پاک فوج اور مقبوضہ کشمیر۔۔۔۔۔ اظہر سید

فوجی حکمت ساز مقبوضہ کشمیر کس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا اور نہ یقین کرنے کو دل مانتا ہے ،مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی جائے اور پاکستانی عقاب اسے ٹھنڈے پیٹوں قبول کر لیں ۔ایسا ہو رہا ہے اور یہاں مکمل خاموشی ہے ہاں عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، یا دشمن قوتوں کو ووٹ کی طاقت سے شکست دینے کے بیانات ضرور آئے ہیں ۔ فوج کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں   نپٹنے کا بیان بھی آیا ہے۔اگر کوئی بیان نہیں آیا تو وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیلئے بھارتی پیش رفت پر نہیں آیا اور یہ امر خود اپنی جگہ حیرت انگیز ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ چھ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے فیصلہ کرنے جا رہی ہے ۔بھارتی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے  سے قبل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنتا پارٹی نے وادی کی مخلوط حکومت میں اپنی حمایت ختم کر دی ۔ مقبوضہ وادی میں گورنر راج نافذ ہو چکا ۔بھارتی سپریم کورٹ نے اگر بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 اور اس کی  ذیلی شق 35 اے ختم کر دی تو مقبوضہ کشمیر ایک عام بھارتی صوبہ بن جائے گا ۔بھارتی سپریم کورٹ نے افضل گرو کو اجتماعی قومی ضمیر کے نام پر پھانسی کی سزا سنائی تھی اس بات کے واضح امکانات ہیں ،اجتماعی بھارتی ضمیر کے نام پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی جائے گی۔

کہاں تو وہ دن تھے جب پسینہ گلاب تھا ،کیا وہ دن ہوا ہوئے جب واجپائی کی لاہور آمد کے بعد کارگل برپا ہو جاتا تھا اور کہاں یہ دن ہیں تمام طاقت مودی کے یار کی شکست میں مصروف ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قیامت کی چال چل رہے ہیں اور یہاں دوڑنا تو درکنار کوئی پتہ بھی ہلتا نظر نہیں آرہا۔
بھارتی آئین کی شق 35 اے کے خاتمہ کا دوسرا مطلب یہ ہے یہاں بھارتیوں کو پراپرٹی خریدنے اور مستقل سکونت رکھنے کی اجازت مل جائے گی اور مختصر عرصے میں یہاں آبادی کا تناسب تبدیل ہو جائے گا جموں اور لداخ کے بعد وادی میں بھی کشمیری اقلیت میں چلے جائیں گے۔ جنرل مشرف کے دور میں جب لائین  آف کنٹرول پر  باڑ لگانے کی اجازت دی گئی وہ شاید جی ایچ کیو کا بہت بڑا اقدام تھا ۔یہ اجازت نہیں دینی  چاہے تھی اور پاک فوج افغان فوج نہیں تھی بھارتی طاقت کے زور پر باڑ لگا لیتے ۔افغانی بہت کمزور ہیں اور پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے عمل کو روکنے سے قاصر ہیں لیکن وہ اس کو تسلیم نہیں کر رہے ۔افغانیوں کا موقف غلط ہے لیکن وہ اپنے موقف پر قائم ہیں ۔

پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے موقف سچا ہے ۔کشمیری 1947 سے حق خود ارادیت کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے ۔جب یہ سب کچھ ہے تو باڑ لگانے کی اجازت کیوں دی گئی۔جب یہ سب کچھ موجود ہے تو پاکستان میں بھارتی سپریم کورٹ کے متوقع فیصلہ کے حوالہ سے کوئی تیاری نظر کیوں نہیں آ رہی یہ ملین ڈالر کا سوال ہے جس کا جواب ضرور ہی ملنا چاہے۔

کارگل میں بھارتی میڈیا    ایسے ردعمل سے مستقبل میں نپٹنے کیلئے پاکستان میں نجی میڈیا کی آزادی کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔نجی چینلز برسات کی کھمبیوں کی طرح اُگ آئے اور یہاں سٹریٹجیک اثاثے بھی بنا لئے گئے جنہیں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف خوب ہی استمال کیا گیا۔میڈیا کے یہ اثاثے بھارتی تناظر میں تیار کئے گئے تھے تو پھر انہیں بھارت کے خلاف استعمال کیوں نہیں کیا جا رہا۔

ہم سمجھتے ہیں کم از کم میڈیائی اثاثوں کے ذریعے پاکستانی قوم کو بتایا جائے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کیا کھیل کھیلنے جا رہے ہیں ۔بین الاقوامی برادری کو سفارتی نمائندوں کے   ذریعے بتایا جائے بھارتی سپریم مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے معاملہ پر شنوائی کا اختیار ہی نہیں رکھتی۔جس دن بھارتی سپریم کورٹ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے متعلق فیصلہ دینے جا رہی ہے پاکستان میں کوئی منتخب حکومت نہیں ہو گی ،البتہ ایک ہفتہ بعد سبکدوش ہونے والے نگران وزیراعظم ہونگے ۔بھارتی اپنے فیصلے پاکستان کی صورتحال کو سامنے رکھ کر کر رہے ہیں اور یہاں تمام تر توجہ ری کاونٹنگ میں فتح شکست میں نہ بدل جائے پر ہے۔

پاکستان کو امریکیوں سے کوئی مدد نہیں ملے گی کہ امریکی حزب الجاہدہن کے امیر صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں ۔امریکی سی پیک کو متنازعہ علاقہ کا منصوبہ قرار دے چکے ہیں ۔یہ بہت افسوسناک صورتحال ہے ۔مقبوضہ کشمیر تو پاک فوج کی طاقت اور وجود کی ضمانت ہے یہ مسئلہ ختم ہو گیا تو پھر کس دشمن سے قوم کو ڈرایا جائے گا ۔جیسے  میں نے پہلے   عر  ض کیا  کہ  کچھ سمجھ نہیں آ رہا  کہ   ہو کیا رہا ہے ۔

شمالی علاقہ جات میں یہ کیا شروع ہو گیا ہے۔ لڑکیوں کے سکول کس نے تباہ کر دیے، یہ پالیسی تو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے طالبان کی تھی وہ یہاں کیسے آگئے ؟ یہاں تو چینیوں کے ساتھ مستقبل کے بہت سارے منصوبے ہیں ۔ نواز شریف کی فراغت میں فتح مبین کی خوشخبری حاصل ہو گئی ۔تحریک انصاف کامیاب ہو گئی لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بڑے بڑے واقعات کا آغاز ؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ۔۔!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *