• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پشاور کے ملبے میں ڈھاکا کو دبایا نہیں جاسکتا ۔۔۔سید عارف مصطفٰی

پشاور کے ملبے میں ڈھاکا کو دبایا نہیں جاسکتا ۔۔۔سید عارف مصطفٰی

 بہت دلگیر ہوں ، اپنے اداروں سے محبت بھی بہت ہے اس لیئے قلم رک رک جاتا ہے لیکن وطن سے محبت اداروں سے بڑھ کر ہے اور اسی لیئے بڑی دلسوزی سے عرض ہے کہ یہ بات بڑی شدت سے نوٹ کی جارہی ہے کہ اب رفتہ رفتہ آرمی پبلک اسکول والے سانحہء پشاور کی آڑ میں سقوط ڈھاکہ کو یکسر فراموش کیا جارہا ہے اور یوں اس وقت کی فوجی حکومت کی شرمناک غفلت اور بے حساب سفاکی کے نتیجے میں معاملات کے بگڑ جانے اور ہتھیار ڈالنے کی نوبت آنے کی یادوں پہ پردہ ڈال دیا گیا ہے۔۔۔

شاید میرے پڑھنے والوں نے یہ بات محسوس بھی کی ہو کہ میں نے 16 دسمبر کو کچھ کیوں نہیں لکھا ۔۔۔ تو صاف صاف عرض ہے کہ میں تپ دق کے بجائے کینسر ہی کو زیادہ بڑا مرض باور کرتا ہوں اور کسی صورت کسی بھی واقعے کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی فوج کی شرمناک طور پہ ہتھیار پھینکنے کی شرمناک ذلالت کو فراموش کرنا نہیں چاہتا – بلکہ یہ سمجھتا ہوں کہ ہر برس 16 دسمبر کو یوم ندامت کے طور پہ مناکے ہی ہم اپنی حقیقی تعمیر نو کا خواب دیکھ سکتے ہیں- ویسے تو پشاور ہو یا ڈھاکا دونوں ہی سانحات ہمارے اداروں کی ناکامیوں کے دو بڑے مظاہر ہیں ان واقعات کو الگ الگ کرکے دیکھیں تو بھی حقیقت یہ ہے کہ سانحہء پشاورہمارے عسکری اداروں کی مکمل ناکامی بلکہ نالائقی کا ایک بڑا ثبوت بن کے ابھرا ہے کیونکہ محض چار دہشتگرد اس عسکری اسکول کی ‘محفوظ’ عمارت میں باآسانی داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے بلکہ کئی گھنٹوں تک بڑے اطمینان سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد کے خون کی ہولی کھیلتے رہے تھے اور گوکہ انکے اندر داخل ہوتے ہی فائرنگ کی آوازوں نے سارے شہر کو اس کارروائی کے آغاز کی اطلاع دیدی تھی لیکن ہمارے سکیورٹی اداروں نے محض محاصرہ کرنے پہ ہی اکتفاء کیئے رکھا اور جب تک دہشتگردوں نے کئی گھنٹوں تک اپنی دہشتگردی کا عمل مکمل نہ کرلیا تب تک انکا بال بھی بیکا نہ کیا جاسکا تھا –

جہاں تک بات ہے ان بچوں کی جو کہ محفوظ رہ گئے تھے تو اس بابت بھی بہت مغالطہ پیدا کیا جاتا ہے کہ جیسے انہیں سکیورٹی اداروں نے بچایا تھا۔۔۔ درحقیقت دہشتگردوں نے 13 برس اور اس سے بڑی عمر کے طلباء ہی کو نشانہ بنایا تھا اور اسکول رجسٹر سے باقاعدہ عمر کے شواہد لے کر انہیں باقی بچوں سے الگ کرکے یہ کہتے ہوئے انہیں شہید کیا تھا کہ ہمارا ٹارگیٹ صرف بالغ طلباء ہی ہیں کئی گھنٹوں تک یہ سارا عمل مکمل ہوجانے کے بعد محصور ہوجانے والے ان دہشتگردوں نے راہ فرار نہ پاکے ان میں سے کچھ نے خود کو دھماکے سے اڑایا تو پھر ہمارے سورماء اندر داخل ہوسکے تھے اور ایک دو باقی رہ جانے والوں پہ فائرنگ کی مشق کی تھی – ہمارے سکیورٹی اداروں کی شرمناک نالائقی کا محض یہ ایک واقعہ ہی ثبوت نہیں ہے بلکہ شہر کے بیچوں بیچ فیصل بیس اور پی این ایس مہران پہ دہشتگردوں کی کامیاب کارروائیاں بھی اسکا ثبوت ہیں حتیٰ کہ سینکڑوں اہلکاروں کا محض 4-5 دہشتگروں سے رات بھر ‘بےجگری ‘ سے لڑنے کا حاصل یہ تھا کہ جب دوسرے روز پی این ایس مہران کو کلیئر قرار دے دیا گیا اور نیول سربراہ نے ( میڈیا رپورٹس کے مطابق ) بڑے طمطراق و تام جھام کے ساتھ پورے لاؤلشکر کے ساتھ جائے وقوعہ کا ‘ فاتحانہ’ دورہ فرمایا تو اس وقت بھی 2 دہشتگرد گھاس میں چھپے ہوئے تھے اور انہوں نے برسرعام خود کو اڑا لیا تھا –

دلچسپ بات یہ رہی کہ اس نالائق کمانڈر کوکوئی سزا ہی نہیں دی گئی بلکہ مقامی سطح کے اس افسر کی بھی بڑی پذیرائی کی گئی اور اسے تمغے سے نوازنے کے مطالبے کیئے گئے جو کے اس بیس کی حفاظت کا آن گراؤنڈ ذمہ دار تھا اورجسکی نااہلی کی وجہ سے دہشتگرد بڑے اطمینان سے اس علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب رہے تھے اور پھر پہلے ہی ہلے میں جسے دہشتگردوں نے ہلاک کردیا تھا – یہ سارے واقعات محض واقعات ہی نہیں بلکہ وہ چشم کشاء حقائق ہیں کہ جنہیں قوم سے چھپائے رکھنے کی ہرممکن کوشش کی جاتی رہی ہے کیونکہ انہی سے وہ دعوے باطل ہوتے ہیں کہ ہم سب سے عمدہ تربیت والے ادارے ہیں جبکہ حقائق اسکے بالکل برعکس تصویر پیش کرتے ہیں اور انکی روشنی میں پاکستانی غریب قوم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ اگر اپنا پیٹ کاٹ کے ہمیں اپنے بجٹ کا خطیر حصہ دے ڈالنے کے بعد بھی یہی شرمناک نتائج حاصل کرنے ہیں تو پھر سب سے پہلے آپ کا احتساب کیوں نہ کیا جائے اور ان نالائقیوں اور کوتاہیوں کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا کیوں نہ دی جائے ۔۔۔؟؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *