بیٹا نہ دیجئو!!۔ رابعہ احسن

زمانہ نیا ہو یا پرانا رسمیں روایتیں اور ان کی بدصورتیاں ہمارے خون میں رچ بس گئی ہیں چاہ کربھی جان چھڑانا ناممکن لگتا ہے۔ اور جس گھر میں بیٹی جوان ہوجائے اورجہیز جوڑنے کےلئےپیسے تک نہ ہوں۔ جہاں کبھی ماں کی سسکیاں دبتی ہیں تو کبھی بیٹی کی آرزوئیں اور کبھی باپ کا حوصلہ۔ فضل دین  کے گھر کے حالات بہت کشیدہ تھے چار بیٹیوں کا بوجھ سر پہ اور جہاں کھانے کے لالے پڑے ہوں وہاں جہیز کے جوڑنے کیا معنی۔اس کی چاروں بیٹیاں بے حد خوبصورت تھیں اور اس وجہ سے رشتے تو بچپن سے ہی آنا شروع ہوگئے تھے مگر جہیز پہ آکے بات رک جاتی۔ ادھر دونوں میاں بیوی کی ایک ہی پریشانی تھی کہ کسی طرح بیٹیاں گھروں کی ہوجائیں۔ چھوٹی دو پڑھ رہی تھیں جبکہ بڑی دو بی اے کے بعد پڑھائی کو خیر باد کرکےرشتے کے انتظار میں گھر بیٹھ گئیں۔

غریب باپ کی خودداری برداشت نہ کرسکی کہ اس کی بچیاں قصبے کے سکولوں میں ٹیچری کرکے دھکے کھائیں پر وقت وقت کی بات ہے آہستہ آہستہ بچیوں اور ماں نے مل اسے قائل کر ہی لیا۔ بڑی کا رشتہ ہوگیا لوگ اچھے تھے اس لئے فضل نے زیادہ تامل نہیں کیا اور پہلے سے طلاق شدہ لڑکے سے بیٹی بیاہنے کی تیاریوں میں لگ گیا۔  یہ ہمارے معاشرے کا رواج ہے کہ طلاق کی صورت میں صرف لڑکی کے کردار پر کیچڑ اچھالاجاتا ہے اور لڑکے کےکرتوت کوئی نہیں دیکھتا نہ جاننے کی کوشش کرتا ہے جس کا خمیازہ اس کی زندگی میں آنے والی دوسری عورت کو بھگتنا پڑتا ہے ۔  کاش والدین ہی ایک طلاق شدہ لڑکے سے شادی کرنے سے پہلے سوچ لیں پرمرد تو چار شادیاں تک کر سکتا ہے سو ایک طلاق میں کیا برائی۔؟

ہر شادی شروع میں بڑی رنگین اور خوبصورت ہوتی ہے اور بعد میں بوسیدہ رضائی کی طرح دھنکی ہوئی، استعمال شدہ۔موسموں اور رویوں کی بساند اپنے اندر سموتی ہوئی تو کبھی آنسوؤں سے بھیگتی ہوئی مگر پھر بھی یہ رضائی کی طرح بہت سی بدصورتیاں، زیادتیوں کو اپنے اندر سموتی اور ڈھانپتی چلی جاتی ہے۔ عالیہ کے ہاں اوپر تلے چار بیٹیاں ہو گئیں کچھ تو لاپرواہی اور کچھ بیٹے کی خواہش اور پھر بیٹا نہ دے سکنے کے طعنوں اور غصے میں کوئی بھی اس کا اور اس کی صحت کا خیال نہیں رکھتا تھا یہاں تک کہ وہ خود بھی نہیں۔ بچیوں کی پیدائش میں وقفہ بہت کم تھا سو سب چھوٹی چھوٹی تھیں ان سب کو سنبھالتے سنبھالتے وہ خود ادھ موئی ہونے لگتی تھی اور غضب تو جب ہوا جب وہ پانچویں بار پھر امید سے تھی اور اس سے بڑا غضب یہ کہ جب ساس کی زبردستی لے جانے پر الٹراساؤنڈ کرانے پر پتہ چلا کہ اس بار پھر بیٹی ہے ۔ 

اس پر تو قیامت ٹوٹی ہی تھی کہ ایک اور ننھی جان اس کے صحن میں باپ کی گالیاں اور دادی کی جوتیاں کھانے کیلئے آنے والی ہے۔ اس کی ساس نے تو صحن میں بیٹھ کر جھولی اٹھا اٹھا کر بین ڈالنے شروع کر دئیے” ہائے میرے بچے پر پانچ پانچ لڑکیوں کا بوجھ، ہائے کدھر کو ہانکے گا وہ ان مصیبتوں کو” اور پھر پے در پے  جوتیاں مار مار کے صحن میں کھیلتی بچیوں کو باری باری اندر ڈر سے  ہانپتی کانپتی ماں کے پاس دھکیل دیا “ امی ہم تو بس چار جونکیں ہیں پھر دادی آج پانچ کیوں بول رہی ہیں” معصوم سی ردا کو پتہ تھا کہ وہ چاروں بہنیں اس کے پاپ کوچمٹی ہوئی جونکیں ہیں۔ اس نے ردا کو زور سے بھینچ لیا اور خود بھی زور زور سے رو پڑی اس قیامت کا سوچ کر جو شام میں اس کے شوہر کے آنے پر مچنے والی ہے وہ دھاڑے گا، مارے گا اسے بھی بچیوں کو بھی ۔

وہ رورہی تھی کانپ رہی تھی اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر اس نے اپنے ہاتھ سے ایسا کیا کیا ہے جو اسے اس جرم کی پاداش میں سزابھگتنی ہے اس سے تو نہ اس کے شوہر نے پوچھا تھا نہ خدا نے کہ تمھاری کوکھ ہری کر دوں؟ جب اس کی مرضی اس کی منشا سے ہوا ہی کچھ نہیں تو پھر یہ ساری گالم گلوچ، بددعائیں اور مار کٹائی اس کی کیوں؟ یہ کیوں اور پٹنے کا خوف نہ صرف اپنا بلکہ ساتھ میں بچیوں کے پٹنے کا خوف بھی اک اک لمحہ اسے قبر میں اتارتے رہے پھر بھی وہ قبر میں نہ اتری۔وہ چاہتی تھی کہ آج کا دن بہ ڈھلے تپتے صحن میں زور زور سے تپڑی لگاتے ہوئے وہ دعائیں کرتی رہی کہ کاش اس کا حمل ضائع ہوجائے یہ بچی جنم نہ لے اس وقت یہ بچی اسے اپنی اور اپنی چاروں بیٹیوں کی دشمن لگ رہی تھی پر اندر سے مامتا کی ہوک چیخ مارتی تو وہ تڑپ جاتی یہ جو بنا قصور کے سزا اس کے جسم سے لگ گئی ہے وہ اس کے اپنے جسم کا حصہ ہے مامتا تمام تر خود غرضیوں پہ حاوی آگئی۔

مگر  اس وقت اس کی مامتا کا خون ہوگیا جب شام میں نادر نے گالیوں سے لیکر دھکوں کے ساتھ صرف ایک ہی اعلان کیا کہ وہ اس بچی کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کرادیں گے ۔ صحن میں بیٹھی اس کی ماں نے نادر کے سامنے یہی بین ڈالا تھا اور یہ بین عالیہ کی جھولی میں آکے گرگیا تھا اس نے نادر کی منتیں کیں ساس کے پیر پکڑے کہ وہ سکول میں نوکری کر کے اپنی بچیوں کو پال لے گی مگر وہ یہ ظلم نہیں کرسکتی ایک ننھی جان کو دنیا میں آنے سے پہلے وہ ختم نہیں کر سکتی  مگر اس کی ایک نہ سنی گئی ۔ بچیاں گھر میں یہ واویلا دیکھ کر روئے جارہی تھیں باپ اور دادی نے انھیں پیٹ کر گلی میں نکال دیا اور بند کمرے میں جہاں ہمیشہ اس نے غلامی ہی کی تھی کبھی پیاس بجھا کر کبھی ماریں کھا کر آج پھر اس کی چیخیں دب گئیں سوائے ساس کے کسی نےنہ سنیں جو اس کی ہر آہ پر “اور مار اور مار “ کہہ کے دانت پیستی اور بین کرتی جاتی تھی۔ 

رات تکلیف کی تھی ۔ بہت تکلیف کی !اتنی تکلیف اسے کبھی بھی نہ ہوئی چاہے وہ کیسے بھی دھنکی گئی ایسی تکلیف اس پہ کبھی نہیں ٹوٹی تھی ۔ یہ دوہری تکلیف اور پھر آنے والی قیامت کا خوف ۔ بچیوں کو پتہ تھا آج کی رات ماں نہیں مل سکتی ۔ دروازہ بند تھا وہ ڈری سہمی دبک کے دادی کے کمرے میں پڑی چارپائی پر ہی آگے پیچھے لگ کے سوگئیں رات ہی تو گزارنی تھی ان کے ننھےدل دعائیں کر رہے تھے کہ رات گزرجائے جلدی سے ۔ ادھر عالیہ کی ممتا دھاڑیں مار مار اپنے اندر مررہی تھی کہ آج کی رات نہ گزرے ۔

 صبح لال آنکھیں اور جگہ جگہ نیل زدہ جسم اور چہرہ لئے اٹھنا مشکل ہورہا تھا نادر تیار کھڑا تھا جیسے کوئی موت کا فرشتہ سرہانے آکے کھڑا ہوجاتا ہے پھر جتنا مرضی تڑپو موت برحق ہے اور موت برحق ہی تھی اس کی کوکھ میں پلتی ننھی جان کی بس خدا زمینی تھا اس کا اپنا باپ۔ وہ پتھر سے بھاری وجود اٹھا نہیں پارہی تھی مگر تین بول کے ساتھ پانچ بیٹیاں بوڑھے باپ کے گھر لیکے جانے سے بہترتھا کہ ایک بیٹی قبر میں بھیج دے  کہ وہاں توآسمانی خدا ہوگا نا ںجو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے پر دل کدھر راضی ہورہا تھا ؟

گالیوں، بین اور مار کٹائی ،طلاق کی دھمکی ، زمانے کی رسوائی، ایک بے سہارا عورت ہمیشہ بے سہارا ہی رہتی ہے ۔ وہ چھت کےپنکھے کو گھورتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ زمین پر خداؤں کی کوئی کمی نہیں ہے اس کی ساس، شوہر، یہ گلی محلے میں کھلے ہوئے چھوٹے موٹے کلینک، یہ پیسے لیکر قتل کرنے والی ڈاکٹرنیاں، نرسیں ، دائیاں۔۔ یہ سب قاتل تھے اس کی بچی کے ۔ اور وہ خود۔ اس کی تو ایک نہ سنی گئی وہ پیدا کرنے والی کوکھ قاتل کیسے ہوسکتی ہے؟

پھر اس کے ضمیر نے جھنجھوڑا کہ شروع میں تو وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ یہ حمل ختم ہوجائے کیوں یہ جھنجھٹ اس کی زندگی میں آرہی ہے اور ایک کمزور عورت کی طرح اس نے اسے اپنی نحوست قرار دے دیا کہ ساری نحوست اس کی اسی سوچ کی تھی ۔ اس نے توبہ کی اللہ سے معافی مانگی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں ں پر شرمندہ ہوئی ،روئی ،گڑگڑائی۔ اپنے رب سے خوب  وعدے کئے کہ آئندہ ایسی ناشکروں والی سوچ کبھی دل میں نہیں لائے گی۔ پر پتھرائی آنکھوں ویرانی اور جسمانی کمزوری اس کی کان نہیں چھوڑ کے دے رہی تھی۔اماں اسے اچھی خوراک کھانے کوبولتی اور ساس اس کے منہ کا نوالہ تک چھیننے کے در پہ ہوجاتی۔ “تونے کونسا بیٹا پیدا کرنا ہے جو گھر کا سارا راشن ختم کرنے کے در پہ ہوگئی ہے اس کی ساس کا بس چلتا تو اسے اور اس کی بیٹیوں کو بھوکا مار دیتی ۔

اس کی ساس نے بیڈ پر سے اس کا ہاتھ پکڑ کے اتارا اور جلدی سے رکشہ ڈھونڈ کے لے کے آئی خوشی کے مارے بڑھیا کا جھریوں بھراکریہہ چہرہ چمک رہا تھا۔ عالیہ بھی خوش تھی کہ اس بار لعن طعن اور مار کٹائی کے بغیر سکون سے وقت گزرے گا جو پچھلے چار بیٹیوں کی بار اور پانچویں بیٹی۔ پانچویں بیٹی پہ آکر اس کی سانس اکھڑنے لگتی آنکھیں بھیگ جاتیں اور اتنی خوشی میں بھی غم اس کے چہرے سے عیاں تھا ۔ ”اری منحوس! تجھے تو خوش ہونا چاہئے تجھ جیسی لڑکیاں  پیدا کرنے کی مشین کو اللہ بیٹا دینے جارہا ہے، اری! میں نے تعویذ کرا کرا کے وظیفے پڑھ پڑھ کے یہ دن اپنے بیٹے کو دکھایا ورنہ تو تو اس کو وارث دینے جوگی نہیں تھی” ساس ہاتھ نچا نچا کے بول رہی تھی ۔ بچیاں ماں سے لپٹنے لگیں تو اس نے مار کے پرے بھگا دیا اور سختی سے منع کردیا کہ ان منحوسوں  کی شکلیں کم دیکھا کرنا میراپوتا چاند سا ہونا چاہئے اور اس دن تو بڑھیا ناچ ہی اٹھی جب اسے پتہ چلا کہ ایک نہیں دو لڑکے آنے والے ہیں جڑواں لڑکے۔

عالیہ بھی خوش تھی اب تو کہ رب نے اس پہ ہونے والے ظلم کے بدلے اس پر یہ نعمت اتاری ہے  مگر  پتہ نہیں اندر کوئی چیخ نکل جاتی تھی ۔ ایسی ہی چیخ جیسی اس وقت نکلتی ہےجب کسی کا گلا دبایا جائے ،کسی کی جان نکالی جائے ۔وہ ڈر جاتی۔ اس کا جسم بہت کمزور ہوتا جارہا تھا ابھی پچھلی کمزوریاں دور نہیں ہوئیں تھیں اب یہ جڑواں بچے گو کہ اب ساس اس کی خوراک اور آرام کا خوب خیال رکھتی تھی پر پھر بھی دن بہ دن چیخیں بڑھتی جارہی تھیں اور پتہ نہیں کیا ہورہا تھا اسے آنے والے بچوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی شاید جسمانی کمزوری کا اثر تھا یا کچھ اور بیٹیوں کی دفعہ وہ بہت خوش رہتی تھی مگر اس بار ایسا کچھ نہیں تھا۔ اور نادر اتنی بڑی خبر کے بعد بھی ویسا ہی سفاک تھا سچ ہی ہے مرد کی فطرت ہی ایسی ہے اس کی کوئی حالت دو چار دن سے زیادہ نہیں ٹھہرتی۔  یہی حال نادر کا بھی تھا وہی لڑائی، گالم گلوچ یہاں تک کہ مار کٹائی بھی ویسی کی ویسی ہی تھی وہ اندر ہی اندر مرنے لگتی تھی ۔ یوں تو نادر پانچ ٹائم کا نمازی تھا ۔شادی سے پہلے دو حج کر رکھے تھے مگر انسانیت نام کی چیز پاس سے نہیں گزری تھی ۔

اس کی طبیعت اس دن بہت خراب تھی وہ نماز پڑھ رہی تھی اس سے نماز پڑھنا مشکل ہورہی تھی ۔ نادر بھی نماز پڑھ رہا تھا۔ درد کے مارے وہ کراہنے لگی تو اس نے نادر کو بولا کہ مجھے دوا لادیں ۔ اس کی آوازوں سے اس کی نماز خراب ہوگئی۔ سلام پھیر کر اس نے چوٹی سے پکڑ کر دو تین تھپڑ پے در پے لگا دئیے اسے کہ جہنمی عورت تمھاری وجہ سے میری نماز خراب ہوگئی ساری۔وہ جائے نماز پہ بیٹھی ہی رہ گئی آنسوؤں کا گولہ اس کے گلے میں بری طرح اٹک گیا اس کی اپنی نماز ادھوری ہی رہ گئی۔ بچیاں اس کے پاس آکے بیٹھ گئیں۔ وہ دعائیں کرتی تھی کہ اگر سارے مرد نادر جیسے ہی ہوتے ہیں تو یااللہ مجھے بیٹا نہ دینا مجھے نہیں چاہئیے ایسے ظالم سفاک بیٹے جو عورت کو اس طرح ماریں ، ایذا دیں ۔

اس کی طبیعت بہت خراب ہورہی تھی بالآخر ہسپتال جانا پڑگیا وہاں جاکر اسے پتہ چلا کہ ایک بچے کی ڈیتھ ہوگئی ہے دوسرے کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں اور پھر دوسرا بھی نہیں بچا۔ ڈاکٹروں نے مرنے سے پہلے ایک بچہ اسے دکھا دیا ایک ننھی سی جان اس کے ہاتھوں میں بے جان پڑی تھی اسے لگا کسی نے اس کا دل نکال کے باہر رکھ دیا اس نے ہسپتال میں ہی چیخنا شروع کر دیا اور وہ جو چیخیں اس کے اندر بسیرا کئے بیٹھی تھیں وہ اس سے بھی زیادہ زور سے چیخیں ۔ اتنی چیخیں کہ وہ بیہوش ہوگئی ۔وہ جو دعا کرتی تھی کہ اللہ اگر مرد اتنے سفاک ہوتے ہیں تو مجھے بیٹا نہ دیجئو اب ہر پل روتی تھی۔ کبھی ممتا عورت بن جاتی تو وہ قتل ہونے والی بیٹی سامنے کھڑی ہوجاتی اور پھر جب صرف ماں رہ جاتی تو ہاتھ میں پڑا مردہ بیٹا روپڑتا اور وہ چیخنےلگتی اور رب سے یہ سوال اس کے گلے میں پھنس جاتا کہ آخر کونسا خدا نجات دہندہ ہوگا پہلے زمینی خداؤں نے اس کی گود اجاڑی اور اب آسمانی خدا نے زمینی خدا نے بدلہ لے لیا مگر اس کی گود، وہ ستر ماؤں جتنی بوڑھی ہونے لگتی ۔ وہ زندہ لاش بنی باپ کے گھر آگئی تھی کہ اب اس کے جسم اور روح میں یہ کوکھ اور قبر کا جان لیوا کھیل کھیلنے کی سکت نہیں رہی تھی ۔ 

  •  

رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *