رکھا ہواتھا۔
صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی اس کے پڑوسی اور کئی دوسرے لوگ اظہار افسوس کے لیے جمع ہوئے۔ جوناتھن اپنا پانچ گیلن کا ڈرم سائیکل کے کیریرسے باندھ رہا تھا اور اس کی بیوی آگ پر چڑھی مٹی کی ہانڈی میں کھولتے ہوئے تیل میں اکارا بالوں کو الٹ پلٹ رہی تھی اور پسینے میں شرا بور بھی۔ ایک طرف اس کا بڑا بیٹا بیئر کی پرانی بوتلوں سے کل کی بچی تاڑی کو دھو رہا تھا۔
’’میرے خیال سے یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ ‘‘ اس نے ہمدردی جتانے والوں سے کہا، اس کی نگاہیں اس رسی پر جمی تھیں جسے وہ باندھ رہا تھا ’’… ایگ ریشرکیا چیز ہے؟ … کیا میںگزشتہ ہفتے تک اس پر منحصر تھا؟… کیاوہ ان چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے جو میں اس جنگ میں کھو چکا ہوں؟… میں کہتا ہوں ، اس ایگ ریشر کو چولہے میں جھونکو… اسے بھی وہیں جانے دو جہاں ہمارا سب کچھ گیا ہے… خدا کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ ‘‘

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *