بےحیا۔ نوشین فاطمہ

یسری سن بلوغت کو پہنچ رہی تھی ۔ کچھ دنوں سے اس کی چھاتی میں دو سخت سی گلٹیاں بن گئی تھیں جو اسے بہت تکلیف دیتی تھیں ۔ اس نے الجھے الجھے لہجے میں اپنی ماں کو بتایا ۔
“اماں ! پتا نہیں کیوں مجھے یہاں بہت درد ہوتا ہے”
“لو” اس کی ماں نے عجیب نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
“ابھی بڑی کی شادی پر لیے گئے قرضے نہیں اترے کہ تمھاری مٹی بے قرار ہونے لگی”
یسری کی ماں کا رویہ عجیب تھا ۔ اس نے سختی سے اسے دوپٹہ لینے کی تلقین کی ۔

—————-

کھانے کی ٹیبل پر یسری ، اس کا چھوٹا بھائی عرفان اور اس کے ماں باپ بیٹھے تھے ۔ یسری کچھ بےچینی محسوس کرنے لگی لیکن اس نے پہلو بدل کر کھانے پر توجہ مرکوز رکھی ۔
یسری کی ماں عافیہ نے سب پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالی اور اپنی پلیٹ پر جھک گئی ۔ لیکن اگلے ہی لمحے جھٹکے سے سر اٹھایا اور اپنے شوہر کو گھورنے لگی ۔ اس کی نگاہیں بیٹی کے سراپے کا طواف کر رہی تھیں ۔ وہ غیر ارادی طور پر یسری کے سینے پہ نمودار ہونے والی نئی نئی گلٹیوں پر نظریں ٹکائے بیٹھا تھا ۔
اس کی نظروں سے تجسس اور بےخودی ظاہر تھی ۔ اس کی آنکھیں ہر لمحہ رنگ بدل رہی تھیں ۔ یسری کی ماں نے کچھ دیر یہ سب دیکھتی رہی مگر پھر اس سے نہ رہا گیا
” یسری !” عافیہ نے اسے ڈانٹنے کے انداز میں بلایا تو وہ گڑبڑا گئی ۔
“جی اماں”
“دوپٹہ کہاں ہے تیرا؟”
“اماں گرمی تھی ۔ پھر سوچا گھر میں ہی تو ہوں”
“گھر میں ہو تو باپ بھائی کا کوئی لحاظ ہے کہ نہیں؟”
یسری خاموشی سے دوپٹہ لانے چلی گئی ۔
“ہونہہ ، لڑکیوں کو تمیز سکھانا ماں کا کام ہوتا ہے ۔ بےحیا!” یسری کے باپ نے ہنکارا بھرا اور کھانے کی میز سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
عافیہ خود کو مجرم محسوس کرنے لگی ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *