100سال بعد کہاں اور کیسے؟۔۔حسن نثار

صدیاں کبھی واقعی صدیاں ہوتی تھیں لیکن اب ان کے ساتھ بھی ایسی بھیانک ’’ٹمپرنگ‘‘ ہو چکی ہے جو پژمردہ، افسردہ، کملائی اور مرجھائی ہوئی قوموں کو دکھائی ہی نہیں دے رہی۔

وقت کو وقت نے REDEFINEکر کے اس کا حلیہ اور کیریکٹر دونوں بدل دیئے ہیں لیکن بددعائے، بانجھ اور پتھرائے ہوئے معاشروں کو اس کا احساس اور ادراک تک نہیں۔ آج کچھ قومیں ایک سال میں ایک صدی کا سفر طے کر رہی ہیں، کچھ بدنصیب سو سال میں ایک ’’مہذب سال‘‘ جتنا سفر بھی طے نہیں کر رہے اور کچھ تو اتنے گئے گزرے ’’ریورس زدہ‘‘ معاشرے ہیں جو ہر سال چند سال اپنے ہاتھوں سے دے بیٹھتے ہیں۔

ان کے لیڈروں اور بڑوں کو بھی اس بات کا کوئی دکھ نہیں کہ صحیح معنوں میں زندہ معاشروں کے موضوعات اور ترجیحات کیا ہیں اور نیم مردہ سماج کن خرافات میں غرق غوطے کھا رہے ہیں۔

یہ وہ راندئہ درگاہ لوگ ہیں جنہیں ان بیشمار علوم کے عنوان تک معلوم نہیں جو زندہ اور صحیح معنوں میں جیتی جاگتی قومیں زور و ’’شعور‘‘ سے پریکٹس کر رہی ہیں۔پہاڑوں سے اونچا، سمندروں سے گہرا، شہد سے میٹھا اور فولاد سے مضبوط ’’برادر‘‘ ملک چین ہمارے بعد آزاد ہوا۔

ہمارے فولادی معدوں نے ریل کی پٹڑیاں بیچ کھائیں، انہوں نے شیشے کے پل بچھا دیئے اور چین سے بھی صدیوں، آگے نکلے اس کی آزادی سے چند سال پہلے دوسری جنگ عظیم کے نتیجہ میں خاک اور راکھ ہوئے جاپان کا حال معلوم ہے؟

وہ ننھا منا عملاً سپر پاورز کے کان کتر رہا ہے، ہر میدان میں لیڈ کر رہا ہے لیکن لاف زنی سے مکمل پرہیز اور انتہائی LOWپروفائل جبکہ ہر تھوتھا چنا، باجے گھنا اور اتنا گھنا کہ ایک دوسرے کے کان کچھ اس طرح بہرے کر دیئے کہ سوائے کام کی بات کے ہر لغو، بیہودہ، بے معنی، بے سروپا بات نہ صرف سنائی دیتی ہے بلکہ اس پر اش اش بھی کرتے ہیں، سر بھی دھنتے ہیں کیونکہ ان سروں کو دھننا بہت آسان ہے جن میں مغز ہی موجود نہیں ہوتے۔

گاڈزیلائوں اور گلیڈی ایٹرز کی اس دنیا میں مکھیوں، مچھروں، پروانوں اور سنڈیوں کا کیا مستقبل ہو گا؟ 100سال بعد کی دنیا (اگر اپنے ہاتھوں سے بچی رہی) کیسی ہو گی؟ یہاں زندہ رہنا کتنا مشکل ہو گا اور اس زندگی کی ’’ٹرمز اینڈ کنڈیشنز‘‘ کیسی ہوں گی؟؟؟

ہوا کے گھوڑوں پر سوار شہسواروں اور ہوائی قلعوں کے قلعہ داروں کو اس کا کچھ نہ کچھ فہم تو ہونا چاہئے لیکن آٹے، چینی، چاول، ٹماٹر، ٹی ٹیوں، اقاموں، پناہ گاہوں، لنگروں کے ماروں کو اگلے وقت کی وہ روٹی ہی نہیں جینے دے رہی جس کے آٹے سے بہت کچھ نکالا جا چکا ہوتا ہے۔ قوموں کے کئی چہرے ہوتے ہیں، اخلاقی چہرہ مسخ شدہ، اقتصادی چہرے کی ہر ہڈی فریکچرڈ، فکری چہرہ چیچک زدہ، علمی چہرہ لقوے کا مارا ہوا، روحانی چہرہ ’’عامل بابا‘‘، نفسیاتی چہرہ جھریوں کا جال____ ’’شیر لوہے کے جال میں ہے‘‘

لیکن کرکٹ میچ بھی ضرور دیکھنا ہے اور موقع ملتے ہی ڈور سے گردن اس طرح کاٹنی ہے کہ داد دیئے بغیر رہا نہ جائے۔بس چلے تو کیلنڈر سے آدھی چھٹیاں کاٹ دوں، ورکنگ آورز 8کی بجائے 10کر دوں لیکن سوچتا ہوں ’’ورک‘‘ کہاں سے امپورٹ کروں گا؟

قائد اعظم نے کہا تھا ’’کام، کام، کام‘‘ لیکن اس پر میرے اس پرانے منحوس شعر کا سایہ پڑ گیا ۔سب سے مشکل کام تو یہ ہے کیسے ڈھونڈیں کامگلیوں میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں بدناملیکن لوگ بیرون ملک سے یہاں نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے تو علامہ صاحب یاد آتے ہیں جنہوں نے فرمایا تھا’’پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ‘‘

اشارہ اگر اداکارہ بہار کی طرف سمجھا جائے کہ ہماری سمجھ ہی ٹیڑھی ہے تو وہ بیچاری تو بہت بوڑھی ہو چکی۔ باقی رہ گیا موسم بہار تو برادران ملت! اس بہار کا تعلق سرسبز درختوں کے ساتھ ہوتا ہے، سوکھ چکے درخت اور بہار میں صرف طلاق کا تعلق ہی باقی رہ جاتا ہے۔

کبھی درخت طلاق دے دیتا ہے کبھی بہار خلع لے لیتی ہے۔مستقبل یعنی FUTURE بارے بات بہت مشکل لیکن آثار ہرگز اچھے نہیں، اس لئے PAUL VALERYنے ہم جیسی زندہ قوموں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ”THE TROUBLE WITH OUR TIMES IS THAT THE FUTURE IS NOT WHAT IS USED TO BE.”

اور چرچل نے کہا تھا کہ اگر ہم ماضی اور حال کے جھگڑے رپھڑ میں ہی پڑے رہے تو یقینی طور پر مستقبل سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔دھو بیٹھے ____عربوں اور ایرانیوں کو علم ہی نہیں۔مستقبل ’’علم‘‘ ہے اور ایمان کی حرارت بھی دراصل ’’علم‘‘ کی حرارت ہی ہے۔ اسی لئے پہلا حکم….. ’’اقرأ‘‘۔

ہم نے بچیوں کے نام اقرا رکھنےپر اکتفا کر لیا تو میں یہ سوچ کر ہی کانپ اٹھتا ہوں کہ 100سال بعد ہم کہاں ہوں گے؟ اور کس حال میں ہوں گے؟

جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *