یقینِ قلبی۔۔۔مدثر نواز مرزا

ایک جنگلی گائے ہر صبح سر سبز گھاس کھانے نکل جاتی تھی۔ وہ دن بھر چرتی اور شام کو واپس آ جاتی تھی۔ اچھی خوراک تھی جس نے اسے خوب صحت مند اور موٹا تازہ بنا دیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک مشکل یہ لگی ہوئی تھی وہ رات کو اس فکر میں مبتلا ہو جاتی تھی کہ خدا جانے کل صبح اسے کھانے کو وہ سر سبز گھاس ملے گی یا نہیں وہ رات بھر اس کی فکر سے دبلی پتلی ہو جاتی اور صبح کو چراگاہ میں پہنچتے ہی گھاس پر ٹوٹ پڑتی۔ شام واپس آ کر وہی گزشتہ شام والی فکر اس سے آ کر چمٹ جاتی کل کی اسی فکر اور غم میں اس کی زندگی کا بڑا عرصہ گزر گیا تھا۔اسے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ بھوکی کبھی نہیں رہی۔ نہ اسے کوئی ترکیب سوجھتی کہ وہ اس فکر سےّ زاد کیسے ہو۔ یوں وہ جنگلی گائے کل کے رزق کی فکر میں رات بھر گھلتی رہتی تھی۔

اس گائے کی طرح انسان کوبھی یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ جب اس کے رازق نے اس کی روزی کا ذمہ لے رکھا ہے اور ہر روز اس کی روزی اسے پہنچ جاتی ہے تو پھر وہ کل کے رزق کے لیے پریشان اور فکر مند کیوں رہتا ہے اور اپنے رازق پر توکل کیوں نہیں کرتا۔ اس حکایت کے مطابق گائے انسان کا نفس ہے اور سر سبز جنگل یہ دنیا ہے۔ اللہ جو پوری کائنات کا رازق ہے اس نے اسے رزق تو دینا ہی ہے پھر یہ کم عقل اور حرص کا مارا انسان اس فکر میں پریشان کیوں پھرتا ہے کہ کل کیا ہو گا‘ کل کا رزق اسے کہاں سے ملے گا۔ نادان یہ نہیں سوچتا کہ جو خالق و رازق اسے پیدائش سے اب تک بلکہ ماں کے پیٹ سے اب تک رزق دے رہا ہے اور بلا کسی معاوضے کے دے رہا ہے اس کے رزق میں کمی نہیں آئی تو پھر کل کی فکر کیوں کرتا ہے۔(حکایتِ رومیؒ )

توکل قرآن پاک کی اصطلاح کا اہم لفظ ہے‘ عام لوگ اس کے معانی یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کام کے لیے جدوجہد اور کوشش نہ کی جائے‘ بلکہ چپ چاپ ہاتھ پاؤں کسی حجرہ یا خانقاہ میں بیٹھ رہا جائے‘ اور یہ سمجھا جائے کہ اللہ تعٰلٰی کو جو کچھ کرنا ہے وہ خود کر دے گا‘ یعنی تقدیر میں جو کچھ ہے وہ ہو رہے گا‘ اسباب اور تدبیر کی ضرورت نہیں‘ لیکن یہ سرا سر وہم ہے اور مذہبی اپاہجوں کا دل خوش کن فلسفہ ہے‘ جس کو اسلام سے ذرہ بھر بھی تعلق نہیں۔توکل کے لفظی معانی بھروسہ کرنے کے ہیں اور اصطلاح میں اللہ پر بھروسہ کرنے کو کہتے ہیں لیکن کس بات میں بھروسہ کرنا؟ کسی کام کے کرنے میں یا نہ کرنے میں ؟ جھوٹے صوفیوں نے ترک عمل‘ اسباب و تدابیر سے بے پروائی اور خود کام نہ کر کے دوسروں کے سہارے جینے کا نام توکل رکھا ہے حالانکہ توکل نام ہے کسی کام کو پورے ارادہ و عزم اور تدبیرو کوشش کے ساتھ انجام دینے اور یہ یقین رکھنے کا کہ اگر اس کام میں بھلائی ہے تو اللہ تعٰلٰی اس میں ضرور ہی ہم کو کامیاب فرمائے گا۔
؂ توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا
انجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر

اگر تدبیر اور جدوجہد و کوشش کا ترک ہی توکل ہوتا تو دنیا میں لوگوں کے سمجھانے کے لیے اللہ تعٰلٰی پیغمبروں کو مبعوث نہ کرتا اور نہ ان کو اپنی تبلیغ رسالت کے لیے جدوجہد اور سعی و سرگرمی کی تاکید فرماتا اور نہ اس راہ میں جان و مال کی قربانی کا حکم دیتا‘ نہ بدر و احداور خندق و حنین میں سواروں ‘ تیر اندازوں‘ زرہ پوشوں اور تیغ آزماؤں کی ضرورت پڑتی اور نہ رسول کو ایک ایک قبیلہ کے پاس جا جا کر حق کی دعوت کا پیغام سنانے کی حاجت ہوتی۔ توکل مسلمانوں کی کامیابی کا اہم راز ہے‘ حکم ہوتا ہے کہ جب لڑائی یا کوئی اور مشکل کام پیش آئے تو سب سے پہلے اس کے متعلق لوگوں سے مشورہ لے لو‘ مشورہ کے بعد جب رائے ایک نقطہ پر ٹھہر جائے تو اس کے انجام دینے کا عزم کر لو اور اس عزم کے بعد کام کو پوری مستعدی اور تندہی کے ساتھ کرنا شروع کر دو اور اللہ پر توکل اور بھروسہ رکھو کہ وہ تمہارے کام کا حسب خواہ نتیجہ پیدا کرے گا‘ اگر ایسا نتیجہ نہ نکلے تو اس کو اللہ کی حکمت و مصلحت اور مشیت سمجھواور اس سے مایوس اور بودے نہ بنو اور جب نتیجہ خاطر خواہ نکلے تو یہ غرور نہ ہو کہ یہ تمہاری تدبیر اور جدوجہد کا نتیجہ اور اثر ہے بلکہ یہ سمجھو کہ اللہ تعٰلٰی کا تم پر فضل و کرم ہوا اور اسی نے تم کو کامیاب اور بامراد کیا۔

احادیث میں ہے کہ ایک بدوی اونٹ پر سوار ہو کر آپﷺ کی خدمت میں آیا اور سوال کیا کہ یا رسول اللہ! میں اونٹ کو یونہی چھوڑ کر اللہ پر توکل کروں کہ میرا اونٹ مجھ کو مل جائے گا یا اس کو باندھ کر‘ ارشاد ہوا اس کو باندھ کر اللہ پر توکل کرو۔بعض لوگ تعویذ گنڈا‘ غیر شرعی جھاڑ پھونک‘ ٹوٹکے اور منتر پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مادی اسباب و تدابیر کو ان چیزوں سے مطلب بر آری کرناہی توکل ہے‘ جاہلیت کے وہم پرست بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے لیکن آپﷺ نے ان کے اس خیال کی تردید کر دی اور فرمایا کہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ میری امت سے ستر ہزار اشخاص حساب کتاب کے بغیر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے‘ یہ وہ ہوں گے جو تعویذ گنڈا نہیں کرتے‘ جو بدشگونی کے قائل نہیں‘ جو داغ نہیں کرتے بلکہ اپنے پروردگار پر توکل اور اعتماد رکھتے ہیں۔

ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جو دغواتے اور تعویذ گنڈا کراتے ہیں وہ توکل سے محروم ہیں۔ اس سے مقصود نفس تدبیر کی ممانعت نہیں بلکہ جاہلانہ اوہام کی بیخ کنی ہے۔ ایک اور موقع پر ارشاد ہوا کہ اگر تم اللہ پر توکل کرتے جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے تو اللہ تم کو ویسے روزی پہنچاتا جیسے پرندوں کو پہنچاتا ہے کہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر واپس آتے ہیں۔
توکل جس قلبی یقین کا نام ہے اسی کے قریب قریب آج کل کے اخلاقیات میں ’’خود اعتمادی‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کامیاب افراد وہی ہوتے ہیں جن میں یہ جوہر پایا جاتا ہے لیکن اس خود اعتمادی کی سرحد سے بالکل قریب غرور اور فریب نفس کے گڑھے اور غار بھی ہیں‘ اس لیے اسلام نے انانیت کی خود اعتمادی کے بجائے ’’خدااعتمادی‘‘ کا نظریہ پیش کیا ہے جو ان خطروں سے محفوظ ہے۔

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *