کتھا چار جنموں کی ۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط41

حلقہ ارباب ِ ذوق: ایک مختصر تاریخ!

ابتدائی نوٹ: اس مختصر مضمون کی تالیف میں درجنوں رسالے، یاداشتیں اور رسالوں میں مطبوعہ مضامین بطور ماخذمیرے رہنما رہے ہیں۔ کچھ بھی میرا اپنا نہیں ہے اس لیے کسی بات کی درستی کی کوئی گارنٹی میرے پاس نہیں ہے، نہ ہی میں ان امور میں سے کسی ایک کی صحت کے لیے کوئی ثبو ت دے سکتا ہوں۔ جو کچھ ہے، خلط ملط، وہ سب اُدھار لیا گیا ہے، جس کے لیے میں خود ذمہ داری قبول نہیں کر سکتا، لیکن شاید اس وقت میں اکیلا ہی وہ پیر ِ جواں سال ہوں جو یہ لیکھا جوکھا کر سکتا تھا، اس لیے کہیں قارئین کو کوئی بات غلط نظر آئے تو مجھے گردن مارنے کی سزا نہ دی جائے۔ (ستیہ پال آنند)

گذشتہ صدی کی تیس کی دہائی میں جنگ آزادی کی رفتار میں تیزی آئی۔ زندگی میں گویا ایک نیا آہنگ پیدا ہوا۔ شعر و ادب نے بھی کروٹ لی.توکل اور قناعت کے بجائے کشمکش اور بیزاری کا نیا شعور پیدا ہوا۔ نئے شاعر غزل کے قدیم پر سکون موضوعات، مضامین اور آہنگ سے مطمئن نہ رہ سکے۔قافیہ اور ردیف کی جکڑبندیوں سے نکل کر یورپی زبانوں کی طرح ہی انہوں نے نظم آزاد اور نظم معرّا کو خیالات کا ذریعہ بنایا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کا انعقاد ہوا۔ اشتراکی خیالات کے زیر اثر انہوں نے زندگی کے مسائل کو سیاست اور معاشیات کے سرمایہ پرست نظریے کی ملی بھگت یا سازش کے طور پر دیکھا۔ یہ نقطہ نگاہ حکومت کی نگاہ میں تخریبی ٹھہرا اور متعدد مصنفین کی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ دفاتر پر چھاپے مارے گئے۔ حکومت نے انجمن کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
۱۹۳۹ء میں لاہور میں حفیظ ہوشیارپوری، شیر محمد اختر، تابش صدیقی اور محمد افضل نے نصیر احمد شاہ کے مکان پر ”انجمن ِ داستان گویاں“ کی بنیاد رکھی۔اس میں صرف افسانے پڑھے جاتے اور ان پر اظہار خیال کیا جاتا۔ اجلاس ہر ہفتہ مختلف اراکین کے گھروں پرمنعقد ہوتے تھے۔ اکتوبر ۱۹۳۹ء میں حفیظ ہوشیار پوری کی تجویز پر شاعری کو بھی اس کے پروگراموں میں شامل کیا گیا۔ تب قیوم نظر، یوسف ظفر اور میرا جی بھی اس کے اجلاس میں شریک ہونے لگے۔ حفیظ ہوشیارپوری کی تجویز پر اس کا نام حلقہ  ارباب ذوق رکھا گیا۔

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط40

اس کا پہلا اجلاس شیر محمد اختر کے مکان (ایبٹ روڈ لاہور) میں منعقد ہوا۔ اس کا محور صرف ”ادب“ تھا، بیشتر احباب، بقول شہرت بخاری، ”ادب برائے ادب“ کے قائل تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی تحلیقات میں ”ادب برائے زندگی“ کی جھلکیاں نظر آتی تھیں۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حلقہ ارباب ذوق، انجمن ترقی پسند مصنفین کے رد عمل میں قائم نہیں ہوا تھا۔ لیکن ۱۹۴۶ ء میں جب ”ادب کیا ہے اور کیا ہونا چاہیئے“ کی وضاحت کی گئی اور ادب اور زندگی، فرد اور جماعت، سیاست اور معاشرت کے جملہ تقاضوں کا ادب پر اطلاق کر کے دیکھا گیا، تو کچھ لوگوں نے حلقہ سے علیحٰدگی اختیار کر لی۔ ان میں فیض احمد فیض، وقار عظیم اور عبادت بریلوی تھے۔اس کے بعد حلقہ کے روح رواں صرف میرا جی رہ گئے۔ میرا جی اپنی قسم ک واحد شاعر تھے جو نظم آزاد، نظم معرّا، گیت اور (سب سے الگ اور ممتاز)عملی تنقید کے خالق تھے۔ شہرت بخاری لکھتے ہیں، کہ ایک مدت تک حلقہ کے ارباب بست و کشاد نے اس کو صنف غزل سے دور رکھا لیکن دیگر سرگرم رکن، میرا جی، ن م راشد، قیوم نظر، ضیا جالندھری، یوسف ظفر غزل کی توانائی، اس کی ایمائت اور رمز سے بچ نہ سکے، ہاں روایتی غزل سے پرہیز ایک بنیادی شرط تھی۔

میرا جی کی شاعری ابہام کی شاعری ہے جس میں خالص ذا ت کا اظہار ملتا ہے۔ ان کو کسی فرضی یا حقیقی بنگالی خاتون “میراسین” کی محرومی نے خلوت میں نقش و نگار بنانے اور خواب دیکھنے اور دن میں کئی بار جلق سے لطف اندوز ہونے تک ہی محدود رکھا۔ وہ ان محرومیوں کا اظہار جلوت میں نہ کر سکے۔ یہ نفسیاتی کیفیت صرف ان کی نظموں کی حد تک ہے، ورنہ گیت اور تنقید نگاری میں ان کے خیالات بہت واضح ہیں۔ یہ اثرات تابش صدیقی، ن م راشد، قیوم نظر، یوسف ظفر، شہرت بخاری، مختار صدیقی، ضیا جالندھری، امجد الطاف، ریاض احمد اور الطاف گوہر کی تحریروں میں نظر آتے ہیں۔

حلقہ کے لیے ایک غور طلب مسئلہ یہ تھا کہ ۱۹۳۹ء میں لاہور میں بنیاد رکھنے کے بعد دوسری شاخ ضیا جالندھری کے ایما پر دہلی میں قائم ہوئی جب کہ میرا جی پہلے سے ہی موجود تھے۔ اراکین میں میرا جی، ضیا، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سکینہ اور وقار عظیم تھے۔ اجلاس ہر ہفتہ اینگلو عربک کالج،دہلی میں ہوا کرتے تھے۔ ۱۹۴۶ء میں یہ سب ارکان حلقہ سے الگ ہو گئے۔ قیام پاکستان تک ہندوستان کے کسی شہر میں اس کی شاخیں قائم نہیں ہوئیں کیونکہ ہر جگہ انجمن ترقی پسند مصنفین کا بول بالا تھا۔ البتہ پاکستان میں ۱۹۴۷ کے بعد کراچی، لاہور، ڈھاکہ، پنڈی میں شاخیں قائم ہوئیں۔حلقہ کی رکن سازی کا طریقہ یہ تھا کہ جس نے حلقہ میں کھلی تنقید کے لیے اپنی نگارش پیش کرنی ہو، وہ ممبر بن سکتا تھا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ حلقہ کی کوئی باقاعدہ ممبرشپ فیس نہیں تھی۔ چائے پانی کے معمولی اخراجات کے لیے ”جدید نظمیں“ اور ”کچھ تو کہیے“ کے قیمتاً حاصل ہونے والے منی میگزین شایع کیے جاتے۔

۱۹۵۵ء میں مولوی ظہیر الدین، مالک اردو بک اسٹال لاہور کی معاونت سے حلقہ نے ایک رسالہ ”نئی تحریریں‘ جاری کیا۔ اس کے کل پانچ پرچے نکلے۔ مجلس ادارت میں قیوم نظر، امجد الطاف اور شہزاد احمد تھے۔مالی دقتوں کی وجہ سے یہ پرچہ ۱۹۵۷ء میں بند ہو گیا۔ میری بدقسمتی ,میرا ایک افسانہ جو اس سے اگلے پرچے میں شامل اشاعت ہونا تھا، پڑا رہ گیا، یہ بعد میں ”تحریک“ نئی دہلی میں چھپا، جسے گوپال متل ایڈٹ کرتے تھے۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد کراچی میں شاخ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے پلے سیکریٹری عزیز احمد تھے۔ وائی ایم سی اے میں اس کے جلسے ہوتے تھے، جن میں الطاف گوہر، ماجد حسین، تجمل حسین، شان الحق حقی، اور تابش صدیقی پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ کئی برسوں کے بعد اس کے جلسے اقبال لائبریری میں ہونے لگے۔ برسوں تک اس کے سیکرٹری ابو الفضل صدیقی رہے۔ لاہور میں اب حلقہ دو گروپوں میں بٹ چکا ہے لیکن گذشتہ ماہ کی خبروں سے اس بات کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی کہ دونوں گروپ جو اپنی وفاداری لاہور کی ہی دو شخصیتوں سے (احمد ندیم قاسمی اور وزیرآغا سے منسوب کرتے ہیں) اب اس بات پر راضی ہو گئے ہیں اور کے ہر برس کے بعد سیکرٹری کی تقرری باری باری سے بانٹ لی جائے۔ موجودہ سیکرٹری (شاید) سہ ماہی ”کاغذی پیرہن“ کے ایڈیٹر شاہدشیدائی ہیں۔ ”اوراق“ کی اشاعت موقوف ہونے کے بعد میں باقاعدگی سے اس جریدے میں لکھتا رہا ہوں۔ (بلکہ میرے لیے ایک خاص نمبر بھی شایع کیا جا چکا ہے، جس میں مجھے موجودہ صدی کے اردو کے دس بڑے شاعروں کی فہرست میں رکھا گیا ہے)

پنڈی شاخ بھی قائم ہے، چہ آنکہ وہاں بھی گروپ ازم اس پر حاوی ہے۔کچھ برس پہلے جب میں اکادمی ادبیات پاکستان کی دعوت پر ایک لیکچر کے لیے اسلام آباد گیا تھا، تو میرا قیام اکادمی کے گیسٹ ہاؤس میں تھا، تب میرے لیے یہ اجلاس اکادمی کے ہال میں، یعنی پطرس بخاری روڈ پر، منعقد کیا گیا تھا۔ اب پتہ چلا ہے کہ چونکہ حاضر ی پندرہ بیس سے زیاد ہ نہیں ہوتی، یہ اجلاس اکادمی کے گیسٹ ہاؤس کے ایک میٹنگ روم میں منعقد کیا جاتا ہے۔حالیہ خبروں میں نصیر احمد ناصر اور ان کے قریبی دوستوں نے حلقہ کا باٗیکاٹ کرنا شروع کیا ہے، جب کہ علی محمد فرشی، جلیل عالی، روزنامہ جنگ کے ادبی ایڈیٹر کے علاوہ پروین طاہر وغیرہ اس کے سرگرم رکن ہیں۔ میر پور (کشمیر) سے بھی کچھ دوست ان اجلاس میں شرکت کیے لیے پہنچتے ہیں۔

میں نے اسلام آباد اور لاہور کی شاخوں کے ایک ایک اجلاس میں شرکت کی ہے۔مجھے ایسے لگا کہ کہ تنقید کے لیے کوئی مخصوص ماڈل نہیں ہے، جیسے کہ انجمن ترقی پسند مصنفین میں تھا، بلکہ محتلف نکتہ ہائے نظر رکھنے والے اپنے اپنے خیال کا مکمل آزادی سے اظہار کرتے ہیں۔ بعض اوقات تنقید کی علمی و فکری سطح بہت بلند نظر آتی ہے، تو کبھی فکر و خیال میں پستی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔حتی کہ بعض اوقات سخت تنقید تلخ کلامی تک جا پہنچتی ہے اور کبھی تو دست و گریبان ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن خد ا لگتی کہوں تو دلوں پر اس اختلاف کی کوئی پرچھائیں نہیں پڑتی۔ ذہن و فکر کی سطح اور ظرف کا پیمانہ ہمیشہ بلند و ارجمند ہی رہتا ہے۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *