بلی تھیلے سے باہر۔۔۔۔ سلیم فاروقی

مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ معاہدے پر دونوں جماعتوں کی جانب سے دوسری سطح کے لیڈروں نے کیوں دستخط کیے؟ معاہدے کو جو اہمیت دونوں جماعتوں نے دی اسی سطح کے لیڈروں نے دستخط کیے۔ یہ ان جماعتوں کا حق ہے۔ اس پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ ان جماعتوں کے ووٹرز کو ہے۔ ہمیں اعتراض کا کوئی حق نہیں۔۔ہمیں تو معاہدے کے ان نکات پر بھی اعتراض کا کوئی حق نہیں کہ ببانگ دہل جن بنیادوں پر ووٹ حاصل کیے گئے ان کے بارے میں معاہدہ سرے سے خاموش کیوں ہے؟

مثلاً سندھ میں دیہی اور شہری کوٹے پر یہ معاہدہ بالکل ایسے ہی خاموش ہے جیسے وقت نکاح مشرقی دلہن خاموش رہتی ہے۔معاہدہ انتظامی لحاظ سے مزید صوبوں کے قیام کے مطالبے پر بھی بالکل خاموش ہے۔ وجہ ظاہر ہے دونوں جماعتوں کے رہنما ہی جانتے ہوں گے۔بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے مظلومین کے حوالے سے بھی کوئی شق موجود نہیں ہے جبکہ بلدیہ ٹاؤن سے نو منتخب رکن اسمبلی کی انتخابی مہم میں یہ ایک بڑا معاملہ تھا۔معاہدہ کے الفاظ بھی گول مول وعدوں پر مشتمل ہیں، کسی ایک شق میں بھی ایسے کوئی الفاظ موجود نہیں ہیں جن سے یہ ظاہر ہو کہ فلاں وعدہ کسی ایک جماعت نے مکمل کرنے کا اس طرح کیا ہے کہ وہ اب اس کی ذمہ داری بن چکا ہے۔

مجھے پریشانی صرف اس بات پر ہے کہ پورا معاہدہ صرف اور صرف مالیاتی معاملات کے گرد گھومتا نظر آرہا ہے۔ اور یہ مالیاتی معاملات سابقہ تجربات کی روشنی میں مالی مفاد کے سوا کچھ نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔اس سے پہلے بے نظیر بھٹو کے ساتھ شرکت اقتدار کا معاہدہ بھی ایسا ہی شاہکار تھا۔ جس میں اس وقت کے سب سے بڑے مطالبے مشرقی پاکستان سے پاکستانیوں کی واپسی کو ایسا پس پشت ڈالا گیا کہ وہ معاملہ ہمیشہ کے لیے درگور ہوگیا۔اس وقت بھی سب سے اہم مطالبے کوٹہ سسٹم کے خاتمے سے اسی طرح آنکھیں موند لی گئی تھیں جس طرح موجودہ معاہدہ میں موند لی گئی ہیں۔

یقیناً تبدیلی تو دونوں جانب سے صرف اتنی آئی ہے کہ پرانے معاہدے پر نئے چہروں نے دستخط کیے ہیں۔گویا وہی پرانی شراب پرانی ہی بوتل میں صرف نیا سیلز مین لے کر آیا ہے۔

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *