جشنِ آزادی۔۔۔۔۔ محمد عتیق الرحمن

ہر سال اگست کا مہینہ عجب خوشی اور شادمانی لے کر آتا ہے،چار سو خوشیاں اور نغمے گنگنائے جاتے ہیں۔بوڑھے،نوجوان حتی کہ بچے بھی خوشی  سے نہال ہوتے ہیں۔ ہمیں بچپن سے ہی بتایا گیا تھا کہ اس مہینے  میں ایک دن ایسا ہے کہ اس دن ہمارا ملک آزاد ہوا تھا اور ہمارے بڑوں نے قربانیوں کی ایسی داستان رقم کی تھی کہ جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے گئے ویسے ویسے یہ خوشیاں اور رنگ رنگیلیاں اِک الگ ہی تصویر پیش کرنے لگیں،نوجوان گانوں کی دھوم میں مست،سڑکوں پہ دیوانہ وار ناچنے لگے،سبز ہلالی پرچم کے تقدس کو پامال کیا جانے لگا،اسلام کے نام پہ بننے والی اسلامی ریاست میں اسلام کے قوانین کی دھجیاں اڑنے لگیں۔اور میں حیران و پریشان تھا، دل مضطرب و بے قرار تھا، میری سوچ اور فکر گرداب میں پھنسی ہوئی تھی، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ آخراس لاشعور قوم کو کس شئی کی خوشی ہے۔۔۔؟

اسی الجھن مین مبتلا تھا کہ ہمارا جامعہ کا یومِ تعطیل آن پہنچاتو حسب معمول چھٹی کا مزا دوبالا کرنے کے لیئے میں دوستوں کے ساتھ بازار کی طرف نکلا۔موسم اور بھوک کی طلب کو سامنے رکھتے ہوئے  ہم سب نے آئسکریم کھانے کا فیصلہ کیا،دوکاندار کو آرڈر دینے کے بعدآئسکریم کے انتظار میں  کچھ موبائل میں مصروف  ہو گئے اور کچھ خوش گپیاں لگانے لگے مگر میری طبیعت میں وہی ہلچل سی مچی ہوئی تھی کہ اچانک میرے ایک دوست سفیان نے پوچھا ”خیریت تو ہے نا……؟ آپ کسی الجھن کا شکار نظرآرہے ہیں۔“جب میں نے سارا قصہ ان کے سامنے بیان کیا تو سب نے مل کر ایک زوردار قہقہہ لگایا اور مجھے سمجھانا شروع ہو گئے۔

ارے پاگل! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہماری آزادی کا دن آرہا ہے۔14اگست1947کو ہم انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے آزاد ہوئے  تھے تو یہ بات سنتے ہی میں نے چشمِ تصور سے دیکھاتو ایک المناک منظر میری نگاہوں کے سامنے پھیل گیا کہ جب بابائے قوم نے مسلمانوں میں آزادی کی تحریک چلائی تو اس وقت کے مسلمان کیسے ایک ہی جھنڈے تلے جمع ہوگئے اور ایک آزاد مملکت کے حصول کے لیے  جدوجہد شروع کردی۔تو یہ سب دیکھتے ہوئے انگریزوں اور ہندوؤں نے مسلمانوں پر ظلم کے ایسے پہاڑ ڈھائے کہ مسلماں عورتیں اپنے ہاتھوں اپنے ہی بچوں کو ذبح کرنے لگیں،مسلمان بچیاں اپنی عزت کی حفاظت کے لیئے کنویں مین چھلانگ لگانے لگیں،علماء کو شہید کر کے لاشے درختوں پر لٹکائے گئے اور یہ ساری قربانیاں فقط آنے والی نسلوں کی آزادی و تسکین کے لیئے دی جا رہی ہیں کہ ہماری آنے والی قوم ایک آزاد قوم کہلائے۔

تو میں نے سفیان سے کہا….”. ارے بھیا کاہے کی آزادی.؟ آزاد وہ شخص اور وہ قوم ہوتی ہے جس پر اللہ کے سوا کسی کا حکم نہ چلتا ہو،جو اللہ کے سوا کسی کے سامنے جھکتی نہ ہو،امیدیں صرف اللہ سے لگاتی ہومگر جشن آزادی منانے والو! تمہارا سر تو پارلیمنٹ کے ممبران کے بنائے ہوئے قانون کے آگے جھکتا ہے۔آزاد قوم وہ ہوتی ہے جو للہ الامر کے نعرے لگائے۔جس کا قانون انسانوں کا بنایا ہوا ہواس قوم کے باسی آزاد نہیں غلام ہوا کرتے ہیں۔
ابھی تک پاؤں سے چمٹی ہیں غلامی کی زنجیریں
دن آجاتا ہے آزادی کا مگر آزادی نہیں آتی

ہمیں آزادی حاصل کیے ہوئے71سال بیت گئے مگر ہم آج بھی وقتِ حاضر کے فاسد نظام کا شکار ہیں۔ہمیں اپنی معاشی ضروریات،اپنے مفاد کے لیے قومی تشخص کے خلاف کام کرنا پڑتاہے،امت مسلمہ کا فرد ہونے کے باوجودمخالف سمت میں چلناپڑتا ہے،اپنے ملک سے عقیدت و محبت رکھنے کے باوجودایسے کارنامے سر انجام دینا پڑتے ہیں جن کا ہمارا ضمیر بھی اجازت نہیں دیتا۔“
یہ سب سن کر سفیان کافی مایوس ہو گیاتو میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا”ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مستقبل کے لیے سوچنا چاہیے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ نعرہ تکبیر لگا کرکنویں میں اپنی عزت بچانے کے لیے چھلانگ لگا نے والی ماں کے دل میں کس حسین پاکستان کا تصور تھا…؟ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ہی ننھے بچوں کونیزوں اور برچھوں کی زینت بنانے والی ماؤں کے سامنے پاکستان کا کون سا منظر نامہ تھا؟جب ہم اِن اَن دیکھی قربانیوں کو سامنے رکھیں گے تب ہمیں ضرورت محسوس ہو گی کہ کاش اس ارضِ پاک میں اسلامی نظام استوار ہواور اس مملکت خداوندی میں انصاف و امن کا بول بالا ہواور یہاں کی تہذیب،تمدن اور ثقافت میں اسلام کا رنگ اور شریعت کی چاشنی ہو۔“

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *