تحریک لبیک کا سیاسی مستقبل۔۔۔آصف محمود

تحریک لبیک کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ یہ سوال میرے نزدیک آج کے اہم ترین سوالات میں سے ایک ہے۔ مجھے حیرت ہے ابھی تک کسی نے اسے موضوع نہیں بنایا۔انتخابات کے بعد وہی سطحیت کا آزار ہے جس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہر طرف بحث جاری ہے اور مرکزی نکتہ یہی ہے کس کے پاس کتنے اراکین ہیں اور کون کس کی مدد سے کہاں کہاں اقتدار حاصل کرنے جا رہا ہے۔انتخابات لیکن صرف اراکین کی گنتی اور جوڑ توڑ کا نام نہیں ، یہ سماج کے رجحانات کی بھی خبر دیتے ہیں۔یہ بتاتے ہیں کہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں، انہوں نے کن کن عوامل کی بنیاد پر ووٹ ڈالے۔جب اس پہلو سے انتخابات کا مطالعہ کیا جائے تو تحریک لبیک کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ چند سوالات بہت اہم ہیں۔ پہلے سوال کا تعلق الیکشن کمیشن سے بھی ہے ، پارلیمان سے بھی اور ہر اس آدمی سے بھی جو انتخابی اصلا حات کی خواہش رکھتا ہے۔تحریک لبیک اگر چہ قومی اسمبلی کی کوئی ایک نشست بھی نہیں جیت سکی لیکن اس نے قومی اسمبلی کے انتخاب میں 22 لاکھ 31 ہزار 6 سو 97 ووٹ حاصل کیے ۔ کیا یہ معاملہ توجہ طلب نہیں ہے کہ ایک جماعت بائیس لاکھ سے زائد ووٹ لیتی ہے لیکن قومی اسمبلی میں اس کی کوئی نمائندگی نہیں۔ یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ متحدہ مجلس عمل کے 25 لاکھ 41 ہزار 5سو20ہیں اور وہ قومی اسمبلی کی 12 نشستیں جیتی ہے۔یعنی ایک طرف صرف 3لاکھ9 ہزار 8سو 23 ووٹوں کا فرق اور دوسری جانب اتنا فرق کہ ایک جماعت کے پاس قومی اسمبلی کی 12 نشستیں اور دوسری کے پاس ایک بھی نہیں۔ایک معاملے کو ایک طریقے سے بھی دیکھ لیجیے۔ پاکستان تحریک انصاف نے 1کروڑ68لاکھ 51 ہزار 2سو40 ووٹ حاصل کیے اور اس نے 116 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔یعنی اوسطا1لاکھ 45ہزار 2سو69 ووٹ فی نشست۔مسلم لیگ نے 1کروڑ 28لاکھ 96ہزار3سو56 ووٹ حاصل کیے اور اس کی قومی اسمبلی میں 64نشستیں ہیں یعنی قریبا 2لاکھ 15 ہزار ووٹ پر قومی اسمبلی کی ایک نشست اس کے حصے میں آئی۔۔پیپلز پارٹی نے 69لاکھ 16سو75 ووٹ حاصل کیے اور قومی اسمبلی میں اس کی نشستوں کی تعداد 43ہے۔ یعنی 1لاکھ 60ہزار 5سو4ووٹ کے بدلے اسے ایک نشست ملی۔اب آپ یہ دیکھیے کہ ان تین بڑی جماعتوں کو قومی اسمبلی کی ایک نشست اوسطا ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ میں پڑی لیکن تحریک لبیک کو بائیس لاکھ سے زیادہ ووٹ لے کر بھی کوئی ایک نشست نہیں مل سکی۔اس صورت حال سے ایک اہم سوال جنم لیتا ہے اور وہ یہ کہ یہ بائیس لاکھ ووٹ ایسے کیوں ضائع ہو گئے؟ کیا ہمیں متناسب نمائندگی کے طریقہ پر غور نہیں کرنا چاہیے جہاں ایک ووٹ بھی ضائع نہ ہو؟ دوسرے سوال کا تعلق سیاسی جماعتوں ، تجزیہ کاروں اور اہل دانش سے ہے۔ کسی نے بھی تحریک لبیک کو ابھی تک سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایک طالب علم کے طور پر میرے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے۔آپ دیکھیے متحدہ مجلس عمل میں تمام مکاتیب فکر کی نمائندگی ہے۔ انس نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان ، سراج الحق کی جماعت اسلامی، مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام،علامہ ساجد میر کی جمعیت اہل حدیث،علامہ ساجد نقوی کی تحریک جعفریہ، یہ سب ملتی ہیں تو مجلس عمل بنتی ہے۔مجلس عمل کے رہنماسینیٹر بھی رہے اور ایم این اے بھی، یہ اہم عہدوں پر بھی رہے ، حکومتوں کا حصہ بھی رہے، بلکہ ایم ایم اے تو خود کے پی کے میں حکومت کرتی رہی۔دوسری جانب تحریک لبیک ایک نئی جماعت ہے۔اس کا نہ کبھی کوئی ایم این اے رہا نہ ایم پی اے ۔نہ ہی وہ کبھی کسی حکومت کا حصہ رہی۔لیکن ووٹ دیکھیے۔مجلس عمل کے قریبا 25 لاکھ اور تحریک لبیک کے قریبا 22 لاکھ۔ یعنی جتنے ووٹ اس ملک میں تمام دینی جماعتوں نے مل کر حاصل کیے قریبا اتنے ہی ووٹ تحریک لبیک نے اکیلے حاصل کیے۔مذہبی سیاست پاکستان میں ایک ایسی حقیقت ہے جو نظر انداز نہیں کی جا سکتی تو ایک ایسی جماعت کیوں نظر انداز کی جا رہی ہے جس نے اکیلے ان تمام دینی جماعتوں کے قریب قریب ووٹ لے کر دکھا دیے ہیں؟ انتخابات کے بعد مختلف سیاسی جماعتیں مل بیٹھی ہیں لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ کسی نے تحریک لبیک سے کوئی رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ تحریک انصاف اگر تحریک لبیک کو نظر انداز کرتی ہے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ اس وقت تحریک انصاف کی توجہ پارلیمان میں وجود رکھنے والی جماعتوں پر ہے لیکن حیران کن طور پر متحدہ مجلس عمل نے بھی ابھی تک تحریک لبیک سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ایم ایم اے احتجاج کرنے جا رہی ہے ۔ اور احتجاج کرنے کے لیے تو تحریک لبیک سے رابطہ کیا جا سکتا تھا لیکن نہیں کیا گیا۔اسی طرح میرے علم میں نہیں انتخابات کے بعد کسی ٹی وی چینل نے تحریک لبیک کے کسی رہنما کا انٹرویو کر نے کی زحمت کی ہو ۔ یہ بے نیازی کیوں؟ سیاست کے ایک طالب علم کے طور پر میرے لیے یہ سوال بہت اہم ہے کہ ایک ایسی جماعت کو اس بے رحمی سے نظر اندازکیوں کیا جا رہا ہے جس نے بائیس لاکھ سے زیادہ ووٹ لیے ہیں۔ کیا تحریک لبیک کو وقتی ابال اور پانی کا بلبلہ سمجھا رہا ہے اور سب کا خیال ہے بہت جلد یہ ختم ہو جائے گی یا اسے محض ایک مکتب فکر کا نمائندہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے؟آپ اس سے اتفاق یا اختلاف کر سکتے ہیں لیکن پانی کا بلبلہ اتنے ووٹ نہیں لیتا۔ یہ اب ایک حقیقت ہے۔اسی طرح اسے محض ایک مکتب فکر کا نمائندہ سمجھنا بھی قابل بحث امر ہے۔بریلوی مکتب فکر میں سیاسی اعتبار سے بہت تنوع ہے۔طاہر القادری صاحب کا ایک اپنا موقف ہے۔انس نورانی ایم ایم اے میں ہیں۔پیر صاحب سیال شریف تحریک انصاف کے ساتھ ہیں، بھیرہ کے سجادہ نشیں امین الحسنات شاہ مسلم لیگ ن میں ہیں، حضرت بہاولدین زکریا ؒ کے گدی نشیں تحریک انصاف میں ہیں،۔ووٹوں میں اتنی تقسیم کے باوجود تحریک لبیک 22 لاکھ 31 ہزار 6 سو 97 ووٹ لے رہی ہے تو اس کا مطلب ہے اس کی ایک مکتب فکر تک محدود نہیں۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ووٹوں میں کتنا فرق رہا یہ فہرست مرتب کر لیجیے اوروہاں سے تحریک لبیک کے ووٹوں کا حساب لگا لیجیے۔ پھر دیکھیے کہ تحریک لبیک کے ووٹ ان دو بڑی جماعتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شامل کر دیے جائیں تونتائج میں کیا فرق آ تا ہے۔فرض کریں اگلے الیکشن میں یہ جماعت مسلم لیگ ن یا تحریک انصاف میں سے کسی ایک کے ساتھ اتحاد کر لیتی ہے تو تصور کیجیے کیا منظر ہو گا۔موجودہ صورت حال میں تحریک لبیک کا مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد ناممکنات میں سے ہے ۔لیکن مستقبل کا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔یہ امر قابل غور ہے کہ تحریک لبیک بھی انتخابات میں دھاندلی پر احتجاج کو تیار ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف میں اگر کوئی صاحب فہم موجود ہے تو اس پیش رفت میں اس کے لیے غور و فکر کا بہت سا سامان موجود ہے۔ تحریک لبیک کی قیادت کو بھی سوچنا ہو گا اب اس کے پاس مستقبل کا سیاسی ایجنڈا کیا ہے؟اپنے ووٹر کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے اس کا منصوبہ کیا ہے؟کیا وجہ ہے اتنے ووٹ لے کر بھی اسے سنجیدہ نہیں لیا جا رہا؟ اس کے رہنما کسی ٹاک شو کا حصہ کیوں نہیں بنائے جا رہے؟خادم حسین رضوی صاحب کے پاس کیا کوئی ٹھوس لائحہ عمل ہے جو ان کی جماعت کو زندہ رکھ سکے؟کیا اسے دھاندلی کے خلاف احتجاج کا حصہ بن کرکسی اور کے کھیل کا رضاکار بننا ہے یا اپنی کوئی سنجیدہ فکر لے کر آگے بڑھنا ہے؟ووٹ تو مل گئے اب یہ قیادت پر منحصر ہے وہ اس زاد راہ کو برباد کرتی ہے یا سنجیدہ اور ٹھوس لائحہ عمل کے ساتھ اس ووٹ کو ایک قوت میں بدل دیتی ہے۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *