• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بچوں کا قتل عام اور سیرت ِبانی ِاسلام۔۔۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

بچوں کا قتل عام اور سیرت ِبانی ِاسلام۔۔۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

آج ہر چیز برائے فروخت ہے۔ مذہب، قوم ، رشتے غرض ہر چیز کی سیل لگی ہے۔ میں حیران ہوتا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے نبی مکرمﷺ کی رحلت کے فقط پچاس سال بعد ایسے مفتیانِ دین پیدا ہو جائیں، جو نواسہ پیغمبر حضرت امام حسین ؑ کے قتل کے حکم کو شریعت اسلامی کا فریضہ قرار دیں۔ جب اسلام کے نام پر معصوم انسانوں کے قتل عام کو دیکھا یقین آگیا ہے کہ جب قتل جیسا جرم تکبیر کے ساتھ ہوسکتا ہے تو نواسہ پیغمبرﷺکے قتل کا فتویٰ بھی جاری ہوسکتا ہے۔ یمن میں پچاس ماؤں کی گودیں اجاڑ دی گئیں، پچاس بہنوں کے بھائی چھین لئے گئے، کیسے پچاس باپ ہاتھوں میں ننھے پھول لئے داخل خانہ ہوئے ہوں گے؟ لاشیں بھی کیا ہوں گی؟ گٹھڈیاں ہوں گی کیونکہ بمباری کے نتیجے میں لوہے کی بس کی حالت خراب ہے تو اس میں موجود پھول سے بچوں کا کیا  ہوا ہوگا؟

یہ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ کس طرح صبح صبح بڑی امیدیں لے کر یہ بچے عازم سکول ہوئے ہوں گے؟ جانے کن کن خیالات کو ذہنوں میں سموئے ہوں گے؟ بچے تو بچے ہوتے ہیں نا، وہ تو جہازوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، ہاتھ لہراتے ہیں، یقیناً خادم حرمین شریفین کی عظمتوں کی سربلندی کے لئے اڑتے ان جہازوں  کو دیکھ بھی ہاتھ لہرا ہوگا اور پھر اسلام کی سربلندی اور دشمنان اسلام کی نابودی کے لئے قائم چالیس رکنی اتحاد کے کلمہ گو مسلمانوں نے ان ننھے منے اسلام دشمنوں پر بمباری کرکے انہیں ابدی نیند سلا دیا، تاکہ آل سعود کی حکومت سربلند رہے، امریکہ اور اسرائیل سکون میں رہیں، کیونکہ جو کام  انہوں نے کرنا تھا، وہ کام یہ اسلام کے نام پر کر رہے ہیں۔ یقیناً اس قتل عام نے آل سعود کی سلطنت کی بنیادوں پر گہرا اثر چھوڑا ہوگا۔

میں آج بھی اے پی ایس کے بچوں کی تصاویر نہیں دیکھ سکتا، آج بھی کوئی ایسا ترانہ نہیں سن سکتا، جس میں ان کا ذکر آجائے اور سوچتا ہوں کہ وہ مائیں اور بہنیں تو زندہ درگور ہوگئیں ہوں گی، جن کے یہ پھول تھے۔ کاش پروردگار بچوں کے دکھ کو انسانوں میں برابر بانٹ دیتا اور  شیعہ بچہ، سنی بچہ، مسیحی بچہ، یہودی بچہ، کشمیری یا فلسطینی بچہ دیکھنے کی بجائے اسے انسان کا بچہ سمجھتے۔ بار بار نبی آخر الزمان کا وہ واقعہ یاد آجاتا ہے، جنگ میں چند بچے تلوار کی زد میں آکر قتل ہوگئے، جب آقائے نامدار کو پتہ چلا تو آپ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا بار بار فرمانے لگے پرودگار میں ان کے اس فعل سے بری ہوں، یعنی میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، کسی نے کہا یارسول اللہ وہ تو کفار کے بچے ہیں، اس پر آپؐ نے فرمایا تو کیا ہوا، تھے تو بچے نا۔ ایسے نبی کو ماننے والے کی امت اور اسی کے مذہب کے نام پر بچوں کا قتل عام کرے، اس سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہوسکتا۔ ظالمو تم قتل کرنے کی بات کرتے ہو حکم ہوا:
اختصر الصلوۃ اذا بکی صبیان فی الصلوۃ
اگر بچے رو رہے ہوں تو اپنی نماز کو مختصر کر دو۔

نبی مکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، کیا دیکھتے ہیں کہ آپؐ کا نواسہ آرہا ہے اور انتہائی کم سنی کا عالم ہے، چلتے ہیں تو پاؤں لڑکھڑا جاتے ہیں۔ آپؐ  نے خطبہ چھوڑ دیا اور آکر نواسے کو اٹھا لیا اور  واپس خطبہ دینے لگے تو فرمایا سچ کہا پروردگار نے: إنما أموالكم وأولادكم فتنةٌ“بے شک تمہارے  مال اور اولاد آزمائش ہے۔” نبی مکرمﷺ کو بچوں سے بہت زیادہ پیار و محبت کرتے دیکھ کر اقرع بن حابس نے کہا: قال لی عشرۃ ابنا ماقبلت قط قال من لا یرحم لا یرحم (بخاری5537) “میرے دس بیٹے ہیں اور میں نے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپؐ نے فرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔” جب آپؐ کے بیٹے حضرت ابراخیمؑ کا انتقال ہوا تو آپؐ فرما رہے تھے: تدمع العین و یحزن القلب ولانقول الا ما یرضی ربنا و انا بفراقک یا ابراھیم لمحزونون (بخاری شریف 1220) “آنکھوں میں آنسو اور دل حزین ہے مگر ہم صرف وہی کہیں گے، جس سے ہمارا رب راضی ہو، اے ابراہیمؑ میں آپؐ کی جدائی کی وجہ سے غم زدہ ہوں۔”

اللہ کے نبیﷺ کو بیٹیوں سے بہت پیار تھا، آپؐ نے بیٹیوں کے بہت زیادہ فضائل بیان فرمائے کہ یہ اللہ کی رحمت ہے، جس کی دو یا تین بیٹیاں ہوں، وہ ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرکے ان کی شادی کر دے تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔ آپؐ کی محفل میں موجود ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا یارسول اللہﷺ، اللہ نے مجھے زمانہ جاہلیت میں ایک بیٹی عطا کی تھی، اس کی ماں کو معلوم تھا کہ میں اس کی پیدائش پر خوش نہیں ہوں اور اسے قتل کرنا چاہتا ہوں، اس لئے وہ کسی وقت بھی بیٹی  کو خود سے جدا نہ کرتی تھی۔ اسی طرح وہ تھوڑی سی بڑی ہوگئی اور مجھے پہچانے لگی، ایک دن میں موقع پا کر اسے صحرا کی طرف لے گیا اور اسے زندہ دفن کرنے کے لئے گڑھا کھودنے لگا۔ وہ بچی میرے ساتھ کھیلنے لگی، جب میں گڑھا کھود چکا تو اسے اس میں ڈال کر ریت ڈالنے لگا، وہ مسکراتی اور مجھ پر ریت پھینکتی تھی، میں ریت پھینکتا گیا اور وہ اسی دب گئی۔

اللہ کے نبی ﷺ یہ سن رہے تھے تو ان کی آنکھیں ساون کے بادلوں کی طرح برس رہی تھیں۔ چہرہ مبارک مضطرب قلب کا پتہ دیتا تھا، بچیوں کے لئے شدت کرب میں مبتلا اپنی حبیبؐ کو دیکھ کر پرودگار عالم نے وحی نازل فرمائی تھی کہ میرے نبی پریشان مت ہوں، روز محشر ایسے مظالم کے لئے یوم حساب ہی ہے: وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ  بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ“اور جب زندہ درگور لڑکیوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ انہیں کس گناہ میں مارا گیا ہے۔” اے یمن میں بارود کی نظر ہو جانے والے ننھے پھولو، تمہارے خون کا حساب دنیا میں بھی ہوگا اور آخرت میں اللہ کے سامنے تمہیں بلایا جائے گا اور تمہاری پکار عدل الٰہی کی زنجیریں ہلا رہی ہوگی۔ اس وقت تمہیں انصاف ملے گا، کیونکہ وہاں مفادات کا ٹکراؤ  نہیں ہوگا، وہاں قومی مفاد نہیں ہوگا، وہاں طاقتور مظلوم ہوگا، وہاں فیصلہ کرنے والا وہی ہوگا جو گواہ بھی ہے۔ وہاں تمہیں پورا پورا انصاف دیا جائے گا۔

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *