ادھوری کہانی۔۔۔۔محمد خان قلندر

لڑکی حسین، ذہین، اور بذلہ سنج ہو تو سہ آتشہ ہوتی ہے۔۔۔صوفیہ نور العین،ایسی ہی تھی اسے صوفی بُلایا جاتا تھا۔
ہمارے ایک سینئر  دوست کی بیٹی زیب کی دوست تھی، اس سے ایم ایس میں ایک سمسٹر پیچھے تھی، دونوں یونیورسٹی ہاسٹل میں رہتی تھیں ۔زیب بینکنگ اسپیشل کے ساتھ امتحان دے چکی تو اس کے والد صاحب کا حکم ملا کہ اس کے مزید چھ ماہ ہاسٹل میں رہنے کا انتظام تو انہوں نے کر دیا ہے۔اب ہم نے اسے رزلٹ کے بغیر ہی کسی بینک میں انٹرنشپ کرا کے دینی ہے،جو ہم نے اپنے آفس کے بل بوتے پہ کرا دی،آفیشل اکاؤنٹ اسی برانچ میں تھا تو بنک اکثر جانا بھی ہوتا تھا۔۔۔
ایک روز وہاں صوفی سے پہلی ملاقات ہوئی  زیب نے تعارف کرایا۔۔۔
وہ یک دم بولی “آپ سے مل کے بہت مایوسی ہوئی”۔۔
ہماری حیرانی کا لطف لیتے ہوئے  مزید اضافہ کیا۔۔۔”آپ کا میرے ذہن میں خاکہ تو گبر سنگھ جیسا تھا مگر آپ تو گھگو لگتے ہیں”۔
ہم نے اپنی ہُنکار کو قہقہے میں چھپایا،
قریبی ریسٹورینٹ میں ہم تینوں نے لنچ کیا، زیب واپس بنک چلی گئی  اور ہم دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے ،اور میں نے تکلفاً  کہا کہ میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔۔
اس نے جملہ اچک لیا اور بولی۔۔
“آپ نے مجھے پکڑا کب ہے جو چھوڑیں گے،چلیں ڈرائیو پہ چلتے ہیں”۔
تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو میں اندازہ ہو گیا کہ وہ ہمارے بارے میں کافی باخبر ہے،
شکر پڑیاں سے جب کشمیر روڈ پر  آئے  تو اس نے ہلکے سے انداز میں، قریب واقع موٹل میں   جو ہم نے کمرہ ماہانہ کرایہ پہ  لیا ہوا تھا اس کا پوچھاتو ہم نے گاڑی موٹل کی طرف موڑ لی،رات کو ہم اسے ہاسٹل چھوڑ کے اپنے گھر چلے گئے ۔
معمول یہ بن گیا کہ وہ کلاسیں اٹینڈ کر کے یونیورسٹی کی بس پہ آتی  ،زیب کے بنک، ہم تینوں لنچ کرتے، زیب کو بنک میں ضروری کام ہوتا اور، ہم دونوں اکھٹے ہوتے،رات تک۔۔
اس کے برجستہ چٹکلے، محبت ،اور دن کیسے گزر گئے  پتہ ہی نہ چلا، اس  کے امتحان آ گئے ۔۔۔اور ساتھ ہی اس کی خالہ لندن سے،اپنے بیٹے کے لئے   اس کا رشتہ کرنے،
جس کی اطلاع اس نے مجھے اس طرح دی۔۔
“میری خالہ پاگل ہے، مجھے لندن کے خواب دکھا رہی ہے،
میں نے امی کو بتا  دیا ہے کہ وہ یہاں کسی ریڑھی  والے سے میری شادی آپ کے توسط سے کر دے،آپکو ملنے میں مسئلہ نہ ہو تو میں نبھا لوں گی، لندن میری جوتی بھی نہیں جائے  گی”
کہتے ہیں انسان جدائی  کے خوف میں جدائی  کے اسباب خود پیدا کرتا ہے۔
صوفی نے انشورنس کو اسپیشل چنُا، اس کا تھیسس ہم نے مکمل کروایا،زیب نے امتحان امتیازی پوزیشن میں پاس کیا اسی بنک میں  اس کی سلیکشن ہم نے کروا دی اور کراچی میں اس کی ٹریننگ کے بعد
اس کی اسکے آبائی  شہر میں پوسٹنگ بھی طے ہو گئی۔
یونیورسٹی میں صوفی کا آخری دن تھا۔۔۔جس دن اس  کا وائیوا تھا۔زیب کا بینک کی اس ٹریننگ کا بھی وہی آخری دن تھا۔
اس کے دو دن بعد صوفی کی خالہ نے لندن واپس جانا تھا،ہمارے ذہن پہ بوجھ ناقابل برداشت تھا،یونیورسٹی سے آنے والی آخری بس بھی آ کے جا چکی تھی،زیب اور میں بس اسٹاپ کے سامنے مارکیٹ کی سیڑھیوں پہ  چُپ بیٹھے تھے۔۔کہ ایک کار آکے رکی صوفی اسُ کی فرنٹ سیٹ سے اتری ۔۔ہم دونوں اس کی طرف بڑھے ،ڈرائیونگ سیٹ سے ایک شخص اترا،صوفی نے اس کا تعارف کرایا کہ یہ میرے پروفیسر ہیں،اور اپنے مخصوص انداز میں اس سے کہا۔۔۔
سر آپ نے مجھے اتنی دیر روکے رکھا،اب مجھے اے پلس کے ساتھ پاس کیجیے گا۔
اب یہ تو میرا حق بنتا ہے۔
اور ان سے ملیں یہ ہیں میرے وہ انکل دوست،پروفیسر صاحب نے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے  کہا،”اچھا تو آپ ہیں وہ جنہوں نے ہماری یونیورسٹی کا سب سے خوبصورت پھول چن لیا ہے”۔
ہمارے دل کی دیوار جو جدائی  کے خوف سے ہل چکی تھی۔۔۔شک اور وہم کی اس ہوا سے اور بھی کمزور ہو گئی۔۔۔۔زیب کو حسب معمول کوئی  کام یاد آگیا،اور وہاں ہم اور صوفی رہ گئے ،اس نے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے  کہا،جلدی چلیں،مجھے لگتا ہے میں بالکل نچُڑ چکی ہوں،میری بری حالت ہے ،لیکن ہم اس کی بات سمجھنے سے قاصر تھے۔۔
نہ موٹل اور نہ ہوٹل گاڑی سیدھی ہاسٹل کی پارکنگ میں جا کے روکی۔اس دوران وہ کچھ بھی نہ بولی، بس ٹشو پیپر سے آنسو خشک کرتی رہی،گاڑی بند کر کے ہم نے کہا،بہتر ہے کہ تم خالہ کی بات مان لو۔۔۔۔
پہلی دفعہ یہ ہوا کہ وہ چُپ رہی، اپنا پرس گاڑی میں چھوڑ کے وہ ہاسٹل کے اندر چلی گئی،جب لوٹ کے آئی  تو اس کے ہاتھ میں وہ سارے گفٹ تھے جو ہم نے اسے دیے  تھے۔
اور پھر اس نے کانوں سے بندے اتارے،گلے سے لاکٹ اور انگلی سے انگوٹھی اتار کے میری گود میں ڈالتے ہوئے  کہا،میں تو آپ کو گبر سنگھ سمجھی تھی لیکن آپ واقعی گھگو ہیں۔
پروفیسر صاحب میرے سگے ماموں ہیں۔
آپ مجھ سے اتنے بڑے ہیں۔۔۔لیکن آپ میچور نہیں  ہوئے، ہم نے جدا تو ہونا تھا !
یہ کام انڈر سٹینڈنگ سے بھی تو ہو سکتا ہے ؟
آپکے گفٹس میں گھر نہیں  لے جا سکتی تھی، واپس کرنے تھے آپکی بد اعتمادی نے میرے دل کا محل گرا دیا۔
لیکن یہ سبق اچھا سیکھ لیا کہ مرد دوستی میں بہت تنگ نظر ہو جاتا ہے۔
آپ خوش رہنا سیکھیں، بھروسہ بہترین دوست ہوتا ہے، میں اب کوئی  دوستی نہیں  بس شادی کروں گی۔
ہم کب اور کس راستے سے واپس گھر پہنچے یہ اب بھی سوچنے سے بھی یاد نہیں  آتا ۔۔۔۔!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *